وجود

... loading ...

وجود

سیاسی جماعتوں کے خواتین سے اپنائے جانے والے رویے ماضی ‘ حال اور مستقبل کا جائزہ

منگل 08 اگست 2017 سیاسی جماعتوں کے خواتین سے اپنائے جانے والے رویے ماضی ‘ حال اور مستقبل کا جائزہ

انسانی تاریخ میں ہمیشہ عورت عتاب کاشکار رہی ہے اور جب کائنات تخلیق ہوئی تو پہلا قتل بھی ایک عورت کی وجہ سے ہوا عورت اس کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے۔ عورت کی وجہ سے ہی یہ دنیا حسین اور پرکشش ہے اگر عورت کا وجود نہ ہو تو شاید کائنات کا وجود ہی ختم ہوجائے پیارے پاکستان کے قیام کے وقت محمد علی جناح کے ساتھ بھی خواتین کھڑی ہوگئیں ۔فاطمہ جناح اور رعنا لیاقت ایسی حوصلہ مند خواتین تھیں جو آنے والی خواتین کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتی تھیں قائداعظم اور خانزادہ لیاقت علی خان نے دونوں خواتین کو صف اول میں لاکر آنے والی نسلوں کے لیے پیغام دیا کہ اس ملک کی ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا بھی اہم کردار ہوگا۔ پھر آگے چل کر محترمہ فاطمہ جناح نے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا اور حقیقت میں وہ اس الیکشن میں کامیاب بھی ہوگئی تھیں لیکن وقت کے ڈکٹیٹر ایوب خان نے ان کے خلاف غلیظ بہتان بازی کی اور دھاندلی کرکے ان کو ہروادیا اور خود ہی کامیاب بن کردس سال تک حکومت کرتا رہا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ کا گورنر بنایا پھر بھٹو کے دور میں ہی بیگم نصرت بھٹو بھی متحرک خاتون اول کے طور پر پہچان بناچکی تھیں ضیاء الحق کے دور میں محترمہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کوگرفتار کیاگیا ان کو سینٹرل جیل سکھر میں بند کیاگیا ۔دادو کی کلثوم چانڈیو صرف15برس کی تھیں مارشل لاء کے خلاف مظاہرہ کیا تو ان کو بھی گرفتار کیاگیا ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران درجنوں خواتین جیلوں میں گئیں پھر88ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت آئی تو نوابشاہ سے منتخب ہوئے والے ایم پی اے رحیم بخش جمالی کے ہاتھوں ایک لیڈی ڈاکٹر فوزیہ بھٹو قتل ہوئیں محترمہ نے رحیم بخش جمالی کوگرفتار کرنے کا حکم دیا یوں وہ جیل چلاگیا اورطاقت کے بل بوتے رہا بھی ہوگیا۔ لیکن قدرت کاانتقام اپنی جگہ ایک حقیقت ہے دنیا نے دیکھاکہ کئی سال بعد وہی رحیم بخش جمالی نوابشاہ میں ایک مسجد میں نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں قتل کردیاگیا۔90ء میں نوازشریف کی حکومت آئی سندھ میں جام صادق وزیراعلیٰ اور عرفان مروت مشیر داخلہ بنے تو انہوں نے خواتین کے لیے زمین تنگ کردی شہلا رضا اور راحیلہ ٹوانہ کو گرفتار کرکے سی آئی اے سینٹر صدر میں بدترین تشدد کیاگیا اس دورمیں بیگم نصرت بھٹو پر لاٹھی مار کرتشددکیاگیا جس سے ان کا سر پھٹ گیا محترمہ بینظیر بھٹوپر بھی حملہ کیاگیا مگر اعتزاز احسن اور فاروق لغاری نے آگے آکر ان کو بچالیا اس دور میں محترمہ کی سہیلی وینا حیات کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔
1993ء میں پی پی پی کی حکومت آئی تو المرتضیٰ پر فائرنگ کرکے بیگم نصرت بھٹو کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی مگر ایک کارکن شاہد رند آگے آگئے اور گولی اپنے سینے میں کھاکر موت کو گلے لگایا مگر بیگم نصرت بھٹو کے سامنے ڈھال بن گئے اس دور میں ایم کیوایم کے اسامہ قادری کو گرفتار کیاگیا ان کو رہا کرنے کے لیے ان کی ضعیف والدہ فیروزہ بیگم کو زبردستی صوبائی وزیر بنادیاگیا مگر جب انگریزی اخبار کے کالم نویس ارد شیرکا ؤس جی نے کالم لکھا اور چیف جسٹس آف پاکستان سید سجاد علی شاہ نے از خود نوٹس لیا تو فیروزہ بیگم نے استعفیٰ دے دیا اور واپس ایم کیوایم میں چلی گئیں ۔1997ء میں پھر نوازشریف کی حکومت آئی تو ایک مرتبہ پھرمحترمہ بینظیر بھٹوزیرعتاب آگئیں کے ای ایس سی کے ایم ڈی ملک شاہد حامد کو دن دہاڑے قتل کیاگیا ان کی اہلیہ بیگم شہناز حامد تن تنہا مقدمہ عدالتوں تک لے گئیں ایم کیوایم نے انہیں تنگ کرنے‘ ڈرانے‘ دھمکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیاگیا مگر وہ چٹان کی طرح جم کر مقابلہ کرتی رہیں اوربالآخر 17 سال کی طویل جدوجہد کے بعد صولت مرزا کو پھانسی پر لٹکانے میں کامیاب ہوئیں اسی دور میں حکیم سعید کو بھی قتل کیاگیا لیکن قاتلوں نے حکیم سعید کی منہ بولی بیٹی سعدیہ راشد کو دھمکیاں دیں یوں وہ کیس سے پیچھے ہٹ گئیں پھر پرویزمشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سب سے پہلے نوازشریف کی بہادر اہلیہ کلثوم نواز کو تشدد کا نشانہ بنایا حتیٰ کہ ایک مرتبہ ان کی کار کو لفٹر سے اٹھادیاگیا اس دور میں بھی کئی معاشقے منظر عام پر آئے مگر ڈکٹیٹر نے ان کودبادیا پھر اسی فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں عالم اسلام کی پہلی خاتون و زیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو قتل کردی گئیں اور ان کے قاتلوں کو آج تک سزا نہیں ہوئی پھر پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تو وہ بھی اپنی قائد محترمہ بینظیر بھٹو کا کیس بھول گئیں تاہم اس دور میں ماڈل ایان علی کی ایوان صدر سے قربت کی خبریں منظر عام پر آئیں اب دوبارہ مسلم لیگ نون کی حکومت ہے اور سندھ میں دوسری مرتبہ پی پی نے حکومت بنائی ہے۔ اس وقت سندھ کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں ہیں ایک وزیر بیگم شمیم ممتاز تھیں ان کو بھی وزارت سے ہٹاکر مشیربنادیاگیا سندھ اسمبلی میں امداد پتافی جیسے وزیر نے بیہودہ زبان استعمال کرکے نصرت سحر عباسی کی توہین کی جب بختاور‘ آصفہ نے مذمت کی تو بلاول بھٹو زرداری نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تو امداد پتافی نے شرمندگی میں دوپٹہ لے جاکر نصرت سحر عباسی کو اوڑھایا اور بہن کا درجہ دیا اب ایک مرتبہ پھر ایک خاتون عائشہ گلالئی نے عمران خان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بیہودہ پیغامات بھیجے ہیں ماروی میمن نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے ان کو بھی ایسے پیغماات بھیجے تھے لاہور میں عائشہ احمد ملک چیخ رہی ہیں کہ حمزہ شہباز نے ان سے شادی کی مگر اب
ان کو حق مہرنہیں دے رہا یہ سارے قصے بتاتے ہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں کتنی بالغ اور سنجیدہ ہیں ؟
زین العابدین


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر