وجود

... loading ...

وجود

محبت کی شادی وڈیرہ شاہی کی بھینٹ چڑھ گئی،لاشیں بھی غائب کردی گئیں

هفته 13 مئی 2017 محبت کی شادی وڈیرہ شاہی کی بھینٹ چڑھ گئی،لاشیں بھی غائب کردی گئیں

سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کی کزن جگنو مہر اور صوبائی وزیر مہتاب ڈہر کے بھانجے تیمور ڈہر کا المناک انجام،کچھ عرصے قبل محبت کی شادی کی تھی‘ افغانستان کی سرحد کے پاس قتل،قندھار کے اخبار سے واقعے کا علم ہوا،ڈہر خاندان لاشیں وصول کرنے میں ناکام،مہر برادری خاموش

شادی ایک مقدس فریضہ ہے جس کو ہمارے خطے میں ایک مصیبت اور خوفناک معاملہ بنا دیا گیا ہے، اس خطے میں سب سے پہلے بلوچ اور پختون قبائل نے غیرت کے نام پر قتل شروع کیے حالانکہ قرآن اور سنت کے مطابق کسی کو قتل کرنا سنگین جرم ہے۔ قتل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ ایک قتل ناحق پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کی جان اللہ کو خانہ کعبہ سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ لیکن ہمارے اس خطے میں قتل عام کو غلط نہ سمجھا گیا۔ خصوصاً عورتوں کے قتل کو غیرت کا نام دیا گیا۔ یہ ایک طویل تاریخ ہے کہ کس طرح اپنی بہن، بیٹی، بیوی یہاں تک کہ ماں کو بھی نام نہاد غیرت کے نام قتل کیا گیا اور جس مرد پر الزام عائد کیا گیا اس سے صرف مالی فائدے جرمانے کی شکل میں لیے گئے ۔اس لیے جب ماضی میں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت آئی تو انہوں نے اعلان کردیا کہ جس نے غیرت کے بہانے سے عورت کو قتل کیا، اس قاتل کے پورے خاندان کو ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے قتل کر دیا جائے گا ،اعلان کے بعد ایک بلوچ نوجوان نے ضلع جیکب آباد میں اپنی بیوی کو قتل کر ڈالا تو انگریز حکومت نے اس خاندان کے 9 افراد کو میدان میں کھڑا کرکے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے مار ڈالا تب جاکر اس زمانے میں عورتوں کا قتل عام بند ہوا۔
سابق فوجی حکمراں جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں گھوٹکی سے آزاد حیثیت میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے والے سردار علی محمد مہر کو جنرل احسان کی سفارش پروزیراعلیٰ سندھ بنا دیا گیا۔ علی محمد مہر کے دور میں پنو عاقل سے تعلق رکھنے والے بلخ شیر مہر اور شائستہ عالمانی نے پسند کی شادی کی تھی اور پھر اس وقت کے وزیراعلیٰ علی محمد مہر نے سر توڑ کوشش کی تھی کہ کسی طریقے سے بلخ شیر اور شائستہ واپس ورثاء کے حوالے کیے جائیں لیکن اس وقت کے ٹی پی او صدر ایس ایس پی تناء اللہ عباسی نے دونوں کو متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا اور عدالت نے دونوں کو شیلٹر ہوم بھیج دیا، بعدازاں قبائلی تنازع میں 7 افراد مار دیئے گئے تب شائستہ اور بلخ شیر ناروے چلے گئے اور تاحال وہ ناروے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کی جانب سے بلخ شیر مہر کو اس لیے انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی کیونکہ وہ پیر پگارا کا مرید تھا اور علی محمد مہر کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
اب حال ہی میں علی محمد مہر کی کزن اور علی بخش مہر کی بیٹی جگنو مہر نے صوبائی وزیرجام مہتاب ڈہر کے بھانجے تیمور ڈہر سے پسند کی شادی کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں آپس میں کزن بھی ہیں کیونکہ علی بخش مہر کی اہلیہ کا تعلق ڈہر خاندان سے ہے ،ضلع گھوٹکی میں ڈیر خاندان پر امن کہلاتا ہے ڈہر کی شہر بھی ڈہر قبیلے نے آباد کیا تھا ۔جگنو مہر اور تیمور ڈہر کی شادی نے مہر خاندان کو مشتعل کر دیا ۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ علی بخش مہر نے اپنے تعلقات کو استعمال کیا ۔ دونوں کو بلوچستان کے ایک با اثر سیاسی خاندان نے پناہ دی تھی،لیکن انہیں کسی طرح افغانستان کی سرحد تک لے جایا گیا۔ شبہ ہے کہ ان دونوں کو افغانستان میں پناہ دینے کی لالچ میں محفوظ مقام سے نکلوایا گیا اورپھر دونوں کو افغان سرحد کے قریب قتل کر دیا گیا اور پھر وہیں دفن بھی کیا گیا۔ قندھار کے ایک انگریزی اخبار نے چھوٹی سی خبر شائع کی ہے کہ افغان سرحد کے قریب ایک لڑکا اور ایک لڑکی کو افغان شہری کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا ہے۔ لڑکے کی شناخت تیمور کے نام سے ہوئی ہے اور لڑکی و افغان شہری کی شناخت نہیں ہوسکی ۔ تینوں کو افغانستان میں ہی دفن کر دیا گیا ۔
ڈہر خاندان اس وقت افغانستان، پاکستان کی سرحد پر پہنچ گیا ہے لیکن تاحال انہیں لاشیں نہیں دی گئی ہیں لیکن یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ تیمور کو ایک لڑکی اور افغان شہری کے ساتھ قتل کر دیا گیا ہے ،لاشیں بھی افغانستان میں دفن کی گئی ہیں۔ اس وقت متاثرہ خاندان بے بسی کے عالم میں طور خم کے قریب موجود ہے اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ گھوٹکی میں ہر زبان پر یہی بات ہے کہ مہر خاندان با اثر ہے اور اس نے افغانستان کی سرحد پر لڑکے اور لڑکی کو افغان فورسز کے ہاتھوں مروا دیا اور ثبوت بھی مٹادیا اور متاثرہ خاندان کو داد رسی کا بھی حق نہ دیا۔ اس طرح تیمور ڈہر اور جگنو مہر کی محبت کا منطقی انجام بہت خراب ہوا ہے ،دونوں کو دھوکہ دے کہ افغانستان میں قتل کر دیا گیا اور پھر لاشیں بھی ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں ،قتل کی خبر اگر قندھار ٹائمز نہ دیتا تو شاید ورثاء کو پوری زندگی پتہ بھی نہ چلتا کہ وہ کہاں ہیں۔ لیکن اب جبکہ دونوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو ورثاء میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ لیکن مہر خاندان مکمل خاموش ہے۔ ڈہر خاندان لاشیں نہ ملنے کے باعث تاحال تعزیت وصول نہیں کر رہا ہے لیکن ضلع گھوٹکی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے مختلف شہروں میں ریڈ الرٹ کررکھا ہے ،کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ جگنو اور تیمور کو جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کی روایتی سوچ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ دونوں کو صرف اس لیے قتل کیا گیا ہے کہ انہوں نے خاندانی روایات سے بغاوت کرکے شادی کرلی تھی اورنام نہاد وڈیروں کی غیرت جاگ گئی اور انہوں نے اسی غیرت کے نام پر دونوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ آج دونوں دیار غیر میں منوں مٹی تلے دفن ہیں جہاں ان پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ مہر خاندان اس لیے خوش ہے کیونکہ ان کی روایتی غیرت کو للکارنے والی لڑکی اب اگلے جہاں کو چلی گئی ہے اور جس نے بھی اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اس نے سارے ثبوت مٹا دیئے ہیں۔ تیمور کا خاندان جیتے جی مردہ تصویر بنا ہوا ہے، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور حکومت سندھ یا وفاقی حکومت نے ان کی مدد کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ پہلے یہ معاملہ پی پی کی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا تھا ،پی پی قیادت نے دونوں خاندانوں کو خاموش رہنے کے لیے کہا تھا لیکن اب پی پی قیادت نے لاشیں ورثاء کے حوالے کرنے کے لیے ابھی تک کوئی تحرک نہیں لیا ،یوں روایتی سوچ کامیاب ہوگئی اور دو معصوم نوجوان موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر