وجود

... loading ...

وجود

شیر میسور ٹیپو سلطان کی جنگی سپاہ

جمعرات 04 مئی 2017 شیر میسور ٹیپو سلطان کی جنگی سپاہ

ٹیپو سلطان کی فوج کا سب سے خطرناک ہتھیار “تغرق” المعروف میسوری راکٹ تھا،بری افواج کے علاوہ مؤثر بحریہ فوج بھی اس کی قوت تھی‘حیدر علی اور ٹیپو کوتوپوں کے معاملے میں انگریزوں پر فوقیت حاصل تھی، ٹیپو سلطان سے غداری نہ کی گئی ہوتی تواس کی فوج کو شکست دینا مشکل تھا‘

ٹیپو سلطان(10نومبر 1750۔4 مئی 1799ء) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا۔
”شیر کی ایک دن کی زندگی‘ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“
آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے۔ سلطان نے انتہائی دورس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو از سر نو منظم کیا۔ سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا‘ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگا پٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھر پور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا‘ غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی‘ بارود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 1799ءمیں دوران جنگ سر پر گولی لگنے سے شہید ہوگئے۔
ہندوستان کو غلامی سے بچانے کی کوشش میں اپنی جان دینے والا پہلا ہندوستانی حکمران ٹیپو سلطان بیک وقت حکمران‘ عالم ‘مفکر ‘مدبر ‘جرنیل انجینئر تاجر زاہد متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔
ٹیپو سلطان کی فوج کا نظم و نسق اعلیٰ پائے کا تھا۔ اس کی فوج باضابطہ اور مستقل تھی، جو نظام حیدرآباد اور مرہٹوں کے مقابلے میں بہتر مسلح، بہتر تربیت یافتہ اور زیادہ جنگ آزمودہ تھی۔ انگریز مصنف کیمپل کے مطابق “ٹیپو ایک مستعد، اولو العزم اور مہم جو حکمراں تھا۔ جن ایشیائی سلطنتوں سے ہم واقف ہیں ان کے مقابلے میں ٹیپو کی فوجی تنظیم بہتر ہے”۔ ٹیپو کے بے ضابطہ سوار بھی بہت زیادہ کارآمد تھے، وہ ہر طرح کی تنگی برداشت کرسکتے تھے۔ٹیپو کی پیدل فوج کے سپاہی یورپی سپاہ کی طرح دستی بندوقوں اور سنگینوں سے لیس ہوتے تھے، جو میسور ہی میں فرانسیسی ساخت کی بنائی جاتی تھیں۔ ٹیپو کی فوج کے پاس انگریزی اور فرانسیسی اسلحے بھی کثیر مقدار میں تھے، لیکن میسور کے بنے ہوئے اسلحہ کے استعمال کو وہ ترجیح دیتا تھا، اگرچہ وہ ہمیشہ عمدہ قسم کے نہیں ہوتے تھے۔ اس کی ہلکی توپیں فرانسیسی صناعوں کی مدد سے میسور ہی میں ڈھالی جاتی تھیں۔ ان توپوں کے دہانے چونکہ انگریزی توپوں سے بڑے ہوتے تھے اس لیے وہ دور مار ہوتیں اور میدانِ جنگ میں زیادہ موثر ہوتیں، اسی بنا پر حیدر علی اور ٹیپو سلطان دونوں کو گولہ باری میں انگریزوں پر خاصہ تفوق حاصل رہا تھا۔ ٹیپو سلطان کی فوج کا سب سے خطرناک ہتھیار “تغرق” نامی راکٹ تھا جسے عرف عام میں میسوری راکٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ راکٹ دو کلومیٹر کے فاصلے پر درست نشانہ لگاتا تھا۔ اس راکٹ کی بدولت انگریزی افواج کو اینگلو۔میسور جنگوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پیدل فوج کی تربیت یورپین طرز پر ہوتی تھی۔ کمان کی تمام اصطلاحیں فارسی زبان کی ہوتی تھیں۔ ان کے لباس ارغوانی رنگ کی ایک سوتی صدری ہوتی جس پر شیر کی کھال جیسے گل ہوتے، سرخ یا زرد رنگ کی پگڑی ہوتی اور مختصر سا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ ہوتا۔ فوجی ڈسپلن کو ٹیپو بڑی سختی سے برقرار رکھتا تھا اور اس نے حکم جاری کیا تھا کہ جنگ کے دوران اگر کوئی سپاہی فرار ہونے کی کوشش کرے تو اسے گولی مار دی جائے۔ ٹیپوسلطان فوجی سربراہی خود اپنے ہی ہاتھ میں رکھتا تھا اور چونکہ امن ہو یا جنگ دونوں زمانوں میں وہ فوج کے ساتھ ہی رہتا تھا، اس لیے اس کی موجودگی سے فوجیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جوجوش و جذبہ پایا جاتا تھا، جو دوسرے ہندوستانی حکمرانوں کی فوج میں ناپید تھا۔ میسوری فوج میں جمعرات کا دن چھٹی کا ہوتا تھا۔
اپنی حکمرانی اور متعدد اینگلو ۔ میسور جنگوں کے تجربات کے بعد ٹیپو نے فوج کی تنظیمِ نو کی۔ اس تنظیمِ نو کے نتیجے میں” بخشی” فوج کا اہم ترین افسر بن گیا، جو اس سے پہلے صرف تنخواہیں تقسیم کرتا تھا۔ اس تنظیمِ نو میں عسکر (سواروں) کو چار کچہریوں (برگیڈ) میں اور کچہری کو پانچ موکموں (رجمنٹ) میں تقسیم کیا گیا۔ ہر کچہری یا موکم میں سپاہیوں کی تعداد متعین نہیں تھی۔ کچہری کے کمانڈر کو بخشی اور موکم کے کمانڈر کو موکمدار کہا جاتا تھا۔ موکم کو چار رسالوں (اسکواڈرن) میں تقسیم کی گیا۔ ہر رسالہ کا سربراہ ایک رسالدار ہوتا۔ رسالوں کو یاز (ٹولیوں) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر یاز کا سربراہ ایک یزکدار (کیپٹن) ہوتا، جس کے تحت سرخیل (لیفٹیننٹ)، حوالدار اور سپاہی ہوتے تھے۔
محمود خاں محمود بنگلوری اپنی کتاب تاریخ سلطنت خداداد میسور میں رقم طراز ہیں کہ “سلطنت خداداد میسور میں کل فوج کی تعداد تین لاکھ بیس ہزار تھی”۔ٹیپو سلطان نے ایک فرمان کی رو سے بری فوج کو جس کا نام پیادہ عسکر” تھا، پانچ ڈویژنوں میں تقسیم کیا تھا اور ہر ڈویژن میں 27 قشتون (رجمنٹیں) تھیں اور ہر رجمنٹ میں 1392 سپاہی ہوتے تھے، جن میں 1056 سپاہیوں کے پاس بندوقیں ہوتی تھیں۔ ہر رجمنٹ کے ساتھ ان کے باربرداری کے جوان بھی ہوتے تھے۔ ہر رجمنٹ میں دو توپیں اور گولنداز بھی رہتے تھے۔ سوار کو سلطان نے تین محکموں باقاعدہ کیولری، سلحدار اور کازک میں تقسیم کی تھا۔ ان میںاوّل الذکر کو سوار کہا جاتا تھا۔ اس عسکر کے تین ڈویژن تھے، جن میں ہر ایک میں چھ رجمنٹیں اور ہر رجمنٹ میں 376 سوار متعین تھے۔ ان سواروں کو گھوڑے دئیے جاتے تھے، لیکن سلحدار اور کازک جو تعداد میں بالترتیب 8,000 اور 6,000 تھے، اپنے خاص گھوڑے رکھتے تھے۔ ٹیپو کی فوج میںکل 900 ہاتھی، 600 اُونٹ، 30,000 گھوڑے اور 400,000 باربرداری کے بیل تھے۔
ماڈرن میسور کا مصنف بیان کرتا ہے کہ “ملک کی مدافعت کے لیے ایک لاکھ اسی ہزار کی بہترین منظم و باقاعدہ فوج تھی۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ باسٹھ ہزار پانچ سو کی امدادی فوج تھی، جو مختلف کاموں پر مامور تھی”۔ سلطان نے اپنے فوجی محکمے کے لیے اپنی زیر نگرانی ایک کتاب لکھوائی، جس کا نام “تحف المجاہدین” تھا (لیکن یہ فتح المجاہدین کے نام سے مشہور ہوئی) ، جس میں فوجی تنظیم اور تربیت کے اصول و ضوابط قلم بند کیے گئے تھے۔
ٹیپو کی فوج میںبہترین بری افواج کے علاوہ مؤثر بحریہ فوج بھی موجود تھی۔ سلطنت میسور کی بحریہ کے قیام کی ابتدا دراصل نواب حیدر علی نے کی۔ نواب حیدر علی نے بحریہ تیار کرنے کی2بار کوشش کی تھی۔ اس کی پہلی کوشش کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اس کا بحری کمانڈر اسٹین نٹ بھاگ کر انگریزوں سے مل گیا اور اپنے ساتھ متعدد جہاز بھی لے گیا۔ اس نقصان کے بعد نواب حیدر علی نے یورپین ماہرین کی مدد سے دوبارہ ایک بحری بیڑہ تیار کیا۔ اس مرتبہ برطانوی بحری کمانڈر سر ایڈورڈ ہیگیز نے اس کے بیڑے کی کمر توڑ دی اور 1780 میں منگلور میں داخل ہوکر اس نے بہت سے لنگر انداز جہازوں کو تباہ کردیا تھا۔
ٹیپو سلطان جب باپ کی جگہ میسور کے حکمراں بنے تو انہوں نے انگریزوں کے ہاتھوں تباہ کردہ جنگی جہازوں کی جگہ دوسرے جہازوں کا لانا ضروری نہیں سمجھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پاس چھوٹے بڑے بہت سے جنگی جہاز تھے، لیکن اس سے وہ صرف تاجروں کو بحری قزاقوں سے محفوظ رکھنے ہی کا کام لیتا تھا۔ تعداد اور سامانِ جنگ دونوں اعتبار سے وہ انگریز بحریہ کا مقابلہ کرنے کے اہل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تیسری اینگلو میسور جنگ میں میسوری بحریہ نے افسوسناک کردار ادا کیا اور انگریزوں نے آسانی سے ٹیپو کے مالاباری مقبوضات پر قبضہ کرلیا ، بلکہ مرہٹہ بحریہ بھی میسور کی ایک بندرگاہ پر قابض ہوگئی جو ضلع کاروار میں تھی۔ متعدد اینگلومیسور جنگوں کے بعد سلطان کو اپنی بحریہ کی اس کمی کا احساس ہوا اور اس نے 1793 میں کرناٹک کے علاقے بھٹکل میں ایک بحری اسکول قائم کیا۔ اس اسکول کی طرزِ تعلیم انگریزی طرزِ جہاز رانی پر رکھی گئی۔ بحری فوجی تعلیم کے لیے ایک کتاب لکھی گئی جس میں جہاز کے ایک کیل سے لے کر پورے جہاز کی ضروریات، جہازوں کی تعمیر، جنگ کے قواعد، جہاز چلانا، سپاہیوں کی خوراک، ہاربر (جہازوں کی پناہ گاہ) بنانا وغیرہ کے متعلق مفصل اور مشرح احکام موجود تھے۔بحریہ کو بورڈ آف ٹریڈ (محکمہ¿ تجارت) کی ماتحتی سے نکال کر ٹیپو سلطان نے 1796 میں ایک میریم کے تحت بحریہ بورڈ بنایا، جس کے تیس میربحر (ایڈمرل)، ایک میرزائے دفتر، ایک متصدی اور بڑا سا عملہ ایک اندازے کے مطابق 10,520 تھا۔ میربحر بندرگاہوں پر مقیم ہوتے تھے۔ بحریہ میں بائیس بڑے جنگی جہاز اور بیس چھوٹے جنگی جہاز تھے، بڑے جنگی جہازوں کو دو طبقوں اول اور دوم میں تقسیم کی گیا تھا۔ ان میں بالتریب بہتر (72) اور باسٹھ (62) توپیں نصب ہوتی تھیں۔ جبکہ چھوٹے جہازوں پر چھیالیس (46) توپیں نصب ہوتی تھیں۔جہازوں کی تعمیر کے لیے تین گودیاں، ایک منگلور میں، دوسری میر جان کے نزدیک واجد آباد میں اور تیسری مولد آباد میں بنائی گئی تھی ۔ ان گودیوں کے لیے مالابار کے جنگلوں سے ساگوان کی اعلیٰ لکڑی کاٹ کاٹ کر کالی کٹ سے بھیجی جاتی تھی۔جہازوں کے نقشے خود سلطان ٹیپو بنا کر بھیجتا تھا۔یہ منصوبہ بڑے جوش و خروش سے ہاتھ میں لیا گیا تھا، لیکن سقوطِ سرنگاپٹم کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔ ٹیپو کی 4 مئی 1799ءمیں شکست کے بعد منگلور، کنداپور اور تدری کی بندرگاہوں سے جو جہاز ملے ان کی تعداد پینتیس (35) تھی۔ ان سب کا تناسب معقول اور صناعی عمدہ تھی۔ ٹیپو سلطان کی افواج کا جائزہ لینے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگر غداروں نے ٹیپو سلطان سے غداری نہ کی ہوتی تو ٹیپو سلطان کی فوج کو شکست دینا مشکل تھا۔
محمد عارف سومرو


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر