وجود

... loading ...

وجود

سی پیک منصوبہ :بھارت کوشمولیت کے لیے چینی دعوت سے شکوک وشبہات میں اضافہ

جمعرات 11 مئی 2017 سی پیک منصوبہ :بھارت کوشمولیت کے لیے چینی دعوت سے شکوک وشبہات میں اضافہ

ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ چین اور بھارت کو نئے مواقع فراہم کریں گے،یہ نظریہ غلط ہے کہ چین بھارت کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا، بھارت میں تعینات چینی سفیر ‘چین سی پیک کو بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتاہے جبکہ اس سے پاکستان کے مفادات پس پشت چلے جانے کاخدشہ ہے،سیاسی حلقوں کا اظہار تشویش

بھارت میں تعینات چینی سفیر نے بھارت کو چین کے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ (ایک خطہ، ایک سڑک) منصوبے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے نئی دہلی کو اس بات کی یقین دہائی کرائی ہے کہ پاک- چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے کسی ملک کی خودمختار ی متاثر نہیں ہو گی۔ انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چینی سفیر نے یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘مغرب میں کچھ لوگ چین کو غلط سمجھتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ ‘ڈریگن’ اور ‘ہاتھی’ اٹل حریف ہیں اور چین بھارت کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نظریہ غلط ہے، ہم بھارت کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہمیں اس بات سے بہت خوشی ہوگی کہ بھارت مشترکہ ترقیاتی مقاصد حاصل کرے’۔بھارت اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم، جی 20 اور برکس اجلاس کے موقع پر ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع حاصل ہوگا۔چینی سفیرنے اس بات پر زوردیا کہ ہمیںاپنے اختلافات کو مناسب انداز میں حل کرنا ہوگا، بحیثیت دو بڑے ہمسایوں کے یہ امر فطری ہے کہ ہمارے درمیان کچھ اختلافات ہوں، اہل خانہ کے درمیان بھی کئی مسائل ہوسکتے ہیں’ ‘چین اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے طویل المدتی نقطہ نظر اورسوچ کی ضرورت ہے، اس حوالے سے میری تجویز یہ ہے کہ پہلے دوستانہ تعاون اور ہمسایہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جائے’ جبکہ دوسرے مرحلے میں چین-بھارت تجارتی معاہدے پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیاجاسکتاہے، تیسرا کام سرحدی مسئلے کے جلد حل کی کوشش ہونی چاہیے جبکہ چوتھا کام چین کے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ منصوبے اور بھارت کی ‘ایکٹ ایسٹ پالیسی’ کو ایک صف میں لانے کے امکانات پر غور کرنا ہے’۔چینی سفیرنے کہاکہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور علاقائی روابط چین اور بھارت کو نئے مواقع فراہم کریں گے اور دو طرفہ تعاون میں مدد دیں گے، ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ایک اہم عوامی پراڈکٹ ہے جس کی پیشکش چین دنیا کو کرسکتا ہے اور قریبی ہمسایہ ہونے کی حیثیت سے چین اور بھارت ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے قدرتی شراکت دار بن سکتے ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ ‘بھارت کا موجودہ جی ڈی پی 13 سال قبل 2004ء میں چین کے جی ڈی پی کے قریب ہے، چین کو بھارت پر 13 سال کی سبقت حاصل ہے کیونکہ ہم نے 13 سال پہلے ہی اصلاحات کا آغاز کردیا تھا’۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین اور بھارت کا سیاسی نظام مختلف ہے، ‘بھارت کے سیاسی نظام کے اپنے فوائد ہیں تاہم اس میں بعض اوقات تبدیلیاں آتی ہیں جس سے ترقی کی رفتار پر اثر پڑتا ہے’۔
بھارت کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پراصل اعتراض اس بات پر ہے کہ سی پیک منصوبہ آزاد جموں اور کشمیر سے گزرتا ہے۔چینی سفیر کاکہناہے کہ ‘چین بھارت اور پاکستان کے درمیان علاقائی مسائل میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا اور دو طرفہ مذاکرات سے ان مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے تاہم سی پیک کا مقصد معاشی تعاون اور رابطے کو بڑھانا ہے اور اس کا خود مختاری کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ماضی میں بھی سلک روڈ پر بھارت اور چین کا قریبی تعاون تھا، ہم آج کے دور میں اس تعاون کا خیرمقدم کیوں نہ کریں؟ چین ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر بھارت کے ساتھ تعاون کے حوالے سے مخلص ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے حق میں ہے’۔چینی سفیر کے مطابق ‘کچھ بھارتی میڈیا کا یہ کہنا ہے کہ چین جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں ہمیشہ پاکستان کو فوقیت دیتا ہے، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سچ نہیں، ہم سب سے زیادہ اہمیت چینی مفاد کو دیتے ہیں’۔
دوسری جانب چین کی جانب سے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں بھارت کو شامل کرنے کی کوششوں پر پاکستان کے سیاسی حلقوں نے تحفظات کااظہار کیاہے، ان کا کہنا ہے کہ چین سی پیک کو بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتاہے جبکہ اس سے پاکستان کے مفادات پس پشت چلے جانے کاخدشہ ہے ۔
سینیٹ کی منصوبہ بندی اور ترقیات سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران چند سینیٹرز نے خیال ظاہر کیا کہ سی پیک منصوبے میں چین کی جانب سے سرمایہ کاری کی بنیادی وجہ مختلف ممالک کے ساتھ تجارت کے نئے باب کھولنا ہے جن میں بھارت کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی ریاستیں اور یورپ شامل ہیں۔کمیٹی کے چیئرمین سید طاہر حسین مشہدی نے سینیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے اس نکتے کی تائید کی کہ سی پیک کے تحت موناباؤ اور امرتسر کے ذریعے بھارت تک بہتر ریل اور سڑک کا راستہ قائم ہوجانے کے بعد چین نہ صرف وسط ایشیائی اور یورپی ممالک بلکہ بھارت کے ساتھ بھی تجارت میں اضافہ کرسکتا ہے تاکہ اپنے 8 پسماندہ صوبوں کو معاشی طور پر مضبوط کرسکے۔طاہر حسین مشہدی کا کہنا تھا کہ ’چین بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے سی پیک کا استعمال ضرور کرے گا کیونکہ سرمایہ کاری کرنے والا سب سے پہلے اپنا منافع دیکھتا ہے‘جبکہ بھارت کے ساتھ چین کے تجارتی تعلقات پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور گزشتہ سال چین نے بھارت کے ساتھ 100 بلین ڈالر کے تجارتی منصوبوں پر دستخط کیے تھے۔طاہر حسین مشہدی نے خیال ظاہر کیا کہ ’پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باوجود چین بذریعہ سی پیک بھارت سے تجارت کرے گا‘۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ ان منصوبوں کو ترجیح دے جو پاکستانی عوام کے لیے زیادہ اہم ہیں اور اس کے بعد ان منصوبوں کے بارے میں سوچا جائے جو چین کے لیے نفع بخش ہیں۔سراج الحق کی نظر میں اگر سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور فاٹا کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سی پیک سے فائدہ نہیں پہنچتا تو ان کے پاس زندگی بسر کرنے کے لیے ہاتھوں میں اسلحہ اٹھالینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔جماعتِ اسلامی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اگر نظرانداز علاقوں کی معاشی حالت میں سدھار نہیں آتا تو ان علاقوں میں رہنے والے افراد مجبور ہوجائیں گے کہ 2 ہزار روپے کے لیے بھی کسی سے لڑائی مول لے لیں’۔پاکستان ریلوے کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی پیک کے تحت بننے والے ریلوے کے تمام منصوبے پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے گئے ہیں اور پاکستان کسی بھی منصوبے کا آغاز اکیلے نہیں کرسکتا۔ریلوے حکام کے مطابق، ’دونوں ممالک کے مشترکہ ورکنگ گروپس ہیں جو منصوبے کی تشکیل اور ان پر کام کا آغاز کرتے ہیں‘۔جس پر سینیٹرسراج الحق کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے ساتھی سی پیک پر بات چیت کے لیے چین کے دورے پر گئے جہاں چینی حکام کی جانب سے انہیں آگاہ کیا گیا تھا کہ سی پیک پر منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کا اختیار پاکستان کو حاصل ہے اور چین کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی جانب سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا گیا اور انگریز حکمرانوں کے چھوڑے ہوئے نظام سے ہم بالکل آگے نہیں بڑھ سکے۔عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے لیے نئے ریلوے ٹریکس (ایم ایل-2 اور ایم ایل-3) منصوبوں کا آغاز جلد از جلد ہوجانا چاہیے کیونکہ یہ راستے پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مددگار ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان علاقوں میں سونا، چاندی، ماربل، گرینائٹ اور تانبے جیسے قدرتی وسائل کی فراوانی ہے اور ان وسائل کو ریلوے کے ذریعے ایران، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔سی پیک منصوبے کے بارے میں چین کی جانب سے پاکستانی سیاستدانوں اور قانون سازوں کو دی گئی بریفنگ اور پاکستانی محکموں کے سربراہوں کی جانب سے بے بسی کااظہار سی پیک منصوبے کے بارے میں سامنے آنے والے شکوک وشبہات کی اصل وجہ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے پاکستان اورچین کے درمیان طے پانے والے منصوبوں کی تفصیلات عام کرے تاکہ پاکستانی عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ یہ عظیم منصوبہ تکمیل کے بعد پاکستان کے عوام کے لیے کس قدر منفعت بخش ثابت ہوگا اوراس سے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو کس قدر خطرات لاحق ہوسکتے ہیں ؟ جب تک حکومت اس حوالے سے تمام معاملات کو عوام کے سامنے نہیں لاتی اس کے حوالے سے شکوک وشبہات زور پکڑ تے رہیں گے جس کے نتیجے میں اس کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان کے منصوبہ بندی ،ترقیات اور اصلاحات سے متعلق امور کے وفاقی وزیر احسن اقبال اس منصوبے کے تمام پہلوئوں اور تفصیلات کو عوام کے سامنے لانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر