وجود

... loading ...

وجود

چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

جمعرات 14 ستمبر 2017 چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات!

پاک چین آزاد تجارتی معاہدے پر پاکستان کو شدید تحفظات لاحق ہوگئے ہیں ،صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ خود وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان رواں ماہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سیکریٹری سطح کے مذاکرات کے دوران چینی حکام کو آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو کم از کم باہمی اصولوں کی بنیاد پر دوبارہ فعال کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔وز راتِ تجارت کی جانب سے سامنے آنے والے اس اقدام کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے عدم توازن پر قابو پانا ہے۔وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان موجودہ ایف ٹی اے کے تحت چین سے ابتدائی پیداوار کے پروگرام کا مطالبہ کرے گا جس میں پاکستان کی برآمدات کے مفاد کے لحاظ سے 100 مصنوعات شامل ہیں۔مذاکراتی ٹیم نے وفاقی وزیر کو چین اور تھائی لینڈ کے ساتھ ہونے والے تجاتی معاہدوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی تھی۔یہ بریفنگ رواں ماہ 14 اور 15 ستمبر کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے میں ہونے والے مذاکرات کے آٹھویں دور کی تیاری کا حصہ تھی۔سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگا سیکریٹری سطح کی بات چیت میں پاکستانی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین نے خطے میں دوطرفہ اور کثیرالملکی ایف ٹی اے پر دستخط کر رکھے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ترجیحات کو کم کردیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ چین اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مابین ہونے والے معاہدوں نے پاکستان کے ترجیحاتی معاہدوں کی اہمیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ چین ایف ٹی اے کے تحت 3.5 فیصد ڈیوٹی پر پاکستان سے سوت درآمد کر رہا ہے جبکہ بھارت سے بغیر کسی معاہدے کے اسی ڈیوٹی پر سوت درآمد کر رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے چین کے ساتھ ایف ٹی اے تقریباً بے کار ہے، تاہم وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے کئی تجاویز تیار کی ہیں جو مذاکرات کے آئندہ دور میں پیش کی جائیں گی۔
اعدادوشمار کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے متجاوز کرچکاہے،پاکستان کا اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔مالی سال 16-2015 کے دوران چین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم 6.223 ارب ڈالر رہا اور اس کی وجہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین کو پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں کمی اور چینی مصنوعات کی درآمد میں مسلسل اضافہ ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی چین کے ساتھ ہونے والی تجارت کا مجموعی حجم 10.029 ارب ڈالر رہا جن میں 1.903 ارب ڈالر کی برآمدات اور 8.126 ارب ڈالر کی درآمدات شامل ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہونے کے باوجود چین سے تجارت پاکستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہورہی تاہم پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سب سے زیادہ چین سے ہی آرہی ہے۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ بھی پاکستان کے تجارتی خسارے کا حجم گزشتہ مالی سال کے دوران 4.941 ارب ڈالر رہا۔ پاکستان نے یو اے ای سے 6.021 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ محض 1.080 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، گزشتہ برس یو اے ای کے ساتھ پاکستان کی درآمدات اور برآمدات دونوں ہی میں کمی واقع ہوئی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے بیجنگ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو پاکستانی معیشت کا چین پر حد سے زیادہ انحصار نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران غیر متوقع طور پر ہونے والے تجارتی خسارے کی وجہ سے پاکستان کو خسارہ پورا کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کو استعمال کرنا پڑا۔ 16-2015 میں پاکستان میں ترسیلات زر کی آمد کا حجم 20 ارب ڈالر رہنے کے باوجود کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2.5 ارب ڈالر رہا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کو دورہ چین سے قبل اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جبکہ وزارتِ تجارت، پاک چین تجارتی معاہدے کو مزید فائدہ مند بنانے کے لیے دفترخارجہ سے بھی مدد لے گی۔ وزارتِ خزانہ کے ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستان ایف ٹی اے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں دستخط نہیں کرسکتا، کیونکہ پاکستان کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر معاہدے پر دستخط ہوگئے تو پاکستان پر چین سے مزید درآمدات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔دوسری جانب بیجنگ حکام ایف ٹی اے کے تحت پاکستانی برآمدات کے لیے ترجیحی معاہدوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد کے مطالبات ماننا نہیں چاہتے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے ایف ٹی اے مذاکرات میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاہدے کو پاکستان کے حق میں لانے کے لیے بھر پورطریقے سے محنت کریں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان نے چینی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کردیا گیاہے جبکہ چین نے بھی پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی کو 40 فیصد سے کم کر کے صفر فیصد تک کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں کودونوں ملکوں کے عوام کے لیے زیادہ مفید بنانے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی کے ساتھ ہی چین کے ساتھ ہونے والے سروسز کے معاہدوں پر بھی نظر ثانی کر رہے ہیں۔وزارتِ تجارت کی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیاگیاہے کہ پاکستان ایف ٹی اے معاہدے کے پہلے مرحلے میں چین کی جانب سے دی جانے والی رعایات کو بہتر طریقے سے استعمال نہیں کرسکا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 253 ٹیرف لائن کی برآمدات کیں جن کی اوسط قیمت 5 سو امریکی ڈالر یا اس سے زائد تھی جو کہ چین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی 7 ہزار 5 سو 50 ٹیرف لائن کی رعایات کا کْل 3.3 فیصد حصہ تھا۔چین کو برآمد کی جانے والی مصنوعات میں کاٹن، سوت اور کپڑے وغیرہ شامل تھے تاہم اس رعایتی معاہدے میں گارمنٹس کی مصنوعات کی شمولیت کے باوجود برآمدات میں اضافی مصنوعات کی قیمت موجود نہیں تھی۔
وفاقی وزیرِ تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ ایف ٹی اے معاہدہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ ان معاہدوں میں پاکستان کی مقامی صنعتوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تھائی لینڈ پاکستان کے چاول اور آٹو سیکٹر کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر