وجود

... loading ...

وجود

کراچی دنیا کے قابل رہائش 140 شہروں میں سے 134 ویں نمبر پر

پیر 28 اگست 2017 کراچی دنیا کے قابل رہائش 140 شہروں میں سے 134 ویں نمبر پر

کراچی کہنے کو تو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے لیکن رہنے کے زیادہ قابل نہیں ۔ اکنامکس انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کی جانب سے گزشتہ دنوں میں شائع ہونے والی گلوبل لوایبلٹی رپورٹ (رہنے کے قابل شہروں کی رپورٹ) میں 140 شہروں میں استحکام، صحت کی سہولتوں ، ثقافت اور ماحول، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال جاننے کے لیے 30 مقداری اور معیاری خاصیتوں پر مبنی ایک معیار ترتیب دیا گیا اور پھر شہروں کو اس معیار پر پرکھتے ہوئے ان کی درجہ بندی کی گئی اس درجہ بندی کے مطابق کراچی 140 شہروں میں سے 134 نمبر پر رہا۔
کراچی والوں کے لیے ای آئی یو کی درجہ بندی شاید ہی حیرانی کا باعث بنے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے شہر میں رہائش پزیر ہیں جو امن و امان کو قائم رکھنے یا پھر قابل بھروسا میونسپل سروسز، جن میں پانی، صحت و صفائی، سرکاری ٹرانسپورٹ، اور پارکس اور تفریحی سرگرمیاں شامل ہیں ، فراہم کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ای آئی یو درجہ بندی کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو کراچی کی خراب رینکنگ کی اہم وجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ کراچی کو استحکام کے لیے 100 میں سے 20 نمبر ملے۔ یہاں تک کہ زمبابوے کے شہر ہرارے، جہاں 2008 میں شرحِ گرانی (hyperinflation) کا تخمینہ 79.6 ارب فیصد لگایا گیا تھا، کو بھی استحکام کے لیے 40 نمبر ملے، جو کہ کراچی کے مقابلے میں دگنے نمبر ہیں ۔
استحکام کا اندازا لگانے کے لیے مندرجہ ذیل اشاریوں کو شامل کیا گیا: معمولی اور پرتشدد جرائم کا پھیلاؤ، دہشت گردی یا پھر فوجی تصادم کے خطرے، اور شہری بدامنی کا خطرہ۔ کراچی میں یہ سب نظر آتا ہے۔نسلی، سیاسی اور فرقہ وارانہ دراڑیں شہر کو معاشی ترقی کرنے ہی نہیں دیتیں ۔ یہ دراڑیں خود بھی کراچی کو رہنے کے قابل شہروں کی فہرست میں سب سے نیچے رکھنے کی ذمہ دار ہیں ، اگرچہ پوری نہ بھی ہوں لیکن کم از کم نصف ذمہ دار تو ضرور ہیں ۔
آج کراچی کو جن چیلنجز کا سامنا ہے انہیں بہتر انتظامی نظام سے حل کیا جاسکتا تھا۔ مثلاً، جیسے اداروں کے درمیان تصادم کی وجہ سے شہر میں امن و امان اور ماحول کے بگڑتے حالات مکمل طور پر نظر انداز ہیں ۔سندھ کی صوبائی حکومت پولیس چیف اے ڈی خواجہ سے لڑائی میں مصروف ہے۔ حکومت چیف بدلنا چاہتی ہے اور چیف اپنے عہدے پر فائز رہنے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں ۔ یوں جرائم اور جرائم پیشہ افراد کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے۔
80 کی دہائی سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال صرف بد سے بدتر ہی ہوئی ہے۔ پولیس اور دیگر سول حکومتی ادارے کراچی میں نارمل حالات بحال کرنے میں ناکام ہوئے ہیں ۔ جبکہ پرتشدد جرائم سے نمٹنے کے لیے نیم عسکری ادارے، پاکستان رینجرز (سندھ)، کو آگے کر دیا گیا ہے۔حتیٰ کہ جب پولیس کچھ کرنے کے لیے آگے بھی بڑھی تو مسائل کا بہتر حل ڈھونڈنے کے بجائے غلط اقدامات اٹھائے گئے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ لڑائی میں مصروف انہی پولیس چیف نے دو مشتبہ ڈکیتوں کو گولی مار کر قتل کرنے والے شخص کو 50 ہزار روپے کا انعام دے کر ماورائے قانون اقدامات کو فروغ دیا تھا۔
کراچی غالباً دنیا کا واحد شہر ہے اور اس پر بدنامی کا یہ داغ بھی ہے کہ یہاں کے39 فوجداری مقدمات میں ملوث میئر نے جیل میں بیٹھ کر شہری انتظامات سنبھالے اور وہ نومبر 2016 میں ضمانت پر رہا ہوئے۔کراچی اتنا بڑا اور پیچیدہ ہے کہ یہاں کے انتظامات کو ایک شہر کی طرح سنبھالنا ممکن نہیں ۔ بروقت مردم شماری نہ ہونے سے کراچی کی آبادی کا درست اندازہ دستیاب نہیں ۔ آخری بار مردم شماری 1998 میں ہوئی جس میں شہر کی آبادی 93 لاکھ ریکارڈ کی گئی جبکہ سالانہ شرح افزائش 3.5 فیصد تھی۔ اگر انہی اعداد کو فرض کیا جائے تو آج آبادی کا تخمینہ 1 کروڑ 70 لاکھ لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ اگر شرح افزائش 4 فیصد ہو تو یہ آبادی 2 کروڑ ہوگی۔
اگر کراچی ایک ملک ہوتا تو یہ دنیا میں 60 واں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہوتا اور رومانیہ اور سری لنکا جیسے ممالک میں شمار کیا جاتا۔اتنی بڑی آبادی والے ممالک کو ٹیکس محصولات کا ایک بہت ہی بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے، وہاں کراچی میں فنڈز کی انتہائی تنگی میونسپل فرائض کی پوری طرح انجام دہی کافی مشکل بنا دیتی ہے۔
کراچی کو ایک میونسپلٹی کے برابر نہیں بلکہ ایک ملک کے برابر محصولات درکار ہیں ۔ اگر ایک کے بعد ایک حکومتیں کراچی کو ایک میونسپلٹی کے طور پر لیتی رہیں تو یوں وہ کراچی کو رہنے کے قابل شہروں کی فہرست میں سب سے آخری نمبر تک پہنچا دیں گی۔
کراچی کی خراب صورت حال کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ اب بھی دور رس انتظامی تبدیلیاں لا کر کراچی کو سنبھالنے لائق بنایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے کراچی کو ایک خودمختار شہری ریاست کا درجہ دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جس کو وسائل اور انتظامی نظام پر پورا اختیار حاصل ہو۔ شاید کراچی کو انتظامی طور پر سندھ سے علیحدہ کرنے کی بھی ضرورت پڑ جائے تا کہ کراچی کو ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا حصہ طلب کرنے میں آسانی ہو۔اب ذرا اس بات پر غور کریں ۔ سندھ کی آبادی تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ ہے۔ صرف تنہا کراچی کی آبادی 2 کروڑ ہے، جو کہ صوبے کی آبادی کا 36 فیصد ہے اور ملکی آبادی کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ بلکہ اگر زیادہ سہل انداز میں بات کریں ، تو میں یہاں تک بھی کہوں گا کہ کراچی 36 فیصد صوبائی اور 10 فیصد قومی ٹیکس محصولات کا مستحق ہے۔
پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تخمینہ 284 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے اور وفاقی ٹیکس محصولات کا تخمینہ قومی پیداوار کا 10 فیصد یا پھر 28.4 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ اگر کراچی کی آبادی ملکی آبادی کا 10 فیصد ہے، پھر اس طرح تو کراچی کو صرف وفاقی فنڈز کی مد میں 2.84 ارب ڈالر ملنے چاہیے۔
جون کی ابتدا میں کراچی کے میئر نے 2017 ۔ 2018 کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کی مجموعی رقم 27 ارب 13 کروڑ 50 لاکھ روپے (تقریباً 27 کروڑ ڈالرز) تھی۔ اگر کراچی کو وفاقی ٹیکس محصولات کا 5 فیصد حصہ بھی ملتا تو وہ رقم تقریباً ایک ارب 42 کروڑ ڈالر بنتی ہے، جو کہ اس موجودہ میونسپل بجٹ کی رقم سے 5 گنا زیادہ بڑی رقم ہوتی۔ اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ جب تک کراچی کو اس کے وسائل پر پورا اختیار اور آبادی کے لحاظ سے ٹیکس محصولات کا ایک بڑا حصہ نہیں مل جاتا تب تک یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا اور دنیا کی ایک سب سے بڑی شہری کچی بستی بنتا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر