وجود

... loading ...

وجود

ماہ صیام روزے دار کے لیے سرتاپا برکات و ثمرات،طبی فوائد سے لبریز

اتوار 11 جون 2017 ماہ صیام روزے دار کے لیے سرتاپا برکات و ثمرات،طبی فوائد سے لبریز


روزے پر جدید طبّی تحقیقات کا سلسلہ 1974 سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے جس کے دوران صحیح معنوں میں سر سے لے کر پاؤں تک روزے کے فوائد باقاعدہ تحقیق سے ثابت کیے جاچکے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے جسم کا ایک ایک حصہ روزے کی برکات سے فیض یاب ہوتا ہے جبکہ روح پر روزے کے اثرات کا شمار ہی ممکن نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ انسانی جسم کے کون کونسے حصے پر روزہ کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔

جگر

انسانی جسم کا ’ویئر ہاؤس‘ یعنی جگر وہ عضو ہے جو دوا سے لے کر غذا تک کو ہضم کرنے اور جزوِ بدن بنانے کے لیے ضروری مادّے خارج کرتا ہے۔ اسی لیے جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں، اسے ہضم کرنے کیلیے جگر کو فوراً ہی کام شروع کرنا پڑتا ہے اور یوں یہ اہم عضو پورا سال بہت کم آرام کر پاتا ہے۔ روزے کی حالت میں کھانے پینے سے مسلسل کئی گھنٹوں تک پرہیز، اور وہ بھی پورے ایک مہینے کے لیے، جگر کو آرام دیتا ہے اور وہ اس ایک مہینے میں تر و تازہ ہو کر آئندہ پورے سال کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔
اس کے علاوہ حالیہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ روزے کی بدولت جسم میں انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے، انسولین مزاحمت میں کمی واقع ہوتی ہے جبکہ خون میں گلوکوز (شکر) کی مقدار بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔ دوسری جانب اگر ایک لمبے عرصے تک روزے رکھے جائیں تو جگر میں محفوظ شدہ ’’گلائیکوجن‘‘ نامی مادّے کی مقدار بھی کم ہونے لگتی ہے، جگر کے ارد گرد جمع شدہ چربی کم ہوجاتی ہے جس سے ’’کیٹونز‘‘ کہلانے والے مرکبات خارج ہوتے ہیں جنہیں پٹھوں کے خلیات اور اعصابی خلیات حصولِ توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح جگر پورے مہینے کی ’اوورہالنگ‘ سے گزرتا ہے جس سے نہ صرف خود جگر کو بلکہ کم و بیش پورے جسم کو فائدہ ہوتا ہے۔
مدافعتی نظام (امیون سسٹم)
قدرت نے ہمیں بیماریوں سے بچانے والا نظام عطیہ کیا ہوا ہے جسے ’’مدافعتی نظام‘‘ (اِمیون سسٹم) کہا جاتا ہے۔ روزے رکھنے کی بدولت اس نظام سے وابستہ ’’ٹی خلیات‘‘ (T-cells) کو تبدیل ہو کر خود کو بہتر بنانے کا موقعہ ملتا ہے جبکہ مدافعتی نظام میں غیر ضروری طور پر پیدا ہونے والا ردِ عمل قابو میں آتا ہے اور بڑھتی عمر کی بناء پر کمزور پڑتے ہوئے مدافعتی نظام کو بھی مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔
روزے کے دوران  مدافعتی نظام سے وابستہ تمام اقسام کے خلیات کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور جب افطاری کے بعد کھانے پینے کا معمول بحال ہوتا ہے تو ان خلیات کو تخلیق کرنے والے خلیاتِ ساق ( cells  stem ) خود سرگرم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ یوں جگر کی طرح امیون سسٹم کو بھی روزوں میں آرام ملتا ہے جس سے اس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے اور یوں یہ باقی سال میں بیماریوں کے خلاف جسم کی بہتر حفاظت کرتا ہے۔ کئی طبّی مطالعات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جلن کا باعث بننے والے ’’سائیٹوکائن‘‘ مرکبات کا اخراج بھی روزوں میں بہت کم ہوجاتا ہے۔

دل

روزے کے دوران جسم کو غذا نہ ملنے کی وجہ سے جسم میں موجود چکنائی استعمال ہونے لگتی ہے جس کی بدولت کولیسٹرول سمیت مختلف اقسام کی جسمانی چکنائی کم ہونے لگتی ہے۔
البتہ یہ سارے مشاہدات جانوروں کو فاقے میں مبتلا رکھ کر دیکھے گئے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر انسانوں میں بھی روزہ رکھنے کے ایسے ہی اثرات مرتب ہونے چاہئیں۔

دماغ

چوہوں پر کیے گئے مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ جب انہیں وقفے وقفے سے پورے دن کے لیے بھوکا رکھا گیا تو اس سے ان کی یادداشت، اکتساب اور نئے دماغی خلیات بننے جیسے امور بہتر ہوئے جبکہ ان میں فالج کا خطرہ بھی بہت کم رہ گیا۔
چونکہ چوہوں کا ماڈل بھی انسانی جسم کے قریب تر ہوتا ہے اس لیے ماہرین کو امید ہے کہ کم و بیش ایسے ہی نتائج کسی انسانی مطالعے پر بھی حاصل ہوں گے۔
کینسر
چوہوں پر کیے گئے ایک اور تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دن کے چند گھنٹوں کے لیے کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا جائے اور یہ معمول چند روز تک برقرار رکھا جائے تو کھال اور چھاتی کے سرطانوں کے پھیلنے کی رفتار سست پڑجاتی ہے جبکہ کیموتھراپی میں استعمال ہونے والے زہریلے مادّوں کی بھی کم مقدار درکار ہوتی ہے۔

لمحہ فکریہ

روزے (یعنی دن میں چند گھنٹوں کے لیے کھانا پینا چھوڑ دینے) کے اثرات پر ہونے والی تحقیق کا مختصر احوال آپ نے ملاحظہ کیا۔ اس سارے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ روزے کے حوالے سے یہ ساری تحقیقات ترقی یافتہ مغربی ممالک میں رہنے والے غیرمسلموں نے انجام دی ہیں جن میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عام طور پر طبّی تحقیقی لٹریچر میں روزے اور فاقے کے مابین کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ اس کے باوجود، دن کے اوقات میں کم کھانے پینے کا معمول اختیار کرنے کے جتنے بھی طبّی فوائد ہیں، وہ روزے کی بدولت کہیں بہتر طور پر حاصل ہوتے ہیں اسی لیے انہیں ’’روزے کے طبّی فوائد‘‘ کہہ کر مسلمان خود کو تسلی دے لیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان طبّی ماہرین بھی روزہ رکھنے کے عمل پر سنجیدہ سائنسی تحقیق کریں تاکہ روزے کے طبّی فوائد کہیں بہتر طور پر دنیا کے سامنے لائے جاسکیں۔ غیروں کی تحقیق پر اپنے عقیدے کا جھنڈا گاڑنا کوئی پسندیدہ روِش ہرگز نہیں جسے بدلے بغیر اْمتِ مسلمہ صرف دوسروں کی محنت پر عیاشی کرنے والی صارف قوم ہی رہے گی۔

اس رمضان حضور ﷺ کے پسندیدہ مشروب کو استعمال کریں

رمضان کا مقدس مہینہ دوسرے عشرے میں داخل ہوچکا ہے اور روزے دار بھی نئے معمولات میں ڈھل چکے ہیں۔
مگر کیا آپ اس رمضان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تجویز کردہ مشروب استعمال کرنا پسند کریں گے جو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند پسندیدہ مشروبات میں سے ایک تھا؟
اسے نبیض کہا جاتا ہے جو کہ کشمش یا کھجوروں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کے حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں۔
جیسے سنن ابو دائود میں درج ہے ‘ ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان سے پوچھا اللہ کے رسول ﷺآپ ہمیں جانتے ہیں، کہاں سے تعلق اور کہاں سے آئے، ہمارے پاس انگور ہیں، ہمیں ان کا کیا کرنا چاہئے۔ اللہ کے رسول نے کہا کہ ان کی کشمش بنادو۔ اس کے بعد ہم نے پوچھا کہ ہم ان کشمش کا کیا کریں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انہیں صبح بھگو کر رکھ دینا اور شام کو پی لینا، اور انہیں شام میں بھگو دینا اور صبح پی لینا، زیادہ تاخیر نہ کرنا ورنہ وہ سرکہ بن جائے گا’۔

نبیض کو بنانے کا طریقہ

چھ یا سات کھجوریں (عجوہ) یا مٹھی بھر کشمش لیں۔
چھ سے آٹھ اونس پانی۔
نماز عشاء کے بعد ان کشمش یا کھجوروں کو  پانی میں بھگو دیں۔
انہیں رات بھر کمرے کے درجہ حرارت میں فجر کے وقت تک  بھگوئیں رکھیں۔
اس کے بعد کشمش یا کھجوروں کو نکال دیں اور پانی پی لیں۔
اس مشروب کو چائے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے مگر اس پانی میں اجزاء کو دو سے تین دن سے زیادہ بھگو کر نہ رکھیں کیونکہ اس کے بعد وہ سرکہ بن سکتا ہے۔
چونکہ یہ سنت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم ہے تو اسے سحری کے وقت استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مشروب کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پیٹ کے اندر تیزابیت کو ختم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ میٹابولک کچرے کو جسم سے خارج کرتا ہے۔
اسی طرح اس میں حل نہ ہونے والے فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہاضمے کو بہتر کرتا ہے جبکہ یہ مثانے، سینے، گلے، جگر اور دیگر اعضاء کے افعال کو بھی بہتر بناتا ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر