وجود

... loading ...

وجود

نئے سال کا پٹرولیم مصنوعات کی ہوشرباقیمتوں سے استقبال

منگل 02 جنوری 2018 نئے سال کا پٹرولیم مصنوعات کی ہوشرباقیمتوں سے استقبال

حکومت نے نئے سال کی آمد کے موقع پر عوام کوتحفہ دیا ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گیارہ روپے پچھترپیسے تک ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت 4 روپے 6 پیسے اضافے کے بعد 81.53 روپے فی لیٹر‘ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 69 پیسے اضافے کے بعد 89.91 روپے فی لیٹر‘ لائٹ ڈیزل کی قیمت 6 روپے 25 پیسے اضافے کے بعد 58 روپے 37 پیسے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 79 پیسے اضافے کے بعد 64.32 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ مشیر قومی خزانہ مفتاح اسماعیل کا پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے حوالے سے کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی اس کی قیمتیں تبدیل کی جا رہی ہیں؛ تاہم بھارت، بنگلہ دیش اور ترکی کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت ابھی بھی کم ہے۔ ملک میں گزشتہ برس یکم ستمبر سے اب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا یہ پانچواں مسلسل اضافہ ہے۔ چار ماہ قبل جب پٹرولیم کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر بڑھنے لگیں تو تاجر برادری نے بھی پرزور احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں کیونکہ سیاسی عدم استحکام اور موجودہ معاشی صورتحال کے باعث کاروباری طبقہ بشمول عام عوام‘ پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا شکار ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانا معیشت پر مزید بوجھ بڑھانے کے مترادف ہو گا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں جو اشیائے پیداوار کی لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ دوسری طرف اس اضافے کا آسان شکار غریب لوگ ہوتے ہیں کیونکہ اشیا کی لاگت بڑھنے سے تاجر طبقے پر اضافی بوجھ پڑے گا تو وہ لامحالہ اسے عوام پر منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ عوام جو پہلے ہی مہنگائی‘ بیروزگاری اور کم آمدن جیسے مسائل کا شکار ہیں‘ اب قیمتیں بڑھنے سے وہ مشکلات کے نرغے میں گھر جائیں گے۔ حالیہ اضافہ غریب عوام کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ یہ درست ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں جب کبھی عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں‘ اس کے اثرات اور ثمرات اس تناسب سے غریب عوام تک نہیں پہنچنے دیے گئے۔ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سے غریب آدمی کا بجٹ درہم برہم ہو جائے گا اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ سے لے کر سینکڑوں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ جانے سے اس کی کمر دہری ہو جائے گی۔ یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ زیادہ تر پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ سی این جی پر چلتی ہے لیکن ٹرانسپورٹرز اس کا بھی خیال نہیں رکھتے اور یہ موقع ناجائز منافع خوری کی صورت میں استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ یہی ٹرانسپورٹرز اس وقت قیمتیں کم نہیں کرتے جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حکومت کمی کرتی ہے، یوں ہر سطح اور موقع پر عوام کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے۔
توقع کی جا رہی تھی کہ جس طرح گزشتہ برس کے آغاز سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے سات روپے تک پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کی سمری مسترد کر دی تھی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھی اس مرتبہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا لیکن ایسا نہ کیا گیا اور یوں عمداً سالِ نو کی آمد پر مہنگائی کو خوش آمدید کہا گیا۔ چند روز قبل مہنگائی کا ایک طوفان تب آیا جب انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں یکدم چھ روپے تک اضافے سے‘ مجموعی طور پر روزانہ استعمال کی53 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو اب تک جاری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ڈالر سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کیونکہ اشیا کی ترسیل اور نقل و حمل کے تمام ذرائع کے لیے پٹرول اور ڈیزل ہی استعمال ہوتا ہے چنانچہ خدشہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مہنگائی کا ایسا سیلاب آئے گا جسے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ ویسے بھی قیمتیں کنٹرول کرنے کا کوئی ٹھوس حکومتی پیمانہ اور کنٹرول موجود نہیں جس کے باعث چارسْو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا اصول لاگو ہے اور ہر کوئی جبر کی لاٹھی سے عوام کو ہانکے جا رہا ہے۔ گزشتہ برس کے آغاز سے قبل جب حکومت نے سات روپے تک اضافے کی سمری مسترد کی تھی تو قومی خزانے پر چار ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا تھا۔ اس مرتبہ بھی یہی عمل دہرایا جا سکتا تھا اور بجائے اس کے کہ قومی خزانہ بھرنے کے لیے سارا بوجھ غریب عوام پر منتقل کر دیا جائے‘ حکومت کو ٹیکس اور قرض نا دہندگان کو کٹہرے میں لا کر ان سے یہ پیسہ وصول کرنا چاہیے۔
حکومت سارا بوجھ عوام پر لادنے کی بجائے کچھ بوجھ خود بھی اٹھائے اور سرکاری سطح پر غیرترقیاتی اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے‘ وزرا اور ارکان اسمبلی کو دی جانے والی شاہانہ مراعات ختم کی جائیں اور غیر ملکی دوروں میں بڑے بڑے وفود لے جانے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ ایسے کئی اقدامات سے حکومتی اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس اہم مسئلے کا نوٹس لیں اور بے لگام مہنگائی کی نئی لہر کے تدارک کی خاطر پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا جن بوتل میں واپس ڈلوانے کے احکامات جاری فرمائیں تاکہ عوام کی سالِ نو کی خوشیاں ماند ہونے سے بچ جائیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 2018 کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک جاری اعلامیے میں کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات پر وفاقی حکومت کا فیصلہ ‘قوم کے خلاف کھلی دشمنی’ ہے اور مطالبہ کیا کہ حکومت ناصرف اضافے کا فیصلہ واپس لے بلکہ قیمتوں میں 50 فیصد کمی کا بھی اعلان کرے۔انہوں نے دھمکی دی کہ ‘فوری قیمتوں میں 50 فیصد کمی کی جائے بصورت دیگر مظاہرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔خیال ہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت نے نئے سال کے پہلے ماہ (جنوری 2018) کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے 75 پیسے تک اضافے ک اعلان کیا تھا۔
پی پی پی کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‘موجودہ حکمران گزشتہ 4 برسوں سے عوام کا خون چوس رہے ہیں اور پیپلز پارٹی ہی عوام کو معاشی بحران سے نکال سکتی ہے’۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شریف برادران مہنگائی اور معاشی بد حالی کے ذمہ دار ہیں۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پٹرولیم کی قیمت 103 روپے 7 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کیخلاف صرف پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کااعلان سامنے نہیں آیاعوامی سطح پربھی اس حکومتی اقدام کی مذمت کی جارہی ہے ۔ جلدیابدیرتحریک انصاف سمیت دیگرسیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیاہی چاہتاہے ۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر