... loading ...
منظر نامہ
۔۔۔۔۔۔
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ، مگر
اس ساری ہنگامہ خیزی کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری اپنی حکومت اپنی ہی عوام کے بنیادی مسائل سے نظریں چرا رہی ہے ۔ بلاشبہ
پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اندر عوام بدترین
معاشی اور توانائی بحران کا شکار ہیں۔ بجلی، گیس اور مہنگائی جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں جینا ایک مسلسل
جدوجہد بن چکا ہے ۔
پاکستان میں اس وقت بجلی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 18000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیداوار محض 13500 میگاواٹ ہے ، جس کے نتیجے میں 4500 میگاواٹ کا واضح شارٹ
فال سامنے آ رہا ہے ۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ توانائی کا نظام نہ صرف دباؤ کا شکار ہے بلکہ اس میں بنیادی اصلاحات کی
شدید ضرورت ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اپریل جیسے نسبتاً معتدل مہینے میں بھی لوڈشیڈنگ کی شدت اس قدر زیادہ ہے ، جب کہ عام طور پر
اس مہینے میں بجلی کی طلب گرمیوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے ۔
ملک کے مختلف حصوں میں لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ شہری علاقوں میں 15 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش
معمول بنتی جا رہی ہے ، جبکہ دیہی اور نواحی علاقوں میں یہ دورانیہ 20 گھنٹے تک جا پہنچا ہے ۔ یہ صورتحال نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ
کاروباری طبقے کے لیے بھی شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہے ۔ چھوٹے کاروبار، دکانیں، ورکشاپس اور صنعتیں سب متاثر ہو رہی ہیں،
جس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ لوگ بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولت سے محروم
ہیں، جس سے عوامی غصہ اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
یہ منظرنامہ ماضی کی یاد تازہ کر رہا ہے ، خصوصاً 2011 کا وہ دور جب ملک بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار تھا اور روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی غائب
رہتی تھی۔ آج ایک بار پھر وہی حالات سر اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی خاطر
خواہ سبق نہیں سیکھا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے پیک آورز میں محدود دورانیے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا گیا ہے ، مگر حقیقت اس کے
برعکس ہے اور غیر اعلانیہ بندشوں نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔بجلی کے بحران کی وجوہات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں
ہیں۔ بجلی چوری اور لائن لاسز اس مسئلے کی سب سے بڑی جڑ ہیں، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بجلی کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچنے سے
پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گردشی قرضہ، ایندھن کی مہنگی درآمد، عالمی سطح پر LNG کی فراہمی میں رکاوٹیں، اور ناقص
انفراسٹرکچر جیسے عوامل اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے قابو نہیں پایا جاتا، محض عارضی
اقدامات سے صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔دوسری جانب گیس کا بحران بجلی سے بھی زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک شکل اختیار کر چکا ہے ، خصوصاً
سندھ اور کراچی میں صورتحال انتہائی خراب ہے ۔ غیر اعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے اور کئی علاقوں میں روزانہ 15 سے 16
گھنٹے تک گیس کی بندش کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے مطابق مخصوص اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے ، مگر
عملی طور پر ان اوقات میں بھی صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ گھروں میں ناشتہ اور کھانا پکانا ایک چیلنج بن چکا ہے اور لوگ مجبورا مہنگی
ایل پی جی یا بیکریوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر گھریلو نظام پر پڑ رہا ہے ، خصوصاً خواتین شدید اذیت کا
شکار ہیں جو روزمرہ کے معمولات کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ گیس کی قلت نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ
چھوٹے کاروبار جیسے ہوٹلز، بیکریاں اور دیگر فوڈ انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ بڑھتی ہوئی طلب، LNG سپلائی کے مسائل اور
انتظامی ناکامیوں نے اس بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے ، جبکہ مستقبل قریب میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات عوام کی پریشانی
میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ادھر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کو جنم دیا ہے جس نے معیشت
کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو متاثر کرتا ہے ، جس کے نتیجے
میں اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ آٹا، چینی، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء عام آدمی کی پہنچ
سے دور ہوتی جا رہی ہیں، اور قوتِ خرید میں مسلسل کمی آ رہی ہے ۔
صنعتی شعبہ بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے ، جس کے باعث
صنعتکار اپنی مصنوعات مہنگی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی اضافی بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ
ہوتا ہے ۔ زراعت کا شعبہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے کیونکہ زرعی مشینری اور ٹیوب ویلز ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، اور جب
ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فصلوں کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے ، جس کا اثر براہ راست خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔مہنگائی کے ساتھ
مصنوعی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے . عوام کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے .عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔دکاندار
تاجر ٹھیلے والے عوام سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں.جب صارف مہنگی اشیاء کا شکوہ کرتا ہے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے پیٹرول
مہنگا ہو گیا ہے لہذا ہر چیز ہمیں بھی مہنگی مل رہی ہیں. سرکاری سطح پر مصنوعی گرانی کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے
جا رہے ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے معاشی بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے ۔ تنخواہیں
جمود کا شکار ہیں جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے باعث عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔
غربت، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں کیونکہ لوگوں کی خریداری کی
صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے ۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ مسائل نئے نہیں بلکہ برسوں سے موجود ہیں، مگر سیاسی عدم استحکام، اقتدار کی کشمکش اور باہمی اختلافات نے
ان کے حل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ حکومت کی توجہ اکثر سیاسی معاملات اور عالمی امور پر مرکوز نظر آتی ہے ، جبکہ عوام کے بنیادی مسائل پسِ
پشت چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک مضبوط معیشت اور خوشحال عوام ہی کسی ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دلا سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی
ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین مقصد بنائے ۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی چوری کے
خاتمے ، متبادل توانائی کے فروغ، اور گیس کی منصفانہ تقسیم جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ اسی طرح مہنگائی پر قابو پانے کے
لیے موثر پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید
شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ عالمی امن کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر
ایک ایسے ملک کے لیے جو اندرونی مسائل میں گھرا ہو، عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت
سب سے پہلے اپنے گھر کو سنبھالے ، عوام کے مسائل کو ترجیح دے اور ایسے اقدامات کرے جو ملک کو ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف
لے جا سکیں۔
٭٭٭