وجود

... loading ...

وجود

آئی جی سندھ پولیس نے سندھ کابینہ کے چھکے چھڑا دیے

بدھ 01 نومبر 2017 آئی جی سندھ پولیس نے سندھ کابینہ کے چھکے چھڑا دیے

پاکستان کی تاریخ کا یہ عجیب و غریب المیہ ہے کہ اچھی شہرت رکھنے والا آئی جی اے ڈی خواجہ کہتا ہے کہ میں خود کرپشن بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کو کرپشن کرنے دوں گا۔ اور صوبائی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ آپ اگر کرپشن نہیں کرتے تو پھر آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ،آپ مہربانی کر کے سندھ سے چلے جائیں۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو بلایا گیا اور ان سے کہاگیا کہ وہ آکر وضاحت کریں کہ ان کو کیوں نہ ہٹایا جائے؟ حکومت سندھ سمجھ رہی تھی کہ جب آئی جی سے کہا جائے گا کہ ٓاپ گریڈ 21 کے ہیں اوران سے اوپر گریڈ 22 کا ایک افسر سردار عبدالمجید دستی موجود ہے تو آئی جی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا اور یوں حکومت سندھ کا پلڑا بھاری ہوجائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
آئی جی نے چار صفحات پر مشتمل پرزنٹیشن پیش کی تو سندھ کابینہ کے ارکان کے چہرے پھیکے پڑگئے وہ ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے اور دل ہی دل میں کہنے لگے کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن پارٹی قیادت کے حکم پر وہ مجبور ہیں آئی جی نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک آئی جی اور چیف سیکریٹری کے عہدوں کے لیے گریڈ 21 اور گریڈ 22 کے افسران کا تقرر کیا جاتا ہے۔ بلکہ بلوچستان میں گریڈ 22 کے پولیس افسر محمد ایوب قریشی آئی جی تھے ان کو وفاقی اور حکومت سندھ نے ہٹاکر گریڈ 21 کے افسر کو آئی جی بنادیا۔ آئی جی نے کابینہ کے سامنے پوری تفصیل پیش کی اوربتایا کہ اس وقت صرف پنجاب کے آئی جی پولیس گریڈ 22 کے ہیں لیکن جب ان کو آئی جی بنایا گیا تھا تو اس وقت وہ بھی گریڈ 21 میں تھے اور تقرری کے دو ماہ بعد ان کو گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی دی گئی۔
اس وقت آزاد کشمیر، بلوچستان، خیبر پختوانخواہ، پاکستان ریلوے پولیس، موٹروے پولیس کے آئی جی پولیس، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی پولیس اکیڈمی سمیت گیارہ اہم عہدوں کے سربراہ گریڈ 21 کے افسران ہیں۔ اسی طرح چیف سیکریٹری بھی گریڈ 21 اور 22 کے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ میں بھی 2005 سے 2017تک 12 برسوں میں 17 آئی جی پولیس کا تقرر کیا گیا جس میں سے 14 آئی جی گریڈ 21 کے تھے تو کیا ان کا تقرر بھی او ن پے اسکیل (او پی ایس) کے تحت کیا گیا تھا؟ ایسا نہیں ہے ان کا جب تقرر کیا گیا تھا تو اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے باہمی طریقوں سے تقرری عمل میں آئی تھی، انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے 9 ستمبر اور سپریم کورٹ کے انیتا تراب کیس کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت سینیئر افسر کو جب کسی اعلیٰ عہدے پر مقرر کیا جائے تو اس وقت تک ان کو نہ ہٹایا جائے جب تک کوئی سبب نہ ہو اور وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ کے 9 ستمبر کے فیصلے میں تفصیلی فیصلہ دے دیا ہے۔ اس کے بعد بھی ان کو ہٹانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
آئی جی نے چار صفحات کی پرزنٹیشن کیا پیش کی حکومت سندھ کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ بتائی گئی تاریخی باتوں کو جھٹلاتا یا پھر اپنی طرف سے نئی چیزیں شامل کرتا لیکن سندھ کابینہ کے ارکان کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ تھا وہ تو کٹھ پتلی ہیں،اس کی ڈوریاں پارٹی قیادت اور ان کے کاروباری شراکت دار کے پاس ہیں اور وہ جیسے ڈوریاں ہلاتے ہیں صوبائی حکومت ایسا ہی کرتی ہے۔ آئی جی سندھ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ میں پولیس میں بھرتیاں ایپکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں میرٹ پر کروں گا کسی سے ایک روپیہ نہیں لوں گا۔ حکومت سندھ اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اور ان کے کاروباری شراکت دار کہتے ہیں کہ یہ ہمیں منظور نہیں ہے ۔آپ ان بھرتیوں سے اتنے پیسے لو کہ خود بھی کھائو اور ہمیں بھی کھلائو ورنہ چلتے بنو ہمیں ایسے بندے کی قطعی ضرورت نہیں ہے جو نہ خود کھائے اور نہ ہمیں کھانے دے۔ پھر آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس میں جو ٹھیکے ہوتے ہیں وہ صاف شفاف طریقے سے دیتے جائیں گے اور جو سالوں سے ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے اور غیر معیاری اشیاء فراہم کررہے تھے ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا ،تو حکومت سندھ اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اور ان کے کاروباری شراکت دار کہتے ہیں کہ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ برسوں سے جو سسٹم چل رہا ہے اور جو ٹھیکیدار نام بدل کر کام کررہے ہیں ان کو ہی چلنے دیا جائے صاف شفاف ٹھیکے ہوں گے تو کیا ہم بھوک سے مریں گے؟ آئی جی تہیہ کرتا ہے کہ پولیس افسر ان کی پوسٹنگ میرٹ پر ہوگی۔ خوشامدی افسران کو اہم عہدے نہیں دیئے جائیں گے تو حکومت سندھ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اور ان کے کاروباری شرکت دار کہتے ہیں کہ پاگل ہوگیا ہے کیا؟ جو افسران جی حضوری میں آگے نکل چکے ہیں۔ جو روزانہ آکر حاضری دیتے ہیں کیا ہم اتنے گئے گذرے ہیں کہ خوشامد رکرنے والے افسران کو بھول جائیں؟ اب یہ ایک تاریخ لکھی جائے گی کہ ایک آئی جی اچھا کام کرنا چاہتا تھا مگر صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت، ان کے کاروباری شراکت دار انہیں اچھا کام کرنے نہیں دیتے تھے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر