... loading ...

ٹیپو سلطان کی فوج کا سب سے خطرناک ہتھیار “تغرق” المعروف میسوری راکٹ تھا،بری افواج کے علاوہ مؤثر بحریہ فوج بھی اس کی قوت تھی‘حیدر علی اور ٹیپو کوتوپوں کے معاملے میں انگریزوں پر فوقیت حاصل تھی، ٹیپو سلطان سے غداری نہ کی گئی ہوتی تواس کی فوج کو شکست دینا مشکل تھا‘
ٹیپو سلطان(10نومبر 1750۔4 مئی 1799ء) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا۔
”شیر کی ایک دن کی زندگی‘ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“
آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے۔ سلطان نے انتہائی دورس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو از سر نو منظم کیا۔ سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا‘ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگا پٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھر پور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا‘ غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی‘ بارود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 1799ءمیں دوران جنگ سر پر گولی لگنے سے شہید ہوگئے۔
ہندوستان کو غلامی سے بچانے کی کوشش میں اپنی جان دینے والا پہلا ہندوستانی حکمران ٹیپو سلطان بیک وقت حکمران‘ عالم ‘مفکر ‘مدبر ‘جرنیل انجینئر تاجر زاہد متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔
ٹیپو سلطان کی فوج کا نظم و نسق اعلیٰ پائے کا تھا۔ اس کی فوج باضابطہ اور مستقل تھی، جو نظام حیدرآباد اور مرہٹوں کے مقابلے میں بہتر مسلح، بہتر تربیت یافتہ اور زیادہ جنگ آزمودہ تھی۔ انگریز مصنف کیمپل کے مطابق “ٹیپو ایک مستعد، اولو العزم اور مہم جو حکمراں تھا۔ جن ایشیائی سلطنتوں سے ہم واقف ہیں ان کے مقابلے میں ٹیپو کی فوجی تنظیم بہتر ہے”۔ ٹیپو کے بے ضابطہ سوار بھی بہت زیادہ کارآمد تھے، وہ ہر طرح کی تنگی برداشت کرسکتے تھے۔ٹیپو کی پیدل فوج کے سپاہی یورپی سپاہ کی طرح دستی بندوقوں اور سنگینوں سے لیس ہوتے تھے، جو میسور ہی میں فرانسیسی ساخت کی بنائی جاتی تھیں۔ ٹیپو کی فوج کے پاس انگریزی اور فرانسیسی اسلحے بھی کثیر مقدار میں تھے، لیکن میسور کے بنے ہوئے اسلحہ کے استعمال کو وہ ترجیح دیتا تھا، اگرچہ وہ ہمیشہ عمدہ قسم کے نہیں ہوتے تھے۔ اس کی ہلکی توپیں فرانسیسی صناعوں کی مدد سے میسور ہی میں ڈھالی جاتی تھیں۔ ان توپوں کے دہانے چونکہ انگریزی توپوں سے بڑے ہوتے تھے اس لیے وہ دور مار ہوتیں اور میدانِ جنگ میں زیادہ موثر ہوتیں، اسی بنا پر حیدر علی اور ٹیپو سلطان دونوں کو گولہ باری میں انگریزوں پر خاصہ تفوق حاصل رہا تھا۔ ٹیپو سلطان کی فوج کا سب سے خطرناک ہتھیار “تغرق” نامی راکٹ تھا جسے عرف عام میں میسوری راکٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ راکٹ دو کلومیٹر کے فاصلے پر درست نشانہ لگاتا تھا۔ اس راکٹ کی بدولت انگریزی افواج کو اینگلو۔میسور جنگوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پیدل فوج کی تربیت یورپین طرز پر ہوتی تھی۔ کمان کی تمام اصطلاحیں فارسی زبان کی ہوتی تھیں۔ ان کے لباس ارغوانی رنگ کی ایک سوتی صدری ہوتی جس پر شیر کی کھال جیسے گل ہوتے، سرخ یا زرد رنگ کی پگڑی ہوتی اور مختصر سا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ ہوتا۔ فوجی ڈسپلن کو ٹیپو بڑی سختی سے برقرار رکھتا تھا اور اس نے حکم جاری کیا تھا کہ جنگ کے دوران اگر کوئی سپاہی فرار ہونے کی کوشش کرے تو اسے گولی مار دی جائے۔ ٹیپوسلطان فوجی سربراہی خود اپنے ہی ہاتھ میں رکھتا تھا اور چونکہ امن ہو یا جنگ دونوں زمانوں میں وہ فوج کے ساتھ ہی رہتا تھا، اس لیے اس کی موجودگی سے فوجیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جوجوش و جذبہ پایا جاتا تھا، جو دوسرے ہندوستانی حکمرانوں کی فوج میں ناپید تھا۔ میسوری فوج میں جمعرات کا دن چھٹی کا ہوتا تھا۔
اپنی حکمرانی اور متعدد اینگلو ۔ میسور جنگوں کے تجربات کے بعد ٹیپو نے فوج کی تنظیمِ نو کی۔ اس تنظیمِ نو کے نتیجے میں” بخشی” فوج کا اہم ترین افسر بن گیا، جو اس سے پہلے صرف تنخواہیں تقسیم کرتا تھا۔ اس تنظیمِ نو میں عسکر (سواروں) کو چار کچہریوں (برگیڈ) میں اور کچہری کو پانچ موکموں (رجمنٹ) میں تقسیم کیا گیا۔ ہر کچہری یا موکم میں سپاہیوں کی تعداد متعین نہیں تھی۔ کچہری کے کمانڈر کو بخشی اور موکم کے کمانڈر کو موکمدار کہا جاتا تھا۔ موکم کو چار رسالوں (اسکواڈرن) میں تقسیم کی گیا۔ ہر رسالہ کا سربراہ ایک رسالدار ہوتا۔ رسالوں کو یاز (ٹولیوں) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر یاز کا سربراہ ایک یزکدار (کیپٹن) ہوتا، جس کے تحت سرخیل (لیفٹیننٹ)، حوالدار اور سپاہی ہوتے تھے۔
محمود خاں محمود بنگلوری اپنی کتاب تاریخ سلطنت خداداد میسور میں رقم طراز ہیں کہ “سلطنت خداداد میسور میں کل فوج کی تعداد تین لاکھ بیس ہزار تھی”۔ٹیپو سلطان نے ایک فرمان کی رو سے بری فوج کو جس کا نام پیادہ عسکر” تھا، پانچ ڈویژنوں میں تقسیم کیا تھا اور ہر ڈویژن میں 27 قشتون (رجمنٹیں) تھیں اور ہر رجمنٹ میں 1392 سپاہی ہوتے تھے، جن میں 1056 سپاہیوں کے پاس بندوقیں ہوتی تھیں۔ ہر رجمنٹ کے ساتھ ان کے باربرداری کے جوان بھی ہوتے تھے۔ ہر رجمنٹ میں دو توپیں اور گولنداز بھی رہتے تھے۔ سوار کو سلطان نے تین محکموں باقاعدہ کیولری، سلحدار اور کازک میں تقسیم کی تھا۔ ان میںاوّل الذکر کو سوار کہا جاتا تھا۔ اس عسکر کے تین ڈویژن تھے، جن میں ہر ایک میں چھ رجمنٹیں اور ہر رجمنٹ میں 376 سوار متعین تھے۔ ان سواروں کو گھوڑے دئیے جاتے تھے، لیکن سلحدار اور کازک جو تعداد میں بالترتیب 8,000 اور 6,000 تھے، اپنے خاص گھوڑے رکھتے تھے۔ ٹیپو کی فوج میںکل 900 ہاتھی، 600 اُونٹ، 30,000 گھوڑے اور 400,000 باربرداری کے بیل تھے۔
ماڈرن میسور کا مصنف بیان کرتا ہے کہ “ملک کی مدافعت کے لیے ایک لاکھ اسی ہزار کی بہترین منظم و باقاعدہ فوج تھی۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ باسٹھ ہزار پانچ سو کی امدادی فوج تھی، جو مختلف کاموں پر مامور تھی”۔ سلطان نے اپنے فوجی محکمے کے لیے اپنی زیر نگرانی ایک کتاب لکھوائی، جس کا نام “تحف المجاہدین” تھا (لیکن یہ فتح المجاہدین کے نام سے مشہور ہوئی) ، جس میں فوجی تنظیم اور تربیت کے اصول و ضوابط قلم بند کیے گئے تھے۔
ٹیپو کی فوج میںبہترین بری افواج کے علاوہ مؤثر بحریہ فوج بھی موجود تھی۔ سلطنت میسور کی بحریہ کے قیام کی ابتدا دراصل نواب حیدر علی نے کی۔ نواب حیدر علی نے بحریہ تیار کرنے کی2بار کوشش کی تھی۔ اس کی پہلی کوشش کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ اس کا بحری کمانڈر اسٹین نٹ بھاگ کر انگریزوں سے مل گیا اور اپنے ساتھ متعدد جہاز بھی لے گیا۔ اس نقصان کے بعد نواب حیدر علی نے یورپین ماہرین کی مدد سے دوبارہ ایک بحری بیڑہ تیار کیا۔ اس مرتبہ برطانوی بحری کمانڈر سر ایڈورڈ ہیگیز نے اس کے بیڑے کی کمر توڑ دی اور 1780 میں منگلور میں داخل ہوکر اس نے بہت سے لنگر انداز جہازوں کو تباہ کردیا تھا۔
ٹیپو سلطان جب باپ کی جگہ میسور کے حکمراں بنے تو انہوں نے انگریزوں کے ہاتھوں تباہ کردہ جنگی جہازوں کی جگہ دوسرے جہازوں کا لانا ضروری نہیں سمجھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پاس چھوٹے بڑے بہت سے جنگی جہاز تھے، لیکن اس سے وہ صرف تاجروں کو بحری قزاقوں سے محفوظ رکھنے ہی کا کام لیتا تھا۔ تعداد اور سامانِ جنگ دونوں اعتبار سے وہ انگریز بحریہ کا مقابلہ کرنے کے اہل نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تیسری اینگلو میسور جنگ میں میسوری بحریہ نے افسوسناک کردار ادا کیا اور انگریزوں نے آسانی سے ٹیپو کے مالاباری مقبوضات پر قبضہ کرلیا ، بلکہ مرہٹہ بحریہ بھی میسور کی ایک بندرگاہ پر قابض ہوگئی جو ضلع کاروار میں تھی۔ متعدد اینگلومیسور جنگوں کے بعد سلطان کو اپنی بحریہ کی اس کمی کا احساس ہوا اور اس نے 1793 میں کرناٹک کے علاقے بھٹکل میں ایک بحری اسکول قائم کیا۔ اس اسکول کی طرزِ تعلیم انگریزی طرزِ جہاز رانی پر رکھی گئی۔ بحری فوجی تعلیم کے لیے ایک کتاب لکھی گئی جس میں جہاز کے ایک کیل سے لے کر پورے جہاز کی ضروریات، جہازوں کی تعمیر، جنگ کے قواعد، جہاز چلانا، سپاہیوں کی خوراک، ہاربر (جہازوں کی پناہ گاہ) بنانا وغیرہ کے متعلق مفصل اور مشرح احکام موجود تھے۔بحریہ کو بورڈ آف ٹریڈ (محکمہ¿ تجارت) کی ماتحتی سے نکال کر ٹیپو سلطان نے 1796 میں ایک میریم کے تحت بحریہ بورڈ بنایا، جس کے تیس میربحر (ایڈمرل)، ایک میرزائے دفتر، ایک متصدی اور بڑا سا عملہ ایک اندازے کے مطابق 10,520 تھا۔ میربحر بندرگاہوں پر مقیم ہوتے تھے۔ بحریہ میں بائیس بڑے جنگی جہاز اور بیس چھوٹے جنگی جہاز تھے، بڑے جنگی جہازوں کو دو طبقوں اول اور دوم میں تقسیم کی گیا تھا۔ ان میں بالتریب بہتر (72) اور باسٹھ (62) توپیں نصب ہوتی تھیں۔ جبکہ چھوٹے جہازوں پر چھیالیس (46) توپیں نصب ہوتی تھیں۔جہازوں کی تعمیر کے لیے تین گودیاں، ایک منگلور میں، دوسری میر جان کے نزدیک واجد آباد میں اور تیسری مولد آباد میں بنائی گئی تھی ۔ ان گودیوں کے لیے مالابار کے جنگلوں سے ساگوان کی اعلیٰ لکڑی کاٹ کاٹ کر کالی کٹ سے بھیجی جاتی تھی۔جہازوں کے نقشے خود سلطان ٹیپو بنا کر بھیجتا تھا۔یہ منصوبہ بڑے جوش و خروش سے ہاتھ میں لیا گیا تھا، لیکن سقوطِ سرنگاپٹم کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا۔ ٹیپو کی 4 مئی 1799ءمیں شکست کے بعد منگلور، کنداپور اور تدری کی بندرگاہوں سے جو جہاز ملے ان کی تعداد پینتیس (35) تھی۔ ان سب کا تناسب معقول اور صناعی عمدہ تھی۔ ٹیپو سلطان کی افواج کا جائزہ لینے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگر غداروں نے ٹیپو سلطان سے غداری نہ کی ہوتی تو ٹیپو سلطان کی فوج کو شکست دینا مشکل تھا۔
محمد عارف سومرو
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...
یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...
آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...