وجود

... loading ...

وجود

چنگ چی رکشا‘تین پہیوں والی خطرنا ک سواری

جمعرات 14 دسمبر 2017 چنگ چی رکشا‘تین پہیوں والی خطرنا ک سواری

خصوصی رپورٹ
ایک زمانہ تھا جب شہرقائدمیں ٹانگے چلا کرتے تھے اورڈبل ڈیکربسوں کاراج تھا۔لوگ ٹانگوں میں بیٹھ کرمیلوں کاسفرطے کیاکرتے تھے ۔ موسم گرما میں یہ سفرعوام کے لیے ایک تفریح ہواکرتا تھا۔ جیسے جیسے زمانے نے پلٹاکھایامنی بسوں نے ڈبل ڈیکر بسوں کی جگہ لے کی ‘رکشہ اورٹیکسیوں کی بھرمارنظرآنے لگی ۔ ٹانگے توا ب بھی کہیں نہ کہیں چلتے نظرآجاتے ہیں۔لیکن ان کی جگہ لینے کے لیے چنگ چی رکشہ متعار ف ضرورکرادیئے گئے ۔ چنگ چی رکشا قریباپندرہ بیس برس قبل سامنے آئے ۔ ابتدامیں یہ گائوں کوٹھوں میں دوڑتے نظرآتے تھے جن کی شکل ایک موٹرسائیکل کے گردلگے جنگلے جیسی تھی ۔آج کل یہ جدیدشکل میںسامنے آرہے ہیں۔ آپ ملک کے کسی چھوٹے بڑے شہرمیں چلے جائیں آپ کویہ چنگ چی سڑکوں پرراج کرتے نظرآئیں گے ۔دیکھاجائے تویہ ایک ایسی یہ ایسی سواری ہے جو ہر ایک کی استطاعت کے مطابق ہے یعنی کم خرچ بالا نشیں۔ شہروں خصوصاکراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ جہاں دوسرے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں ٹریفک کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرائے، بسوں میں مسافروں کا اژدھام، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور محدود وسائل کا شکار عوام ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سستی سے سستی سواری کے متلاشی رہتے ہیں۔ایسے میں چنگ چی رکشائوں کاسامنے آناکسی نعمت سے کم نہیں ۔ ایک چنگ چی رکشامیں کم ازکم آٹھ مسافربیک وقت سفرکرسکتے ہیں اورکرایہ بھی انتہائی کم دیناپڑتاہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ان چنگ چی رکشائوں کااستعمال سامان کی باربرداری کے لیے بھی کیاجارہاہے ۔
مگر اب یہ رکشے جہاں ایک طرف رحمت ہیں وہیں دوسری طرف شہریوں کے لیے زحمت بھی بنتے جا رہے ہیں اور سڑک پر موجود دوسری ٹرانسپورٹ کے لیے بھی جگہ کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ انہیں اپنے مسافر اتارنے اور بٹھانے کے لیے کسی اسٹاپ کی ضرورت نہیں ، ان کی کوئی ا سپیڈ لمٹ بھی نہیں، یہ بغیر دائیں بائیں دیکھے جدھر چاہتے ہیں مڑ جاتے ہیں، آپ کو اپنی گاڑی بچانی ہے تو خود ان سے بچیں۔یہ رکشے اور ان کے مالکان گزشتہ چند سال میں ایک منظم مافیا کا روپ دھار چکے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ ہو جائے چنگ چی والے کی حمایت میں سڑک سے گزرنے والے تمام چنگ چی کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے ساتھی کی جائز ناجائز حمایت شروع کر دیتے ہیں اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تین پہیوں والی خطرناک سواری ہے، جس کے محض ایک موٹر سائیکل کے انجن پرکار سے بھی زیادہ سواریاں لادھ لی جاتی ہیں۔
سڑک پر اسے ڈرائیور اس طرح گھماتے ہیں کہ دوسری گاڑیوں کو بچنا محال ہو جا تا ہے۔ چنگ چی والے ہائی ایس وین کی طرح سواریاں اٹھانے کے لیے اپنے ساتھی ڈرائیورں کے ساتھ دوڑیں لگا رہے ہوتے ہیں ۔پھر ایمر جنسی میں لگائی ہوئی بریک پر اس کا رکنا بڑا مشکل ہوتا اس طرح بریک کے کام کرنے تک کئی بار حادثات ہو جاتے ہیں۔ چنگ چی رکشے میں بظاہر 6سواریاں بٹھانے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن پائیدان سمیت اس موٹر سائیکل رکشے کی ٹینکی پر بھی مسافر بخوشی اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں ۔ جو خود حادثات کودعوت دینے کے مترادف ہوتاہے ۔
چنگ چی کے زیادہ تر ڈرائیور کم عمر ہوتے ہیں جن کی عمریں 14سے لے کر17سال تک ہوتی ہیں، کئی ایک تو اس سے بھی چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں جنہیں 300یا 400روپے دیہاڑی پر رکشے مل جاتے ہیں۔ یہ ڈرائیور اپنی کم عمری کی وجہ سے کسی قاعدے اور قانون کو سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں۔ 18سال سے عمر کم ہونے کی وجہ سے لائسنس حاصل نہیں کر سکتے، روٹ پرمٹ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
اس حوالے سرکاری ہسپتال کی ایمر جنسی میں تعینات عملے ا کہنا تھا چنگ چی رکشوں سے حادثات کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹھیکے پر چنگ چی رکشے چلائے جا رہے ہیں پڑھنے کی عمر کے یہ بچے اپنی کم عمری کی وجہ معاشرے کے لیے مصائب کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔چنگ چی رکشے کو متعارف کیے جانے سے جہاں بے شمار مسائل پیدا کیے ہیں وہیں اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ یہ دن رات کے کسی پہر بھی باآسانی دستیاب ہے۔
پا نچ چھ افراد کی فیملی جو پہلے سینکڑوں روپوں کے منہ مانگے کرائے ٹیکسی ڈرائیور کو مشکل سے قائل کرتی تھی ، اب وہ اس سے کہیں کم کرائے میں چنگ چی کے ذریعے جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے چنگ چی رکشوں نے ایک باقاعدہ کلچر کو فروغ دیا ہے۔ چاروں طرف سے کھلا ہونے کی وجہ سے بڑا ہوا دار ہوتا ہے اس لیے جو بند ٹرانسپورٹ میں گھٹن محسوس کرتے تھے اور ماضی میں سفر کرنے سے کتراتے تھے ان کے لیے بھی چنگ چی کسی رحمت سے کم نہیں ہے۔
دوسری طرف یہ انہی مسافروں کے لیے انتہائی خطر ناک بھی ہے معمولی ہارس پاور کے انجن پر نوکیلے اینگل آئرن کا جنگلا نصب کر کے اس پر سیٹیں لگا دی گئی ہیں جو انسانی جانوں کے لیے کھلا خطرہ ہیں۔ اوور اسپیڈنگ کے باعث یہ رکشے دن رات سڑکوں پر الٹے پڑے نظر آتے ہیں جس کے باعث روزانہ درجنوں افراد زخمی ہوتے یا ان ناعاقبت اندیش رکشا ڈرائیورز کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رہی بات ٹریفک پولیس کی تووہ روایتی طوراپنی جیب گرم کرنے کی فکرمیں مصروف نظرآتی ہے ۔ شہرقائد کی سڑکو ںپرڈیوٹیاں انجام دینے والے ٹریفک وارڈن کواس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہوتی کہ کس چنگ چی میں کتنے افرادسوارہیں اوراس کے ڈرائیورکی عمرکتنی ہے ۔ ان کوتوصرف اپنی جیب میں منتقل ہونے والے مال سے ہی غرض ہوتی ہے۔
دوسری جانب ہمارے اربابِ اختیار نے ہر معاملے میں یہ وطیرہ ہی بنا لیا ہے کہ آغاز میں قانون حرکت میں نہیں آتا بلکہ دانستاً آنکھیں بند رکھی جاتی ہیں جب وہ مسئلہ اپنی جڑیں گہری کر لیتا ہے تو پھر اس پر توجہ دی جاتی ہے اور یہ پہلو تہی اکثر معاشرے کے لیے خاصی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیئے حکومت ایسی فیکٹریوں کے بارے میں قانون سازی کرے جو اس کے لیے موٹر سائیکل سمیت دیگر سامان مینو فیکچر کر رہی ہیں۔
اب جبکہ سڑکوں پرچنگ چی رکشوں کا طوفان ہے اس کے خلاف عدالتوں میں اسے غیر قانونی اور اتھارٹی کے بغیر ثابت کرنا بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ملک میں اس وقت ایسے رکشوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جن کے مالکان اور دیہاڑی داروں نے ہر شہر میں اپنی انجمنیں بنا لی ہیں اور جہاں ان کی مرضی کے خلاف کچھ ہو جائے تو یہ سب اکٹھے ہو کر احتجاج شروع کر دیتے ہیں ، جو اکثر اوقات روڈ ز کو بلاک کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ عوامی مفاد میں انہیں منظم قوانین کے تابع لانا ضروری ہے۔ اگربات کی جائے کراچی شہرکی تولگتا ہے پورے ملک میں موجودرکشائوں کی ایک چوتھائی تعدادشہرقائد کی سڑکو ںپرمادرپدرآزاددوڑرہی ہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر