وجود

... loading ...

وجود

اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

اتوار 17 دسمبر 2017 اسٹولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

ظریف بلوچ
مکران کے ساحلی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں اور یہاں سمندری معدنیات کے وسیع ذخائر زمانہ قدیم سے موجود ہیں جبکہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکران کے سمندر میں تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ جیوانی سے گڈانی تک پھیلا ہوا سمندر تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ ساحلِ مکران کے دیدہ زیب حسن میں ایک جزیرہ ’’اسٹولا‘‘ بھی شامل ہے۔ اسٹولا جزیرہ تاریخی، جغرافیائی اور عسکری حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جزیرہ نہ صرف قدرتی حسن کے دلفریب مناظر کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہاں نایاب نسل کی سمندری مخلوقات پائی جاتی ہیں اور اسٹولا کو مونگے کی چٹانوں (coral reef) کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی اقسام کے کورل ریف موجود ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے 39 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف واقع اسٹولا جزیرہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ ماہرین اسے ایک درمیانے درجے کا جزیرہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ’’ہفت تلار‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہفت تلار بلوچی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی ’’سات چوٹیاں‘‘ ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔ اس نام کے بارے میں مقامی لوگوں کی مختلف آراء ہیں اور جب میں نے مقامی لوگوں سے پوچھا تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ نام ان سے کئی نسلوں پہلے سے چلا آرہا ہے۔ یعنی ہفت تلار کا نام کئی نسل پہلے کے لوگوں نے رکھا تھا۔
ماضی بعید میں یہ ساحلی علاقہ نہ صرف ایک تجارتی مرکز تھا بلکہ تجارتی گزرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھا۔ یہاں زیادہ تر ہندو اور اسماعیلی لوگ کاروبار اور تجارت کیا کرتے تھے۔ مکران کے ساحلی شہر پسنی سے اسٹولا کا سفر کشتیوں سے تین سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے جبکہ اسپیڈ بوٹ پر اسٹولا کا سفر ایک گھنٹے سے کم کی مسافت پر ہے۔ اسٹولا جانے والے سیاحوں کو اسپیڈ بوٹ کی بکنگ پسنی ہی سے کروانی پڑتی ہے۔ کراچی سے سیاحوں کی بڑی تعداد اسٹولا کی سفر کو آتی ہے۔
اسٹولا جزیرہ 6.7 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے جس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 246 فٹ تک بلند ہے۔ اسٹولا کی قدیم تواریخ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہاں ہزاروں سال پہلے انسانوں کی آمدورفت تھی۔ اسٹولا کی دریافت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ 325 قبل مسیح کے یونانی دور میں یہ جزیرہ دریافت ہوا لیکن اس کی تصدیق میں تاریخی دستاویز دستیاب نہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں میں آنے والے زلزلوں سے اسٹولا کا پچھلا حصہ سمندر برد ہوتا جارہا ہے اور سمندر کی تیز لہروں کے بھی جزیرے کے عقبی حصے سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کا ایک حصہ سمندر کی نذر ہوتا جارہا ہے جس کے باعث جزیرے پر پڑنے والی بڑی دراڑیں بھی نمایاں نظر آنے لگی ہیں۔
پانچویں صدی عیسوی کے معروف یونانی مؤرخ ’ہیروڈوٹس‘ نے اپنی مرتب کردہ تواریخ میں مکران کا ذکر کرتے ہوئے اس ساحل کے قریب جن چار جزیروں کی نشاندہی کی ہے ان میں ایک اسٹولا بھی تھا۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جن چار جزیروں کی ہیروڈوٹس نے نشاندہی کی تھی، ان میں سے تین سمندر برد ہو چکے ہیں جبکہ اسٹولا چوتھا جزیرہ ہے، جو آج بھی موجود ہے۔
یونانی تاریخ میں غالباً مکران کے جس جزیرے کو ’’نوسالا‘‘ کہا گیا ہے، وہ آج کا اسٹولا ہے۔ یونانیوں کے مطابق اس جزیرے پر دیوی ’افریدس‘ کا گھر تھا اور جب بھی کوئی کشتی جزیرے کے قریب سے گزرتی تو افریدس، کشتی پر موجود لوگوں کو مچھلی بنا کر سمندر میں چھوڑ دیتی تھی۔
تاریخ میں ایک اور روایت یہ ہے کہ سکندرِاعظم کی مقدونیائی بحری فوج جب یہاں پہنچی تو اس فوج کے سربراہ کے مطابق اس جزیرے میں بیش بہا قیمتی ہیرے اور جواہرات موجود تھے۔ اس کے بعد مصر اور یونان سے بڑی تعداد میں بیوپاریوں نے جزیرہ اسٹولا کا رخ کرلیا لیکن وہ ناکام ہوکر واپس چلے گئے۔ اگرچہ ہیرے جواہرات کا قیاس ناقص سہی، مگر آج کے دور میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے سمندر میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو مکران کے ساحل سے لے کر خلیج فارس تک جاتے ہیں۔ سمندر میں لاوا اْبلنے اور جزیرے نمودار ہونے کی ایک وجہ یہ ذخائر بھی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مکران کے ساحلی علاقوں میں میتھین گیس کے ذخائر موجود ہیں جن کے اچانک پھٹ پڑنے سے سمندر کی تہہ سے جزیرے نکلتے ہیں جو کچھ عرصے کے بعد واپس سمندر برد ہوجاتے ہیں۔ حال ہی میں گوادر کے قریب ایک جزیرہ برآمد ہوا ہے جبکہ ہنگول کے علاقے میں آتش فشاں پہاڑ بھی موجود ہیں جن پر ہر وقت لاوا ابلتا رہتا ہے۔
اسٹولا جزیرے کے بارے میں بعض لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ ایک زمانے میں باقاعدہ خشکی کا حصہ تھا جو ایک طاقت ور زلزلے کے بعد جدا ہو کر سمندر میں جا پہنچا۔ اس روایت سے ملحقہ اپنی رائے کی مضبوطی کے لیے وہ پسنی کے شمال میں سمندر کے کنارے پر موجود ’’ذرین‘‘ نامی پہاڑ کو اسٹولا کا بچھڑا ہوا حصہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب اسٹولا جزیرے کی قدیم تواریخ پر محدود تحقیق کی وجہ سے بعض آراء کی دستاویزی تصدیق ممکن نہیں۔ مقامی لوگ تعلیم اور تحقیق سے کم واقفیت کی وجہ سے اسٹولا کی تاریخ کے حوالے سے صرف روایت پر یقین رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں قدیم ادوار میں اسٹولا پر کی گئی تحقیق کا بیشتر حصہ غیرملکی مؤرخین اور محققین کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ اس کے برعکس اسٹولا کے بارے میں مقامی افراد یا تو سینہ بہ سینہ تواریخ پر انحصار کرتے ہیں یا روایات پر جو وہ نسل درنسل اپنے بزرگوں سے سنتے آرہے ہیں۔ ایسے میں اسٹولا کی درست تاریخ کا تعین خاصا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔البتہ غالب امکان ہے کہ پسنی کی حالیہ آبادی دو سو سے تین سو سال سے یہاں موجود ہے جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پسنی سے ملحقہ علاقہ کلمت ماضی میں تجارتی حوالے سے اہم علاقہ تھا اور سولہویں صدی کے حمل جہند اور پرتگیزیوں کی جنگ سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔
عرب اسٹولا جزیرے کو ’’استالو‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جبکہ ہندو روایات میں اس کا نام ’ستادیپ‘ ہے۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا عقیدہ ہے کہ ’’مہاکالی‘‘ المعروف ’’بھوانی‘‘ کا مندر اس جزیرے پر تھا اور مہاکالی ہر روز نہانے کیلیے یہاں سے ہنگلاج جایا کرتی تھی۔ اس وقت بھی اسٹولا جزیرے پر ہندوؤں کا ایک مندر موجود ہے جبکہ اس کے علاوہ پسنی شہر میں ہندوؤں کا کوئی بھی مندر موجود نہیں۔ (ہنگلاج میں ہندوؤں کا مندر ’نانی پیر‘ ہے جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے ہنگول میں واقع ہے۔ یہاں ہنگول دریا بھی بہتا ہے۔ ہنگلاج میں ہر سال ہزاروں ہندو یاتری زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مہاکالی دراصل نانی پیر نامی عبادت گزار خاتون کو دیکھنے کیلیے جزیرہ اسٹولا سے ہنگلاج جاتی تھی۔)
اس جزیرے پر ساحل کے راستے داخل ہوتے ہی سامنے حضرت خضر سے منسوب ایک مزار آج بھی موجود ہے جس کے بارے میں مقامی روایت یہ ہے کہ وہ علاقے کو ناگہانی طوفانوں سے بچاتا ہے۔ اسٹولا کے علاوہ پسنی شہر کے دیگر مقامات پر بھی حضرت خضر کے مبینہ ٹھکانے موجود ہیں اور علاقے میں اس روایت کے ماننے والے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ حضرت خضر زندہ پیر ہیں۔
حکومت پاکستان نے 1982 میں جزیرے پر لائٹ ہاؤس سسٹم بھی نصب کیا تھا اور 1987 میں اس سسٹم کو شمسی توانائی سے منسلک کیا؛ آج جزیرے پر اس کی باقیات ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کا تحفظ تھا کہ وہ رات کے اوقات میں جزیرے سے ٹکرا نہ جائیں۔ مقامی ماہی گیر کہتے ہیں کہ ماضی میں راستہ تلاش کرنے میں یہ سسٹم کارآمد ثابت ہوا۔ اس وقت ماہی گیروں کے پاس جدید آلات کی کمی تھی اور یہ ساحل ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ بھی ہے۔
اسٹولا جزیرے پر آبی پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جبکہ اس جزیرے کا ساحل بعض آبی پرندوں کا قدرتی مسکن بھی ہے۔ سائبیریا سے ہر سال نقل مکانی کرکے مکران کے ساحل کا رخ کرنے والے آبی پرندے بھی اسٹولا کے ساحل کو اپنا عارضی ٹھکانہ بناتے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں یہاں نایاب ہجرتی پرندے (مائیگریٹری برڈز) بھی آتے ہیں۔
اسٹولا جزیرے کے ساحل پر سبز کچھوے اور ہاک بل کچھوے بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ سبز کچھووں اور ہاک بل کچھووں کے بِل بھی ساحل کے قریب موجود ہیں جبکہ وہ انڈے بھی اسٹولا کے ساحل پر دیتے ہیں۔ حیاتیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ساحل سبز کچھووں کی افزائشِ نسل کا علاقہ (نیسٹگ ایریا) ہے کیونکہ یہ مکران کے دیگر ساحلوں کی نسبت خاصا محفوظ ہے۔ اسٹولا کے ساحل پر جا بجا سبز کچھووں کے بِل (نیسٹ) نظر آتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھووں کی نسل دنیا بھر سے معدوم ہوتی جارہی ہے اور اس تناظر میں اسٹولا کے ساحل پر آبادی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جگہ سبز کچھووں کو افزائشِ نسل کے لیے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں اس بات پر شدید تشویش بھی ہے کہ یہاں آنے والے سیاح بحری حیات (میرین لائف) کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے باعث سبز کچھووں کیلیے خطرہ بن رہے ہیں۔
اسٹولا کے ساحل کے قریب ماہی گیر بھی شکار کرتے ہیں اور وقتا فوقتاً ساحل پر کیمپ لگاتے ہیں جس سے سمندری مخلوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبز کچھوے کی مادہ اس وقت انڈے دیتی ہے جب روشنی اور شور نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹولا کے جزیرے کو ماہرین سبز کچھووں کی بقاکیلیے بہترین مقام تصور کرتے ہیں۔ البتہ ماہرین اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ ماہی گیروں کے جالوں میں کچھوے پھنس جاتے ہیں اور امدادی انتظام نہ ہونے کے باعث ان میں سے بیشتر کچھوے مرجاتے ہیں۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے جون 2017 میں اسٹولا کو ’’میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا‘‘ قرار دیا ہے جہاں ہر اس عمل کی ممانعت ہے جس سے بحری حیات (میرین لائف) کو خطرہ ہو۔ اس ضمن میں اسٹولا پاکستان کا واحد میرین لائف پروٹیکٹڈ ایریا ہے۔
ماہرِینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ اسٹولا جزیرہ مونگے کی چٹانوں (Coral reefs) کا گھر اور مختلف الاقسام آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ساحل بہت سی اقسام کے آبی پرندوں اور جانوروں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جو مختلف اقسام کی آبی حیات کیلیے بہت ضروری ہے۔جزیرے کے قریب ماہی گیر اکثر شکار کرکے رات اسٹولا کے ساحل پر گزارتے ہیں مگر بعض ماہرین کی اس بارے میں رائے یہ ہے کہ جزیرے کے قریب ماہی گیروں کے جال کچھووں کیلیے نقصان دہ ہیں جو اْن کی نسل خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ کچھووں کی محفوظ افزائش نسل یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ جزیرے کے قریب شکار نہ کیا جائے اور جزیرے کے قریب سے جال کے ٹکڑے صاف کیے جاتے رہیں۔
اسٹولا جزیرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے جہاں سیاح سیر کرنے اور ماہرین تحقیق کرنے آتے رہتے ہیں۔ تاہم سیاحوں کے کم تعداد میں یہاں آنے کی اہم وجوہ میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ اسٹولا جانے والوں کو اپنی کیمپنگ خود کرنا پڑتی ہے اور بوٹ کی بکنگ بھی خود ہی کروانی ہوتی ہے۔ اسٹولا جزیرے پر میٹھے پانی کے ذخائر موجود نہیں اس لیے وہاں جانے والوں کو اپنے ساتھ میٹھا پانی بھی وافر مقدار میں لے جانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جزیرے پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے اقدامات کرے مگر سیاحت یا کسی اور قسم کی سرگرمی کا انتظام کرتے ہوئے اس چیز کا خیال بھی رکھا جائے کہ جزیرے کے قدرتی حسن اور یہاں موجود آبی حیات بشمول پرندوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر