وجود

... loading ...

وجود

بھارتی سفاکیت ،مجاہدین کی شہادت مقبوضہ وادی میں تحریک ِآزادی کی نئی چنگاری سلگ اٹھی

منگل 30 مئی 2017 بھارتی سفاکیت ،مجاہدین کی شہادت مقبوضہ وادی میں تحریک ِآزادی کی نئی چنگاری سلگ اٹھی

کشمیر کے علاقے پلوامہ کے گاؤں ترال میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتوں کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات سحر خوانوں کی صدا کے بجائے کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت شہادت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔
اس سے قبل ترال کے ‘سوئی مْو’ گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو ‘بچانے’ کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت واقع ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔پولیس کے انسپکٹر جنرل سیدجاوید مجتبیٰ گیلانی نے شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی موت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئی۔ تاہم بیج بہاڑہ کے آر ونی قصبہ سے عینی شاہدین نے بتایا کہ تصادم کے دوران لوگوں نے مظاہرے کیے اور سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آرونی میں لشکر طیبہ کے چیف ابو دْجانہ ساتھیوں سمیت موجود ہیں، جسکے بعد پولیس نے بھارتی فوج اور نیم فوجی اداروں کی مدد سے حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا۔تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ حریت پسند کمانڈرابو دْجانہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جی پی گیلانی نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کارروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔برہان وانی کی طرح اپنے شہید سپوت سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ شہید مجاہد کی غائبانہ نمازجنازہ بھی ادا کی گئی۔دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کردیا گیا۔ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔سبزار بٹ گزشتہ برس جولائی میں شہید کیے گئے مقبول نوجوان کشمیری کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کارروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان شہید کیے گئے تھے جبکہ10 ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے تھے۔سید علی گیلانی، یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے اس قتل وغارت کے خلاف اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ منگل کو ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اْٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا اور وہاں فی الحال کرفیو نافذ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی موت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجینئرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ بھی گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گزشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی شہادت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اْبل پڑا۔رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحرخوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔حکومت نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ قبل ازیں خبروں کے مطابق مقبوضہ وادی کے جنوبی قصبہ ترال میں طویل محاصرے کے دوران حریت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بھٹ شہیدہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ کہ ان کے ہمراہ عادل اور فیضان نامی ان کے دو دوست بھی شہید ہو ئے ہیں۔ سبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔مسلسل کئی ماہ سے کشمیر میں عام زندگی ہڑتالوں، گرفتاریوں اور سرکاری پابندیوں کے باعث معطل ہے۔تازہ تصادم کے بعد حکومت نے پھر ایک بار جنوبی کشمیر مِیں ٹیلیفوں رابطوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو محدود کردیا ہے۔احتجاجی تحریک کے دوران 18ستمبر کو اْڑی قصبہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ساری توجہ ایل او سی پر پیدا شدہ کشیدگی اور ہندپاک تعلقات میں تناؤ پر چلی گئی تھی۔
اتنے عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟اس دوران مقبوضہ کشمیرکے عوام ثابت قدمی اور ارادوں کی مضبوطی کے کئی امتحانات سے دوچار ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کاکہناہے کہ ہم تو امتحانوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس دوران بھارتی فوج نے بھی سفاکیت کے نئے مقام سر کر لیے جس کے شکار 4سالہ بچے سے لے کر 80 سالہ بوڑھے بھی ہو ئے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی پٹھو حکومت دہلی سے وفاداری میں اندھی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اب مقبوضہ کشمیر میں تعلیم بھی سیاست کی زد پر آگئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم وستم اور سفاکیت کی داستانیں سناتے ہوئے مقامی باشندوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے لوہے کی سلاخوں، چاقو اور ڈنڈے لے کر رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس کر بچوں اور بڑوں کی شدید پٹائی کی، عورتوں کی بے عزتی کی اور سامان تہس نہس کیا، وہاںکشمیری رضاکاروں نے زخمیوں اور ان کے تیماداروں کے لیے ہسپتالوں میں مہینوں کھانا نہیں کھایا۔بھارتی فوجیوں نے ایک مہینے کے اندر 13 لاکھ چھرے نہتے لوگوں پر داغے اور سیکڑوں لوگوں کو اندھا بنایا، وہیں ہمارے ڈاکٹروں نے آنسو گیس سے بھرے ہسپتالوں میں دن رات ان چھروں اور گولیوں سے زخمی لوگوں کے علاج کئے۔جہاں ایک طرف سے زخمیوں سے بھری ایمبولینس کے ڈرائیور پر گولی چلائی گئی وہاں اسی ڈرائیور نے اپنے زخموں کا خیال نہ کرتے ہوئے پہلے ایمبولینس میں پڑے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا پھر اپنے زخموں کا علاج کروایا۔جہاں حکومت نے لگاتار کرفیو لگا کر چھوٹے بچوں کو دودھ سے اور بیماروں کو ان کی دوا سے محروم کیا ،وہیں کشمیریوں نے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہندوستانی یاتریوں کے زخموں پر مرہم لگائی۔ہماری آزادی کی یہ جنگ جاری ہے۔ جہاں ہم اپنے جائز حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں انڈیا کی سرکار کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے کے لیے وحشیانہ طرز عمل کے سبب حدیں پار کر رہی ہے۔کچھ دن پہلے ایک کتاب پڑھنے کے دوران اس میں ایک فقرہ نظر سے گزرا جسے پڑھ کر غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ کشمیر کے سابق گورنر جگموہن نے 1990 میں کہا تھا ‘کشمیر کا حل صرف گولی ہے۔’
یہ وہی جگموہن ہیں جن کی بطور گورنر حلف اٹھانے کے ایک دن بعد سرینگر میں ‘گو کدل’ کا قتل عام ہوا جس میں 52 نہتے شہریوں کو بھارتی فوجیوں نے گولیاں برسا کر مار ڈالا۔جگموہن کا دور کشمیر کا ایک سیاہ دور تھا۔ یہی جگموہن جو سابقہ افسر شاہی کا فرد تھا اب بی جے پی کا رکن بن گاہے۔ اسے 2016 کے شروع میں بی جے پی سرکار نے ہندوستان کے دوسرے بڑے اعزاز پدما ویبھوشن سے بھی نوازا۔جس ملک کی سرکار اور اس کے حرکاروں کی ایسی سوچ ہو اس ملک سے جمہوریت یا انسانیت کی آپ کیا امید کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا یہ برابری کی جنگ نہیں ہے۔یہ آزادی کی جنگ ہے جو تب تک جاری رہے گی جب تک کشمیر آزاد نہ ہوجائے ، پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سبزار کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہرے کیے۔ ترال میں جھڑپ کی جگہ کے قریب پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے تھے۔واضح رہے کہ ماہ رمضان کی آمد پر جمعے کی شب سوشل میڈیا پر ایک ماہ سے جاری پابندی کو ہٹایا گیا تھا تاہم بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سبزار بٹ کی شہادت کے بعد اگر مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوگیا تو انٹرنیٹ اور فون سروسز کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
حزب المجاہدین کمانڈرسبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،جن کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر