وجود

... loading ...

وجود

تھکاوٹ (Fatigue)

منگل 02 جنوری 2018 تھکاوٹ (Fatigue)

زندگی جیسے جیسے آسان اور سہل ہوتی جارہی ہے ویسے ویسے اس دورِ جدید میں انسانی مصروفیات اس قدربڑھتی جارہی ہیں کہ ہر پل ہر لمحہ انسان مصروف رہتا ہے ۔ اور پھر یہ مصروفیت انسان کی جسمانی اور دماغی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے اور اسی تھکاوٹ کی وجہ سے انسان کی صحت تنزلی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس کی اوسط عمر بھی کم ہونے لگتی ہے ۔ ہم اپنی روزمرہ طرز زندگی میں کچھ ایسا کر رہے ہوتے ہیں کہ جو ہمیں تھکاوٹ کا شکار بنا دیتی ہیں ۔تھکاوٹ ایک عام شکایت اور مرض بنتا جارہا ہے اور بوڑھے اور بڑی عمر کے افراد تو درکنار آج کل نوجوان اوربچے بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں ۔ تھکاوٹ کا ایک اہم سبب ذہنی پریشانی اور ڈپریشن بھی ہے جس سے دماغ کے خلیات اور ہارمونز ڈسٹرب ہوجانے سے بدن میں سستی اور پٹھوں میں کھنچائو اور تھکاوٹ ہو جاتی ہے ۔
پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈ ریشن بھی جسم میں توانائی کو کم کر دیتی ہے ۔ پانی کی کمی سے جسم میں خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور پھر اس کے باعث دل کی کار کردگی بھی کم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پٹھوں اور اعضاء کو آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان تھکاوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے ۔
ورزش اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری بھی تھکاوٹ کی ایک اہم وجہ ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق صحت مند مگر سست رفتار طرز زندگی کے حاصل افراد اگر ہفتہ میں تین بار کی ورزش کو اپنا معمول بنا لیں تو خود میں بھر پور توانائی اور تھکاوٹ کا کم احساس محسوس کرتے ہیں ۔ روزمرہ کی بنیادپر کی جانے والی ورزش جسمانی مضبوطی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ دل کے نظام کو بھی بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں ۔ اس کے علاوہ جسم میں آئرن یا فولاد کی کمی بھی انسان کو کمزور سست اور چڑچڑا بنا دیتی ہے ۔ فولاد کی کمی سے جسم کے خلیات اور عضلات کو آکسیجن کم ملتی ہے جو تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ۔ اور آئرن کی مستقل کمی سے جسم میں مختلف پیچیدہ مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ آئرن کی کمی جسمانی موٹاپے کا سبب بنتے کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری اور تھکاوٹ کا باعث بھی بنتی ہے ۔ آئرن کی کمی کو سبز پتوں والی سبزیوں ، انڈوں ، خشک میوہ جات ، اور وٹامن سی کے حامل غذائوں کے استعمال کرنے سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔ جبکہ جسم میں وٹامن بی کی کمی بھی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جس کی کمی کو انڈے ، دودھ ، پنیر، گوشت ، مچھلی اور مرغی وغیرہ سے پور ا کرسکتے ہیں ۔
ناشتہ نہ کرنے کی عادت بھی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے کیونکہ رات کو کھانے کے بعد سونے کے دوران جسم سے حاصل ہونے والی توانائی کو خون کی فراہمی اور آکسیجن کو پھیلانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اور صبح کا مکمل اوربھرپور ناشتہ دن بھر اس توانائی کو پور اکرنے میںمدد دیتا ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔ ناشتے میں دودھ ، فریش جوسسز ، پھل ، انڈے ، اور مغزیات وغیرہ دن بھر کی مصروفیات کے لئے مناسب توانائی فراہم کرتے ہیں ۔
جنک فوڈ یا بہت زیادہ تیل اور چینی والی خوراک جسم میں بلڈ شوگر کو بڑھادیتی ہیں اور پھر کچھ دیر بعد اچانک بلڈ شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے مگر یہ اتارچڑھائو تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے ۔ جبکہ متوازن غذا کا استعمال جسم کو چاق و چو بند رکھنے کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
ہر چیز ہر میدان میں خود کو مکمل اور ماہر ثابت کرنا بھی تھکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق کسی ایسے مقصد کا حصول یا ہدف جس کا حصول نا ممکن ہو تو زندگی میں اس کو حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی محنت بلا مقصد اور تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے اور پھر ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ جبکہ بہت سے لوگوں میں انکار کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ہے اور وہ ہر شخص کے کہے ہوئے کام کو کرنے کے لئے ہمہ وقت ر ضا مند ہوجاتے ہیں ۔ خاص طور پر اپنے پیاروں ، دوستوں اور عزیزوں میں سے کوئی کسی کام کو کرنے کا کہے تو وہ منع نہیں کر پاتے ہیں اور پھر یہ عادت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو افسر دہ اور چڑچڑاہٹ میں رکھنے کا باعث بن جاتی ہے ۔
کیفین کا زیادہ استعمال بھی جسمانی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ درحقیقت دن کے آغاز میں یعنی نہار منہ کافی یا چائے پینا صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ۔ کافی سے جسم میں طاقت کم اور تھکاوٹ میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ دن بھرمیں دو سے تین کپ کافی سے زیادہ استعمال نیند اور جاگنے کے سائیکل کو متاثر کر سکتا ہے جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ گھر یا دفتر کی بے ترتیبی بھی ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے جو فرد کی توجہ ، کام اور صلاحیتوں پر مرکوز کرنے کے بجائے بے ترتیب کر دیتی ہے اور دماغی صلاحیتوں کو بھی محدود کردیتی ہے جبکہ آفس کا کام گھر پر کرنے یا گھر میں آرام کے دوران باربار ای میلز چیک کرنے یا دماغ مسلسل دفتری کاموں میں لگے رہنے کے باعث بھی جسمانی توانائی سے محرومی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ لہذا گھر میں آرام کے دوران جسم اور دماغ کو دفتری امور سے آزاد چھوڑ کر ہی جسم کو اگلے دن کے لئے بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق جسمانی تھکاوٹ کی ایک اہم وجہ نیند کی کمی بھی ہے کیونکہ نیند جسم کی تھکاوٹ دور کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ جسم کو تھکاوٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے وقتوں وقتوں میں نیند لینا بہتر اور مناسب نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک گہری اور مکمل نیند کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے نیند پوری کرنے کی کوشش میں انسان مزید تھکاوٹ کاشکار ہو سکتا ہے ۔ سونے کی جگہ یا سونے کے اوقات میںموبائل فون یا لیپ ٹاپ کا استعمال بھی تھکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے ۔ موبائل فون وغیرہ سے خارج ہونے والی مضر صحت شعاعیں جسم میں نیند کو ریگولیٹ کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتی ہیں ،جو نیند پر براہ راست اثر انداز ہو تے ہیں ۔ اور پھر تھکاوٹ کا احساس غالب آجاتا ہے ۔
تھکاوٹ کی ایک بڑی وجہ توانائی کی کمی بھی ہے جو درست خوراک بر وقت نہ لینے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ غذائوں کو غیر فطری انداز میں زیادہ دیر تک پکانے سے ان میںموجود وٹامنز اور معدنی اجزاء ختم ہو جاتے ہیں جن کی انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے ۔ اور جس کی کمی کی وجہ سے تونائی میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ذہنی اور جسمانی بیماریاں مثلاََ لوبلڈ پریشر، بلڈشوگر میں کمی ، مختلف انفیکشنز ، جگر کی خرابی اور مختلف ادویات اور غذائوں سے الرجی ، بے خوابی ، ذہنی دبائو اور جذباتی افسردگی وغیرہ بھی تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں ۔
تھکاوٹ سے دور رہنے کے لئے توانائی سے بھر پور ایسی غذائیں استعمال کرنے چاہیئے جن میں مختلف پروٹینز اور فائبر سے بھر پور اجزاء موجود ہوں ۔ نیوٹریشن اسٹڈی (Nutrition Study) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی جو تھکاوٹ کی ایک بنیادی وجہ ہے ۔ اس سے بچنے کے لئے تربوز کا استعمال بے حد فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ تربوز میں 90 فیصد پانی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ مختلف اقسام کے وٹامنز اور منرلز سے بھی بھر پور ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ پروٹین سے بھرپور غذائیں جسم کو چست اور توانارکھتی ہیں ۔ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا روزانہ استعمال جسم میں پروٹین کی مقدار کو نارمل رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ سبز چائے کا استعمال بھی توانائی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں Theanine نامی اما ئنو ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کسی بھی بیماری کی صورت میں توانائی کے ضیاع کو روکتا ہے ۔
تھکاوٹ کو ختم کرنے کے لئے پوٹاشیم اور کیلشیم پر مشتمل سبزیاں اور پھل بھی فائدہ مند ہوتے ہیں ۔ کیلشیم جسم کو سکون اور آسودگی فراہم کرتے ہیں اور بے خوابی اور تنائو کی کیفیت کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں ، پتوں پر مشتمل سبزیاں ، اخروٹ اور بادام وغیرہ کیلشیم کے اچھے ماخذ ہوتے ہیں ۔
طبی تحقیق کے مطابق جوافراد کھانوں کے درمیان اسنکیس کھاتے رہتے ہیں وہ تھکاوٹ کا بہت کم شکار ہوتے ہیں ۔ اوران میں سوچنے کی صلاحیت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ چست اور مستعد ہوتے ہیں مگر یہ اسنکیس تازہ یا خشک پھلوں، تازہ پھلوں اور سبزیوں کے جوسسز وغیرہ پر مشتمل ہونے چاہیئے۔
سورج کی روشنی میں وقت گزارنے سے بھی تھکاوٹ کے احساس کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جوافراد سورج کی روشنی میں کم اور گھر پر زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق سورج کی روشنی میں کم از کم 15 سے 20 منٹ تک تیز چہل قدمی کرنی چاہیئے جس سے جسم کو مطلوبہ وٹامن ڈی بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق چیونگم چبانے سے انسانی جسم میں چستی اور پھرتی کی سطح بڑھ جاتی ہے ۔ جس سے موڈ پر مثبت اثرات پڑنے کے ساتھ ساتھ توانائی اور دل کی دھڑکن بھی بہتر ہو جاتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر