وجود

... loading ...

وجود

محکمہ تعلیم میں جعلی ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ

بدھ 23 اگست 2017 محکمہ تعلیم میں جعلی ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ

سندھ میں 2008 کے بعد سے لے کر اب تک جو نا انصافیاں اوربے ضابطگیاں پیپلز پارٹی کے ادداورحکومت میں ہوئی ہیںایسی شاید مارشل لا دور میں بھی نہیں ہوئی ہونگی۔ اس دورمیں متعددسرکاری محکموں میں جعلی بھرتیاں کی گئیں خصوصا محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات میں تواندھیرنگری ہی مچادی گئی ۔مال بنانے کے لیے ان محکموں میں اندھادھندجعلی بھرتیاں کی گئیں اوراوپرسے لے کرنیچے تک سب نے اپنی جیبیں بھریں ۔ اورپھران کولٹکاکررکھاگیااب جعلی ملازمین کی برطرفیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔اس حوالے سے صوبہ سندھ کے کم از کم 25 ہزار خاندان اس لیے پریشان ہیںکہ ان کے خاندان کے کسی ایک فرد نے محکمہ تعلیم یابلدیات میں نوکری کے حصول کے لیے کم از کم 5 لاکھ روپے فی کس ادا کیے تھے۔ اس لحاظ سے اداکی جانے والی رشوت کی رقم تقریبا 12 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقم تو صوبائی وزراء اور افسران کے پیٹوں میں چلی گئی لیکن جن بے روز گارر نوجوانوں کو ملازمتوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ان کو نوکری کا کوئی آرڈرملا نہ ہی ابھی تک کوئی تنخواہ اُنہیں مل سکی ہے ۔ اور وہ بے چارے عدالتوں اور محکموں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ وہ کس کے در پر جاکر فریاد کریں۔
اس بات میں اب کوئی شک باقی نہیں رہاکہ سندھ میں صرف دوہی اصل حاکم ہیں ۔ایک آصف زرداری، دوسری فریال تالپر، باقی سب ان کے ماتحت ملازم ہیں ۔خود وزیراعلیٰ کی حیثیت بھی ان کے ذاتی ملازم جیسی ہی ہے۔ جعلی نوکریوں کے عوض وصول کی گئی رقم کے گزشتہ آٹھ سال کے اگر سود کاہی حساب لگالیاجائے تو وہ بھی کروڑوں روپے کا ہوگا۔ لیکن جن کاضمیر نہیں ہے وہ اسی طرح لوگوں کو خوار کریں گے ۔ نیب ویسے تو ہر چھوٹے بڑے کی پگڑی کو اچھالتی ہے لیکن سندھ میں نیب کے پر جل جاتے ہیں۔ نیب نے پیر مظہر الحق اور آغا سراج درانی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ پیر مظہر الحق کو محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کے اسکینڈل سے ہی بری کر دیا ہے ۔جب اصل ملزم ہی بری ہوجائے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے؟ جب پیر مظہر ہی ملازمتیں دینے سے بری ہوگئے تو پھر ماتحت افسران کا کیا قصور ہے؟ اور آغا سراج درانی پر کیسے ہاتھ ڈالا جائے گا؟ تبھی تو کہا جاتا ہے کہ قومیں صرف نا انصافی کے باعث تباہ ہو جاتیں ہیں۔ جب انصاف نہیں رہے گا تو پھر معاشرہ کس طرح آباد رہے گا ۔نیب نے ویسے تو بڑی باتیں کی ہیں لیکن جعلی بھرتیوں کے کیس میں پیر مظہر اور آغا سراج درانی پر ہاتھ نہ ڈال کر انصاف کا بیڑا ہی غرق کر دیا گیا ہے۔
خیر اب تو حکومت سندھ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں 20 ہزار جعلی بھرتیوں کو مسترد کر دیں گے یعنی جن کو جعلی آرڈر ملے اب ان کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔ اور یہ آخری امید بھی بے روزگاروں کی ٹوٹ جائے گی۔ اب تک تو ان بے چاروں کو آسرا تھا کہ کبھی نہ کبھی ان کو عدالتوں کی جانب سے بحال کردیا جائے گا لیکن اب یہ سہارا بھی باقی نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ ایک نیا فیصلہ منظور کیا گیا ہے کہ 20 ہزار ملازمین کو برطرف کرکے 12 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ دوسرے لفظوں میں جن بے روزگاروں نے پہلے پیسے دے کر ملازمتیں حاصل کی تھیں ان پر ’’رحم‘‘ کھا کہ ان کو ملازمت پر اس لیے بحال نہیں کیا جا رہا کیونکہ وہ دوبارہ ملازمت کے لیے پیسے نہیں دیں گے۔ اس لیے نئے لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی نئی ملازمت کے لیے پیسے دیں اور ملازمت حاصل کریں اور پھر وہ اگر تنخواہ نہ لے سکیں تو تازہ دم ہو کہ عدالتوں کے چکر کاٹتے رہیں۔ ان کو دام میں پھنسانا آسان ہوگا ۔
حکومت سندھ کے پاس کوئی منطق بھی نہیں رہی کہ ان 20 ہزار ملازمین کو کیوں نکالا جا رہا ہے؟ ان کو مستقل کیوں نہیں کیا گیا؟ اور پھر نئی ملازمتیں دینے کا کیا مقصد ہے؟ مگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق حکومت سندھ کی اپنی نرالی منطق ہے۔ محکمہ تعلیم کا پہلے پیر مظہر نے بیڑا غرق کیا اور باقی جو کسررہ گئی تھی وہ آصف زرداری کے بہنوئی ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے پوری کی جنہوں نے 5 ہزار نئی بھرتیاں کیں۔ 2500 سرکاری اسکول غیر سرکاری افراد یا تنظیموں کو فروخت کیے، کروڑوں روپے کے فنڈز غیر قانونی طور پر نکلوائے ۔غیر ملکی فنڈز سے جو رقم ملتی تھی وہ بھی چالاکی سے اپنے جیب میں رکھ لی۔ اس طرح محکمہ اسکول ایجوکیشن کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں پچھلے آٹھ سال سے ہزاروں بے روز گار نوجوان اس آس میں بیٹھے ہیں کہ ان کو تنخواہیں ملیں گی مگر حکومت سندھ نے ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے ان کو مایوسی ہوئی ہے۔ اس وقت سیکریٹری تعلیم عبدالعزیز عقیلی اپنے بھائی کا ایک پروجیکٹ میں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں سالانہ اربوں روپے کی مالی امداد آتی ہے اور من پسند افراد کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ایسے منصوبے جس سے تعلیم کو کوئی فائدہ نہیںہوتا اس کے لیے ہر سال اربوں روپے کا قرض کیوں لیا جاتا ہے؟ اس حوالے سے بھی کوئی نہیں پوچھتا۔
پچھلے دنوں ایک حقیقت پسند کنٹریکٹ افسر اصغر سومرو نے میڈیا میں آکر سوال پوچھا کہ جب اربوں روپے قرض لے کر سرکاری اسکولوں میں حاضری نہیں بڑھائی گئی اور اضافی بچے سرکاری اسکولوں میں داخل نہیں ہوئے تو پھر دوبارہ کیوں قرض لیا جارہا ہے بس پھر کیا ہوا؟ اصغر سومرو کا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا ان کو پیغام دیا گیا کہ ان کی یہ مجال کہ وہ حاکموں سے سوال کریں؟ وہ تو شریف آدمی تھے خاموشی سے گھر چلے گئے اگر ان کی جگہ کوئی سرپھرا ہوتا تو وہ عدالت چلا جاتا پھر عدالتوں میں ہوشربا انکشافات ہوتے۔ کئی چہروں سے نقاب اُتر جاتے کئی اصل چہرے سامنے آتے، کرپشن کی داستانیں سامنے آتیں لیکن اصغر سومرو ایک نفیس، شریف اور شائستگی والے انسان ہیں اس لیے انہوں نے گند میں پتھر مار کر بدبو نہیں پھیلائی بلکہ مافیا کو ہی گندگی میں چھوڑ دیا ۔ ان کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے کیونکہ اوپر بیٹھے ہوئے لوگوں میں جوجتنابڑا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں وہ اتنا ہی کرپٹ اور چور ہے۔پہلے نیب کاڈر خوف تھا اب وہ بھی نہیں رہا۔ نئی ملازمتوں کے لیے ایجنٹ مافیا سرگرم ہوگئی ہے اور وہ بے روزگار نوجوانوں سے پیشگی رقومات بھی لے رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر