... loading ...
نجم انوار
عسکری و سیاسی کشمکش کی خطرناک پاکستانی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ سینیٹ کمیٹی میں پاک فوج کے سربراہ کو بلاکر اُن سے خطے کی صورتِ حال پر بریفنگ لی جائے گی۔ اپنی نوعیت کا یہ منفرد واقعہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کے نقاب پوش نام پر مسلسل فوج کو ہدفِ تنقید کا نشانا بنائے رکھتے ہیں۔ خوش حکمرانی سے اخلاقی طور پر غالب ہونے کے بجائے بدعنوانی کے مکروہ ترین عمل کو جاری رکھتے ہوئے سیاسی قیادت محض جمہوریت کے نام پرفوج پر بالادستی کا خواب دیکھتی ہے اور پاکستان کی تاریخ اور فوجی نفسیات کے قومی عوامل کو مکمل طور پر نظرانداز کردیتی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ کی جانب سے مختلف نوعیت کے ایسے معاملات پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح سے عسکری سطح کے ہیں۔ مثلاً مختلف سینیٹرز کی جانب سے 15؍دسمبر کو سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے 41 ملکی فوجی اتحاد (آئی ایم سی ٹی سی) کے ٹرمز آف ریفرنسز کو خفیہ رکھنے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ پہلو اس لیے سینیٹرز کو پریشان کررہا تھا کہ اس فوجی اتحاد کی قیادت سابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کررہے ہیںیا اس سے وابستہ ہیں۔اسی طرح فرحت اللہ بابر کی جانب سے فوجی سربراہ کے دورۂ ایران کی بابت بھی تشویش سامنے آئے تھی۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا دورہ کیا ،ا س دوران میں کیا معاملات طے پائے ، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سینیٹ کمیٹی کو خطے کی صورتِ حال پر بریفنگ دیں گے۔ سینیٹ کے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا ایک اہم ان کیمرہ اجلاس 19؍دسمبرکو منگل کی صبح دس بجے طلب کیا گیا ہے۔ پارلیمانی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ ہوگا کہ پاک فوج کے سربراہ اس نوعیت کی کوئی بریفنگ دیں گے۔ اطلاعا ت کے مطابق سینیٹ ہال میں دی جانے والی بریفنگ میں فوجی سربراہ کے ہمراہ ڈی جی ملٹری آپریشن (ڈی جی ایم او) میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا بھی موجود ہوں گے۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی فوجی سربراہ کے طور پر تقرری کے بعد اُنہیں ایک ٹیبل بچھا کر سامنے ایک کرسی پر بٹھایا تھا، واضح رہے کہ یہ منظر بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا تھا۔نوازشریف کی جانب سے فوجی سربراہ کی تقرری کے بعد اُنہیں وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا تو اُنہیں اس طرح بٹھا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایک ماتحت افسر ہیں اور اُنہیں اسی طرح اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ فوج پر غلبے کی اس نوع کی خواہش خطرناک نتائج پید اکرتی ہے۔ اس مرتبہ یہ قدم سینیٹ کی جانب سے اُٹھا یا گیا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ منفرد واقعہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کے نقاب پوش نام پر مسلسل فوج کو ہدفِ تنقید کا نشانا بنائے رکھتے ہیں۔ خوش حکمرانی سے اخلاقی طور پر غالب ہونے کے بجائے بدعنوانی کے مکروہ ترین عمل کو جاری رکھتے ہوئے سیاسی قیادت محض جمہوریت کے نام پرفوج پر بالادستی کا خواب دیکھتی ہے اور پاکستان کی تاریخ اور فوجی نفسیات کے قومی عوامل کو مکمل طور پر نظرانداز کردیتی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ کی جانب سے مختلف نوعیت کے ایسے معاملات پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے جو کسی بھی طرح سے عسکری سطح کے ہیں۔ مثلاً مختلف سینیٹرز کی جانب سے 15؍دسمبر کو سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے 41 ملکی فوجی اتحاد (آئی ایم سی ٹی سی) کے ٹرمز آف ریفرنسز کو خفیہ رکھنے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ پہلو اس لیے سینیٹرز کو پریشان کررہا تھا کہ اس فوجی اتحاد کی قیادت سابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کررہے ہیںیا اس سے وابستہ ہیں۔اسی طرح فرحت اللہ بابر کی جانب سے فوجی سربراہ کے دورۂ ایران کی بابت بھی تشویش سامنے آئے تھی۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا دورہ کیا ،ا س دوران میں کیا معاملات طے پائے ، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...