وجود

... loading ...

وجود

موجودہ عالمی بحران ،ملکی انتشار اور شہید بھٹوکی سیاسی پیشنگوئیاں

جمعه 05 جنوری 2018 موجودہ عالمی بحران ،ملکی انتشار اور شہید بھٹوکی سیاسی پیشنگوئیاں

آصف اقبا ل
حضر ت انسا ن کی مو ت اس وقت واقع ہو تی ہے جب لو گ اس کو اور اس کی با تو ں کو بھو ل جا ئیں مگر قا ئد عوام شہید ذوالفقا ر علی بھٹو جیسے عظیم رہنما کی فکر اور نظر یے تو اٹیمی تو انا ئی کے ما نند ہوتے ہیں جو ہزاروں بر س تا ریک گو شوں کو منو ر رکھتے ہیں اور اپنے خون سے ظلم و جبر کے خلا ف شمع کو روشن رکھتے ہیں ۔جنہو ں نے ظلم و جبر کے خلا ف سر نہیں جھکا یا اور کچلے ہو ئے مظلوم طبقا ت کی حما یت میں اتنا آگے نکل گئے کہ اپنی جا ن بھی ان کے لیے نچھا ور کردی ۔بقو ل فیض احمد فیض
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شا ن سلا مت رہتی ہے
یہ جا ن تو آنی جا نی ہے
اس جا ن کی کو ئی با ت نہیں
عوام کا حا فظہ اتنا کمزور نہیں ،وہ جا نتے ہیں کہ قیا م پا کستان سے لے کر اب تک اس ملک کے مظلو م عوام کو کس کس طرح سے بے آبر و اور رسوا کیا گیا ۔ کن کن حر بوں سے عوام کو غر بت اور جہا لت کے اند ھیر ے غار میں دھکیلا گیا ۔70سا ل کے طو یل عر صے میں جب جب روشنی کی کرن نمو دار ہوئی اس کو شب پر ستو ں نے عو ام سے چھیننا چا ہا ۔ شو کت اسلا م سے لے کر کفر کے فتوؤں، سا زشوں ، جھو ٹی اخبا ری رپو رٹوں، گمر اہ کن اخبا ری کا لموں، جھو ٹی گو اہیوں سے تختہ دار تک ذوالفقا ر علی بھٹو کی شہا دت عوام کے حا فظے میں اس طر ح پیوست ہے جیسے کل ہی کی با ت ہو ۔جب ملک کے عوام ، اہل فکر ، دانش ور اور اس ملک سے محبت کر نے والوں کے خواب کو ایسی بھیا نک تعبیر دی گئی کہ جمہو ریت کا نا م لینے سے پہلے اپنی جا ن ہتھیلی پر رکھنا پڑ تی ہے ۔ کیوں کہ جس طر ح جمہو ریت کی بے حر متی ہوئی، جس طر ح سے عوام کی عز ت نفس کومجروح کیا گیا اور جس طر ح سے ان کے خواب چھینے گئے وہ لمحا ت دردنا ک بھی ہیں اور عبر ت انگیز بھی ۔ اور جب بہت یاد آتا ہے تو سوائے آہوں اور اندھیر وں کے کچھ نظرنہیں آتا ۔تا ریخ گواہ ہے کہ قیا م پا کستان کے دس سال بعد ہی ملک میں مارشل لا ء نا فذ کر کے اس نا تواں مملکت کی بنیا دوں کو ہلا دیا گیا جو مملکت کو دولخت کرنے کے بعد ہی اختتا م پذ یر ہوا۔ ان ہی حا لا ت میں شہید بھٹو نے تا ریخ کی پکا ر پر لیبک کہا کیوں کہ وہ پا کستان کے عوام اور پا کستان کی تا ریخ کی ضرورت تھے ۔ جس طرح قا ئد اعظم ہند وستان کے مسلما نوں کی تا ریخی ضر ورت تھے۔ انھوں نے عوام کی خا طر، عوام کو ساتھ لے کر چلنے کا جمہو ری راستہ اپنا یا جو کہ قا ئد اعظم کا راستہ تھا اور پھر ان کی جد وجہد ، فکر اور عمل سے ثا بت ہوا کہ شہید بھٹو قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کے صحیح جا نشین اور ان کی legacyکے جا ئز، فکری اور نظریاتی وارث تھے۔آج انقلا ب کا نعر ہ لگانے والے عمران نیازی اور نام نہاد تحریک ووٹ کے تقدس اور نظام عدل کے نام پر چلانے والے نواز شریف اور نیا پا کستان بر استہ دھر ناو تحریک کی کال دینے والوں کے لیے قا ئدعوام کی جد وجہد ایک مثا ل ہو نی چا ہیے ۔ عظیم قیادت کو عظیم نصب العین کی ضرورت ہوتی ہے ایسا نصب العین جو لیڈر کو کام کرنے کی تحریک دے اور اسے پوری قوم کو متحرک رکھنے کے قابل بنائے لوگ ایسے لیڈروں سے محبت بھی کرتے ہیں اور مخالفین کے روپ میں ناپسندکرتے ہوئے نفرت بھی۔ان کے متعلق درمیانہ رویہ اپنانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک لیڈر کے لیئے صرف اچھائی سے واقف ہونا ضروری نہیں بلکہ اسے اچھائی کی راہ پر عمل پیرا ہونے کے قابل بھی ہونا چاہئے۔ درست فیصلے کرنے کی قوت سے عاری اور نصب العین سے محروم کوئی فرد کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ ایک عظیم قائد کو بصیرت اور درست مقاصد حاصل کرنے کی اہلیت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔شہید بھٹو نے اپنے حسن سلو ک ، تد بر، فکر اور تخیل سے ایسا انقلا ب بر پا کر دیا کہ عوام ان کے ایک اشا رے پر طا غو تی قو توں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے اور مضبو ط ایو بی آمر یت کے بت کو پا ش پا ش کر دیا ۔
آیا وہ بام پر تو کچھ ایسا لگا منیر
جیسے فلک پہ رنگ کا بازار کھل گیا
شہید بھٹو نے ملک میں جمہو ریت کے علا وہ کسی اور راستے کا انتخا ب پسند نہ فر ما یا ۔پھر جب لٹے پٹے پا کستان کی قیا دت انہیں سو نپ دی گئی تو ایسی ایسی اصلا حا ت کی گئیں کہ حقیقی معنوں میں صر ف سا ڑھے پا نچ سا لہ دو ر اقتدار میں ہی ملک میں انقلا ب آگیا ۔ عوام کو شنا خت دینے کے لیے بنیا دی کا م یعنی شنا ختی کا رڈ کا اجراء کیا گیا ۔ عوام کو پا سپو رٹ سے روشنا س کر وادیا گیا ۔ آج لا کھوں پا کستا نی غیر مما لک میں روزگا ر کما کر زرمبا دلہ بھیج کر اس ملک کی معیشت کی مضبو طی کے لیے اہم کر دار ادار کر ہے ہیں ، وہ خو د اور اور ان کے اہل خا نہ خو ش حا ل زند گی بسر کر رہے ہیں تو اس کا کر یڈ ٹ اسی عظیم مفکر کو جا تا ہے کیوں کہ اس سے پہلے پا کستا نی بیر ون ملک ملا زمتوں کے لیے نہیں جا سکتے تھے ۔بھٹو شہید نے نو ے ہزار سو ل و فو جی جنگی قید یو ں کو با عزت رہا ئی دلوائی اور ہزاروں مر بع میل علا قہ بھی بھا رت کے قبضے سے کا میا ب مذاکر ات کے ذریعے واگزار کر وایا ۔ پھر وطن عزیز کے دفا ع کو نا قا بل تسخیر بنا نے کے لیے ایٹمی پر وگر ام کا با قا عد ہ آغا ز کر وایا ۔ آج پا کستا ن کے ایٹمی قو ت ہونے کا کر یڈ ٹ لینے والے شا ید اس وقت کسی ادارے میں اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہوں گے ۔ جب اس ایٹمی پر وگر ام کے لیے بھٹو شہید ڈاکٹر عبدالقد یر خا ن کو ہا لینڈ سے لا نے کیلیے قا ئل کر رہے تھے۔ مشر قی پا کستان کھونے کے بعد پا کستان کی معیشت بہت حد تک کمزور ہو چکی تھی ۔ مگر بھٹو شہید نے فر وری 1974میں لا ہو ر میں اسلا می سر بر اہی کانفر نس کا نعقا د کر کے اپنے دو ست اسلا می مما لک کے مد د سے معیشت کو اپنے پیر وں پر کھڑا کر دیا تھا ۔اس کے علا وہ بھٹو شہید نے صنعت ، زراعت ، تعلیم کے لیے ایسی اصلا حا ت کیں جس کا تذ کر دہ کر نے کے لیے ہزاروں صفحا ت پر مبنی کتاب کی تصنیف بھی کم ہوگی لیکن اس ملک کے مزدور، کسان اور طلبا ء کی آج بھی بھٹو ازم سے محبت اس کی سند ہے ۔قا ئد عوام بھٹو شہید کی سیا ست ایک عبا دت تھی ۔انھوں نے عوام اور ملک کو اند ھیر وں سے نکا لنے کے لیے جا مع منشو ر دیا تھا ۔ انھوںنے کشمیر ،فلسطین اور تیسر ی دنیا کے عوام کے لیے روشنی دی مگر اہل ہو س نے اس خواب کو ریزہ ریزہ کر دیا ۔گیا رہ سا لہ طو یل آمر یت کے عر صے میںملک کو ایک ایسے اکھا ڑے میں تبد یل کر دیا گیا کہ جس میں جمہو ریت با زیگر وں کے ہا تھوں تما شا بن کر رہ گئی ۔بالآخر سپر سامراج کے حکم پر مقامی ٹھیکیداروں نے شہید بھٹو کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
میرے ہمراہ دریا جارہا ہے
گیا رہ سا ل کا یہ عر صہ محر ومیوں ، نا انصا فیوں ، غا صبا نہ چیر ہ دستیوں ، جمہو ریت کے جھو ٹے دعوے داروں، اسلا م کے نا م نہا د ٹھیکیداروں ،ضمیر فر و شوں ،لسا نی دہشت گر دوں ، فر قہ پر ستوں کی سیا ہ کا ریوں کی ایک طو یل داستان ہے ۔ جب سپرپاور امریکہ اس خطہ کا چوہدری بھارت کو بنانا چاہتا ہے۔۔۔ جب افغانستان میں امریکی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر تھوپہ جاتا ہے۔۔۔ جب پاکستان کو امدادبند کرنے کی دھمکی کے ساتھ پچھلے دیئے گئے پیسوں کا حساب مانگا جاتا ہے۔۔۔ جب سانحہ کارساز کے نتیجے میں 175افراد کو شہید اور 500سے زائد لوگوں کو زخمی کیا جاتا ہے ۔۔۔جب 18سال قبل شہید بینظیر بھٹو انتہا پسند گروپوں کے متعلق اپنے خدشات کو باور کرارہی تھیں تواسے قطعی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔۔۔ جب 27دسمبر 2007کو شہید بینظیر بھٹو جیسی جلیل القدر ہستی جو کہ عالمی وژن کی حامل بین الاقوامی شخصیت تھیں کو انتہا پسندوں کے ذریعے دہشت گردی کا نشانہ بناکر منظر سے ہٹایا جاتا ہے ۔۔۔جب صدرآصف علی زرداری کی قیادت میں PPPکی حکومت کی جانب سے گوادر پورٹ چین کے حوالے کرکے سی پیک کے منصوبے کی راہ ہموار کرنے کے جرم میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک صوبے تک محدود کرکے علاقائی جماعت بنانے کی مکروہ سازش کا حصہ بنایا جاتا ہے۔۔۔جب قرضوں کی معیشت کے ذریعے عوام کی زندگی کو اجیرن کیا جاتا ہے ۔۔۔ جب اداروں کی حدود کا آئینی تعین ہونے کے باوجود اختیارات اور بالادستی کی جنگ میں ریاست کو جھونکا جاتا ہے ۔۔۔جب 50ہزار سے زائد پاکستانیوں کو دہشت گردی کی جنگ میں ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔۔۔جب اے پی ایس کے معصوم شہدائوں کے اسکول پر حملے کے بعدبہت دیر سے اس خطرناک کھیل کا ادراک ہونا شروع ہوتا ہے ۔۔۔ جب نوجوان مشعال خان کو پشاور یونیورسٹی میں بے گناہ شہید کردیا جاتا ہے۔۔۔تو یہ باتیں ہماری سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ، تجزیہ نگار، دانشور اور سیاسی و سماجی رہنمائوں کی سمجھ میں آتی ہیں کہ ہمارے ملک و قوم کے ساتھ بڑا ہی گھنائونا اور خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے جس کے نتیجے میں آپریشن ضرب عضب ، فوجی عدالتیں اور آپریشن رد الفساد کیا جاتا ہے تو ان حالات میں شہید بھٹو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور ان کی لامحدود ذہانت، بصیرت افروز قیادت کی کمی کا ادراک مزید شدید سے شدید تر ہوجاتا ہے۔یہ تمام باتیں تا ریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔1988،1993،2002، 2008اور 2013کے انتخا با ت کے مو قع پردہشت گر د اور انتہا پسند قو تو ں کی جا نب پا کستا ن پیپلز پا رٹی پر اعلا نیہ و غیر اعلا نیہ پا بند ی نے ثا بت کر دیا کہ عوام اپنے دوستوں اور دشمنو ں کو اخبا ری کا لم نگا روں ،نا م نہا د دانشوروں سے زیا دہ بہتر طو رپر سمجھتے ہیں ۔ عوام وہی جمہو ریت چا ہتے ہیں جو شہید ذوالفقا ر علی بھٹو کی تھی ۔عوام پیپلز پا رٹی کو منتخب کر کے جب ایوانو ں میں بٹھا تے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ ان کی امنگو ں کی صحیح تر جما نی کا حق صر ف بھٹو ازم میں پو شید ہ ہے ۔ عوام ایسے نما ئند ے چا ہتے ہیں جو وقتی مفا د اور اقتد ار کے لیے پا رٹی چھو ڑ کرکسی اور کا علم نہ اٹھا ئیں بلکہ سا زشی عنا صر کے سا منے سینہ سپر ہو کر جمہو ریت کے خلا ف ہر سا زش کو نا کا م بنا دیں ۔ کیوں کہ بھٹو فو بیا کا شکا ر عنا صرکو پیپلز پا رٹی کی سینیٹ انتخا با ت میںکا میا بی بر داشت نہیں ہو رہی تھی اور وہ اس خو ف کی وجہ سے ہر نا جا ئز ہتھکنڈے استعما ل کر رہے تھے ۔اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ان کی بر داشت سے با ہر تھی ۔ وہ انجینئرڈ کا میابیو ں کے عا دی ہیں ،چو ر دروازہ اور مختصر راستہ نے ان کو اقتد ار تک پہنچا یا ۔ ورنہ عوام کی چو ائس آج بھی پا کستان پیپلز پا رٹی ہے ۔جس کو انھوںنے پچھلے پا نچ سا لوں کا مینڈ یٹ دیاتھا۔
اگر اب بھی آزادانہ ،منصفا نہ غیر جا نبدارانہ چو ائس عوام کو دی جا تی تو یقیناً فیصلہ2013کے الیکشن کا PPPکے حق میں ہوتا PPPکی پچھلی حکو مت نے اٹھا رہویں تر میم کی مد د سے کسی بھی غیر آئینی اقد ام کے راستے کو بند کر دیا ہے ۔ اور جمہو ریت پا کستان کو ہمیشہ کیلیے تحفے میں دیدی ۔ یہ شہید قا ئد عوام اور شہید جمہو ریت بینظیر بھٹو کا خو اب تھا ۔شہید قا ئد ین آج بھی ہر با شعو ر ذہن کی روشنی ہیں ۔آج بھی سب زند ہ دلوں کی دھڑکن ہیں ۔ ان کے افکا ر ایک افق سے دو سر ے افق تک پھیلتے رہتے ہیں ۔سال ، مہینے ، صد یا ں ان کا راستہ نہیں روک سکتیں کیوں کہ شہید بھٹو جیسے لیڈروں کی وقت ضرورت نہیں ہو تا وہ لیڈ روقت کی ضرورت ہو تے ہیں ۔وہ جو تا ریخ میں زندہ رہنا چا ہتے ہیں ۔ انھیں یہ احسا س ہو تا ہے کہ ان کی فا نی زندگی کا تسلسل ، ان کے جسما نی وجو د کی بقا ء ، ان کے اصو لو ں کی بقا ء ، زندہ رہنے کی بجا ئے جا ن کی قر با نی میں زیا دہ مو ثر ہے تو وہ جا ن پر کھیل جا تے ہیں ۔انھیں یقین ہو تا ہے کہ ان کی مو ت میں ہی قو م کی حیا ت ہے ۔
قتل گا ہوں سے چن کر ہما رے علم
اور نکلیں گے عشا ق کے قافلے
شہید بھٹو جمہو ریت کو ایسا نغمہ قرار دیتے تھے جو انقلا بیو ں کی روح کو ہر وقت سر شا ررکھتا ہے ۔ جو بہتر ین نظا م حکو مت دیتا ہے ۔ جس میں انسا ن کوشخصی آزادی حا صل ہوتی ہے ۔اس کی عزت نفس کی اہمیت ہوتی ہے اور مملکت بھی روشن اور تر قی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو نہ صرف حقائق معلوم ہوں بلکہ ان سرزد ہوئی غلطیوں کا برملا اعتراف بھی افراد اور اداروں کو کرنا ہوگا۔آج سے 41سال قبل 28 اپریل 1977کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں جن خدشات کا اظہار عالمی سازشوں ، خطہ کی صورتحال اور ملک کے مستقبل کے بارے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا وہ لفظ بہ لفظ موجودہ صورتحال میں بھٹو شہید کی عالمی و سیاسی پیشنگوئی بن کر سامنے آیا ہے خواہ اس کا تعلق اسٹیبلشمنٹ کے پرانے جانشین نواز شریف کی صورت میں برطرفی و مجھے کیوں نکالا کا نادان سوال ہو یا یہ اسٹیبلشمنٹ کے نئے جانشین عمران نیازی کی نواز شریف کی جگہ نئی بھرتی ہوجو کام میاں صاحبان نے ماضی میں کیا اب اسی کھیل کو تسلسل سے جاری رکھنے کے لیئے عمران نیازی کی جماعت کو ن لیگ کی جگہ ٹاسک دیا گیا ہے۔میاں نواز شریف ، شہباز شریف صاحبان، سیالوی و دیگر مذہبی گروپس کی حمایت سے دیا گیا ٹاسک پورا کررہے تھے جبکہ آج عمران نیازی یہ کام اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق کو اپنا اتحادی بناکر کر سر انجام دینے میں مصروف عمل ہیں۔
آج ان کے 90ویں یو م پیدا ئش کے موقعے پر پا کستان پیپلز پا رٹی کا ہر ورکر، ہر جمہو ریت پسند پر یہ عہد کر تا ہے کہ ہم نوجوان قائد و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جمہو ریت کی سر بلند ی، معاشی مساوات، انتہا پسندی و دہشت گردی اور مذہب و سیاست کے گٹھ جوڑ کے خلاف پاکستان کو ایک جدید جمہوری اور ترقی پسند ریاست بنانے کے لیئے ہر وقت قر با نی دینے کو تیا ر ہیں جس طرح قا ئد عوام شہید ذوالفقا ر علی بھٹو اور شہید جمہو ریت محتر مہ بینظیر بھٹو نے اپنی جا نیں قر با ن کر دیں لیکن مملکت اور عوام کے حقو ق پر سمجھو تہ نہ کیا ۔
شا ید جب ہی احمد فر از نے یہ کہا
آج ایسا نہیں ایسا نہیں ہو نے دینا
اے مرے سو ختہ جا نوں میرے پیا رے لو گو
اب کہ گر زلزلہ آئے تو قیا مت ہو گی
مر ے دلگیر اور درد کے ما رے لو گو
کسی غا صب کسی ظا لم کسی قاتل کے لیے
خو د کو تقسیم نہ کر نا مرے سا رے لوگو
n n


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر