وجود

... loading ...

وجود

امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران

جمعه 17 اپریل 2026 امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران

منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ، مگر
اس ساری ہنگامہ خیزی کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اپنی حکومت اپنی ہی عوام کے بنیادی مسائل سے نظریں چرا رہی ہے ۔ بلاشبہ
پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اندر عوام بدترین
معاشی اور توانائی بحران کا شکار ہیں۔ بجلی، گیس اور مہنگائی جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں جینا ایک مسلسل
جدوجہد بن چکا ہے ۔
پاکستان میں اس وقت بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیداوار محض 13500 میگاواٹ ہے ، جس کے نتیجے میں 4500 میگاواٹ کا واضح شارٹ
فال سامنے آ رہا ہے ۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ توانائی کا نظام نہ صرف دباؤ کا شکار ہے بلکہ اس میں بنیادی اصلاحات کی
شدید ضرورت ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اپریل جیسے نسبتاً معتدل مہینے میں بھی لوڈشیڈنگ کی شدت اس قدر زیادہ ہے ، جب کہ عام طور پر
اس مہینے میں بجلی کی طلب گرمیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے ۔
ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ شہری علاقوں میں 15 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش
معمول بنتی جا رہی ہے ، جبکہ دیہی اور نواحی علاقوں میں یہ دورانیہ 20 گھنٹے تک جا پہنچا ہے ۔ یہ صورتحال نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ
کاروباری طبقے کے لیے بھی شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہے ۔ چھوٹے کاروبار، دکانیں، ورکشاپس اور صنعتیں سب متاثر ہو رہی ہیں،
جس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ لوگ بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولت سے محروم
ہیں، جس سے عوامی غصہ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
یہ منظرنامہ ماضی کی یاد تازہ کر رہا ہے ، خصوصاً 2011 کا وہ دور جب ملک بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار تھا اور روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی غائب
رہتی تھی۔ آج ایک بار پھر وہی حالات سر اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی خاطر
خواہ سبق نہیں سیکھا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پیک آورز میں محدود دورانیے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے ، مگر حقیقت اس کے
برعکس ہے اور غیر اعلانیہ بندشوں نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔بجلی کے بحران کی وجوہات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں
ہیں۔ بجلی چوری اور لائن لاسز اس مسئلے کی سب سے بڑی جڑ ہیں، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچنے سے
پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گردشی قرضہ، ایندھن کی مہنگی درآمد، عالمی سطح پر LNG کی فراہمی میں رکاوٹیں، اور ناقص
انفراسٹرکچر جیسے عوامل اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، محض عارضی
اقدامات سے صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔دوسری جانب گیس کا بحران بجلی سے بھی زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک شکل اختیار کر چکا ہے ، خصوصاً
سندھ اور کراچی میں صورتحال انتہائی خراب ہے ۔ غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے اور کئی علاقوں میں روزانہ 15 سے 16
گھنٹے تک گیس کی بندش کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے مطابق مخصوص اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے ، مگر
عملی طور پر ان اوقات میں بھی صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ گھروں میں ناشتہ اور کھانا پکانا ایک چیلنج بن چکا ہے اور لوگ مجبورا مہنگی
ایل پی جی یا بیکریوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر گھریلو نظام پر پڑ رہا ہے ، خصوصاً خواتین شدید اذیت کا
شکار ہیں جو روزمرہ کے معمولات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ گیس کی قلت نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ
چھوٹے کاروبار جیسے ہوٹلز، بیکریاں اور دیگر فوڈ انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ بڑھتی ہوئی طلب، LNG سپلائی کے مسائل اور
انتظامی ناکامیوں نے اس بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے ، جبکہ مستقبل قریب میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات عوام کی پریشانی
میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ادھر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کو جنم دیا ہے جس نے معیشت
کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے ، جس کے نتیجے
میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ آٹا، چینی، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء عام آدمی کی پہنچ
سے دور ہوتی جا رہی ہیں، اور قوتِ خرید میں مسلسل کمی آ رہی ہے ۔
صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے ، جس کے باعث
صنعتکار اپنی مصنوعات مہنگی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی اضافی بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ
ہوتا ہے ۔ زراعت کا شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ زرعی مشینری اور ٹیوب ویلز ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، اور جب
ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فصلوں کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے ، جس کا اثر براہ راست خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔مہنگائی کے ساتھ
مصنوعی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے . عوام کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے .عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔دکاندار
تاجر ٹھیلے والے عوام سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں.جب صارف مہنگی اشیاء کا شکوہ کرتا ہے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے پیٹرول
مہنگا ہو گیا ہے لہذا ہر چیز ہمیں بھی مہنگی مل رہی ہیں. سرکاری سطح پر مصنوعی گرانی کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے
جا رہے ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے معاشی بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے ۔ تنخواہیں
جمود کا شکار ہیں جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے باعث عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
غربت، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں کیونکہ لوگوں کی خریداری کی
صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے ۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ مسائل نئے نہیں بلکہ برسوں سے موجود ہیں، مگر سیاسی عدم استحکام، اقتدار کی کشمکش اور باہمی اختلافات نے
ان کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ حکومت کی توجہ اکثر سیاسی معاملات اور عالمی امور پر مرکوز نظر آتی ہے ، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پسِ
پشت چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک مضبوط معیشت اور خوشحال عوام ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دلا سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی
ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین مقصد بنائے ۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی چوری کے
خاتمے ، متبادل توانائی کے فروغ، اور گیس کی منصفانہ تقسیم جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ اسی طرح مہنگائی پر قابو پانے کے
لیے موثر پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید
شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عالمی امن کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر
ایک ایسے ملک کے لیے جو اندرونی مسائل میں گھرا ہو، عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت
سب سے پہلے اپنے گھر کو سنبھالے ، عوام کے مسائل کو ترجیح دے اور ایسے اقدامات کرے جو ملک کو ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف
لے جا سکیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران وجود جمعه 17 اپریل 2026
امریکا، اسرائیل، ایران کشیدگی ۔۔پاکستان کا گمبھیر معاشی بحران

مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر