وجود

... loading ...

وجود

علامہ اقبالؒ اور فرقہ واریت

جمعرات 09 نومبر 2017 علامہ اقبالؒ اور فرقہ واریت


کون نہیں جانتا علامہ اقبالؒ کو مشہور انقلابی شاعر جس نے اپنے کلام میں ہر موضوع کو اس انداز میں بیان کیا گویا سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نہ صرف اردو ادب کے ماہر فن تھے بلکہ ان کو مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر مسلمانوں میں کوئی دو رائے نہیں تو کیوں نہ آج علامہ صاحب کے کلام میں سے اس شعر کو پڑھ کر کچھ غوروفکر کیا جائے جس میں انہوں نے جنت اور ملا کو موضوع بنایا ہے۔ کلیات اقبال کے ایک حصہ بال جبریل کے صفحہ 79پر یہ اشعار درج ہیں۔
میں بھی حاضر تھا وہاں، ضبط سخن کر نہ سکا
حق سے جب حضرت مُلا کو ملا حکم بہشت
عرض کی میں نے الٰہی کر میری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور وشراب ولب کشت
نہیں فردوس مقام جدل و قال واقول
بحث وتکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزی اقوام وملل کام اس کا
اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کنشت
اور اقبالؒ کی یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ اپنے اشعار میں اکثر استعارات استعمال کرتے ہیں جنہیں اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں مذکورہ اشعار میں بھی اقبال نے ایک فیصلہ کن بات کہی ہے کہ جب اللہ نے مُلا کو حکم دیا کہ اسے جنت میں داخل کیا جائے تو تصورات کی دنیا میں اقبال فرماتے ہیں میں بھی وہاں موجود تھا تو میں نے اللہ سے گزارش اے میرے مولا اس مُلا کو جنت میں داخل کرنے کا کوئی سروکار نہیں کیونکہ جنت وہ مقام ہے جہاں جدل، قال، اقول نہیں ہوتا، وہ ایک پرسکون مقام ہے اور یہ مُلا جیسے وہاں سکونت اختیار نہیں کرسکتے کیوں کہ اس مُلا کا کام ہی ہر بات میں جھگڑنا ہے ،بے موقع پر بحث کرنا اس کی عادت ہے اس کا تو کام ہی صرف بحث وتکرار کرنا ہے تو جنت چونکہ تکرار کی جگہ نہیں تو لہٰذا اس بندے کو جنت میں داخل کرنے سے اجتماع ضدین لازم آتا ہے۔ لہٰذا اس کو جنت میں داخل کرنے پر مجھے اعتراض ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے یہ کیسے فرمایا کہ مُلا کو جنت نہ ملے حالانکہ مُلا ہی تو قرآن و حدیث سکھاتا ہے۔ معاشرے کا ہر فرد مُلا سے ہی تو دین سیکھتا ہے پھر آخر کیوں علامہؒ نے مُلا پر اتنی تنقید کی؟ جواب یہ ہے کہ اقبال مرحوم نے حقیقی علماء کرام کو نہیں بلکہ نام نہاد مُلائوں کو موضوع سُخن بنایا ہے پھر علامہؒ نے اس موضوع کو صرف دین اسلام میں قید نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کے نام نہاد دینی پیشوائوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو دین ومذہب کے نام پر کھاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں، یہ بات صرف مذہب اسلام میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مذاہب عالم میں ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں جو خود کو دین کا مذہب ومسلک کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں اور اپنے حلقہ کے افسران کو وہ پٹیاں پڑھاتے ہیں جن میں دوسرے فرقے، دوسرے مذہب ومسلک کے لوگوں کے لیے زہر آلود جملے لکھتے ہوتے ہیں یہ پیشوا حضرات اپنے علاوہ سب کو کافر سمجھتے ہیں پھر مذہب سے نفرت کا درس دیتے ہیں حتیٰ کہ غیر مذہب وغیر مسلک افراد سے ہاتھ ملانا بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں ۔
ہے بدآموزی اقوام وملل کام اس کامطلب ہے اس قسم کے مُلا حصرات اقوام عالم کو بری باتیں سکھاتے ہیں، امت کا شیرازہ بکھیرنے میں لگے رہتے ہیں اپنی تقریروں، تحریروں میں ہمہ وقت ہی درس دیتے ہیں وہ برے ہیں ہم اچھے ہیں، فلاں فرقہ کے ہمارے مذہب سے کوئی تعلق نہیں، فلاں فرقہ واجب القتل ہے، فلاں فرقہ مرتد ہے۔ فلاں گستاخ ہے بس ہمہ وقت نفرت کی آگ بھڑکاتے ہیں ان کا کام صرف فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے، سوال یہ ہے کہ پھر اس قسم کے مُلا حضرات اپنے موقف کو عوام تک کس طرح پہنچاتے ہیں؟ یہ کہاں بیٹھ کر ایسی نفرت انگیز باتیں لوگوں کے کانوں میں بھرتے ہیں تو علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ جنت میں نہ مسجد نہ کلیسا نہ کنشت مطلب اس قسم کے مُلا مذہبی عبادت گاہوں پر قابض ہوتے اور مسجد وکلیسا سے میں بیٹھ کر درس دیتے ہیں اور وہ مسجدیں اور عبادت گاہیں جو فرقہ واریت کاگڑھ بن چکی ہیں ایسی عبادت گاہیں تو جنت میں نہیں ہونگی پھر یہ مُلاّ بیچارہ جنت میں کرے گا کیا؟۔
آج اگر علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کو شدت مذہب سے ہٹ کر ٹھنڈے دماغ سے دور حاضر پر آویزاں کیا جائے تو سو فیصد ایسے مُلاّ دین کے نام لیوا ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو محبت کے بجائے نفرت کا درس دیتے ہیں جو بحث برائے بحث کرتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑ بناکر تکرار کی نوبت تک لاتے ہیں اور حیرت تو یہ ہے کہ وہ خودکو ہی جنت کا وارث قرار دیتے ہیں، باقی تمام فرقوں کو پکا جہنمی تصور کرتے ہیں ،یہ اپنے نظریات میں لامحدود غلو کرتے ہیںگویا کہ کسی کو مسلمان رہنے کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھتے باقی مذاہب کو چھوڑ کر ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو مسلمانوں میں ایسے حضرات بکثرت موجود ہیں جو اپنی رائے اور اختیار سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ جنگ وجدل اور دوسرے ان فروعی مسائل کی بحث میں غلو کے سہارا، علم وتحقیق کا زور اور بحث وتمحیص کی طاقت اور عمر کے اوقات عزیز انہی بحثوں کے نذر کرتے ہیں اگرچہ ایمان واسلام کے بنیادی اور قطعی اجماعی مسائل مجروح ہورہے ہیں، کفر والحاد دنیا میں پھیل رہا ہو سب سے صرف نظر کرکے ان کا علمی مشغلہ یہی فروعی بحثیں بنی رہتی ہیں، ان میں بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز فاسد اور ان کو تارک قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے منکر اسلام کو اسلام کی دی جارہی ہو اور اسی کو دین کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں، معلوم نہیں کہ یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفانوں سے باخبر نہیں یا جان بوجھ کر اغماض کرتے ہیں ان حالات میں کیا ہم پر واجب نہیں کہ ہم غوروفکر سے کام لیں اور سوچیں کہ اس وقت ہمارے آقا نبی کریم ﷺ کا مطالبہ اور توقع اہل علم سے کیا ہوگی؟ اور اگر محشرمیں آپ ﷺ نے ہم سے سوال کرلیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہورہے تھے، میری امت اس بدحالی میں مبتلا تھی تم وارثت نبوت کے دعویدار کہاں تھے؟ تم نے اس وراثت کا کیا حق ادا کیا؟تو کیا ہمارا جواب یہ کافی ہوگا کہ ہم نے رفع یدین پر ایک کتاب لکھی تھی یا کچھ طلباء کو قطبی کے اسباق خوب سمجھائے تھے یا حدیث میں آنے والے اجتہادی مسائل پر ایسی بڑی دلچسپ تقریریں کیں تھیں ۔صحافیانہ زور قلم اور نعرہ بازی کے ذریعے دوسرے علماء وفضلا کو خوب ذلیل کیا تھا۔
قرآن وحدیث میں اس تجاوز عن الحددود کا نام تفرق ہے جو جائز اختلاف رائے سے ایک الگ چیز ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ دین کے قیام کے لیے فرماتے ہیں۔ ان اقیمواالدین ولا تفرقوافیہ ترجمہ دین قائم کریں اور اس میں تفرقہ نہ ڈالیں۔
ہماری تبلیغ ودعوت کو بے کار کرنے، تفرقہ اور جنگ وجدل کی خلیج وسیع کرنے میں سب سے زیادہ دخل اس کو ہے کہ آج کل اہل زبان اور اہل قلم علماء نے عموماً دعوت کے پیغمبرانہ طرق کو نظر انداز کرکے صحافیانہ زبان اور نعرے چسپاں کرنے کو ہی بات میں وزن پیدا کرنے اور مؤثر بنانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور یہ طریقہ دعوت واصلاح کے بجائے دلوں میں دشمنی کے بیج بوتا ہے اور عداوت کی آگ بھڑکاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرقہ واریت سے ہٹ کر دین کا کام انبیاء یا ان کے وارث ہی کرسکتے ہیں جو ہر وقت خود سے مستغنی ہوکر دشمن کی خیر خواہی اور ہمدردی میں لگے رہتے ہیں ان کی گفتار میں کسی مخالف پر طنز وتشنیع کا شائبہ نہیں ہوتا وہ الزام تراشی کا پہلو اختیار نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے تو فرعون جیسے ظالم بادساہ سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا اے موسیٰ وہارون ’’قولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی‘‘ ترجمہ آپ دونوں جب اس فرعون سے بات کرو تو نرمی سے بات کرنا۔
اس وقت دنیا کے ہر ملک میں مسلمان جن مصائب میں مبتلا ہیں ان کا سب سے بڑا سبب آپس کا تفرقہ اور خانہ جنگی ہے ،اگر ہم اسلام کے بنیادی اصول کی حفاظت اور بے دینی کے سیلاب کے دفاع کو اہم مقصد سمجھ لیں تو اس پر مسلمانوں کے سارے فرقے اور تنظیمیں جمع ہوکر کام کرسکتی ہیں۔
لیکن موجودہ دور کے حالات بتاتے ہیں کہ اصل مقصد ہماری بینائی سے اوجھل ہے اس لیے ہماری ساری قوت، علمی تحقیق کا زور آپس کے اختلافی مسائل پر صرف ہوتا ہے ۔آپ مشاہدہ کریں آج کل ہماری تقریریوں، جلسوں، رسالوں، اخباروں میں موضوع سخن کے لیے یہی اختلافی مسائل رہ گئے ہیں ہمارا زور قلم، زار زبان جس قوت سے اختلافی مسائل میں جہاد کرتا ہے اس کا کوئی ایک حصہ بھی ملکی سرحدات اور اصول ایمانی پر ہونے والی یلغار کے مقابلہ میں کیوں صرف نہیں ہوتا۔
آخر وہ وقت کب آئیگا جب ہم اپنے نظریاتی مسائل سے ذرا آگے بڑھ کر اصول اسلام کی حفاظت اور بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح کو اپنا اصلی فرض سمجھیں گے۔
آج علامہ اقبالؒ کی روح تڑپ کر ہم سے سوال کررہی ہے ۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کیا ہی بڑی بات ہوتی جو ہوتے مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہ ہی باتیں ہیں؟
روح اقبال ہم سے سوال کررہی ہے کہ کیا دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ، کارواں کو آگے بڑھانے کے لیے ، صرف فرقہ بندی کی باتیں رہ گئی ہیں ،اسلام کی حفاظت کا بس صرف یہی کام رہ گیا ہے ؟نہیں میرے دوستوں !دشمن اسلام آج ہمارے حالات پر جس طرح خندہ زن اور مسلمانوں کا مذاق اڑارہا ہے وہ اقبالؒ نے اس انداز سے بیان کیا تھا۔
خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں
تمام علماء امت سے میری گزارش ہے خدارا مقصد کی اہمیت اور نزاکت کو سامنے رکھ کر سب سے پہلے تو اپنے دلوں میں یہ عہد کریں کہ اپنی علمی اورعملی صلاحیت اور تعلیم کی طاقت کو زیادہ سے زیادہ اس محاذ پر لگائیں جس کی حفاظت کے لیے قرآن وحدیث آپ کو بلارہے ہیں۔
اپنے اختلافی مسائل کو برائے کرم اپنے حلقہ درس اپنی تصنیف تک محدود رکھیں ،عوامی جلسوں، اخباروں، اشتہاروں اور جھگڑوں کے ذریعے ان کو نہ اچھالیں جو بحث علماء کی شایان شان ہے اس کو عوام میں نہ پھیلائیں ۔ہم آپ کو یہ نہیں کہتے کہ اپنا مسلک چھوڑو بلکہ اپنے مسلک کی باتیں اور نظریات تقریروں، جلسوں میں مت چھیڑو ، فکر امت کرو، دعوت واصلاح کے پیغمبرانہ طریقے اپنائو۔
اگر ہم اس روش پر قائم رہے اور عداوت کو ختم نہ کیا تو معذرت کے ساتھ علامہ اقبال کی یہ بات بے جا نہ ہوگی۔
وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں کہ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
٭٭٭٭٭
مولانا عبیداللہ سندھی نائچ


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر