وجود

... loading ...

وجود

تھر کے عوام کی امیدوں کامرکز ‘رینی کینال پروجیکٹ وفاقی امداد کا منتظر

جمعرات 27 اپریل 2017 تھر کے عوام کی امیدوں کامرکز ‘رینی کینال پروجیکٹ وفاقی امداد کا منتظر

منصوبہ اس اعتبار سے بہت اہمیت رکھتاہے کہ اس میں سیلاب کے دنوں میں آنے والا اضافی پانی ذخیرہ کیاجاسکے گا جو سندھ کی بنجر زمینوں پر کاشت کیلئے استعمال کیاجاسکے گا منصوبے کی نظر ثانی شدہ لاگت کی منظوری کیلئے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی جاچکی، وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہ کئے جانے کے سبب اس کی منظوری نہیں دی جارہی

گڈو بیراج کے بائیں جانب واقع رینی کینال کا پروجیکٹ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی اورصوبائی حکومت کی جانب سے اس کی تعمیر کی نظر ثانی شدہ لاگت کی عدم منظوری کی وجہ سے تعمیر شروع کئے جانے کامنتظر ہے۔دفاعی اعتبار سے اہم تصور کی جانے والی بعض تبدیلیوں کی وجہ سے اس کی تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوگیاہے لیکن سندھ کی حکومت نہ تو اس کی منظوری دینے کو تیار نظر آتی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت اس کیلئے فنڈز فراہم کررہی ہے ، اس طرح یہ اہم منصوبہ معلق ہوکر رہ گیاہے۔اطلاعات کے مطابق منصوبے کی نظر ثانی شدہ لاگت کی منظوری کیلئے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی جاچکی ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہ کئے جانے کے سبب اس کی منظوری نہیں دی جارہی ہے۔
اطلاعات کے مطا بق وزیر اعلیٰ سندھ رینی کینال منصوبے کی جلد تکمیل چاہتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ کئے جانے کے سبب وہ بے بس نظر آتے ہیں ، اس حوالے سے گزشتہ ماہ انھوں نے واپڈا کے چیئرمین سے ملاقات کرکے انھیں اس منصوبے پر کام تیز کرنے کو کہاتھا۔
صوبائی محکمہ آبپاشی کے حکام کاکہنا ہے کہ رینی کینال منصوبہ اس اعتبار سے بہت اہمیت رکھتاہے کہ اس میں سیلاب کے دنوں میں آنے والا اضافی پانی ذخیرہ کیاجاسکے گا اور یہ پانی سندھ کی بنجر پڑی ہوئی صحرائی زمینوں پر فصلیں کاشت کرنے کیلئے استعمال کیاجاسکے گا اس طرح اس کینال کی تعمیر سے جہاں سندھ کے پانی سے محروم وسیع علاقے کے عوام کو پینے اور روزمرہ ضرورت کے لئے پانی کی فراہمی ممکن ہوجائے گی بلکہ سندھ کی دھول اڑتی زمین لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں تبدیل ہوجائے گی۔
نقشے کے مطابق یہ کینال مجموعی طورپر 175 کیلومیٹر طویل ہوگی اس کا پہلا مرحلہ جو کہ 110 کیلومیٹر پر محیط ہے مکمل کیاجاچکاہے جبکہ صرف65 کیلومیٹر کا کام باقی رہ گیاہے، رینی کینال کی تکمیل سے پورے تھر کے علاقے میں خوشگوار تبدیلی آجائے گی کیونکہ گڈو بیراج کا کم وبیش 10 ہزار کیوسک پانی اس میں ذخیرہ کیاجاسکے گا جس میں سے 5ہزار کیوسک پانی اس کینال کے ذریعے تھر کینال کو فراہم کیا جائے گا جس سے تھر کے علاقے میں 4لاکھ 12 ہزار ایکڑ بنجر زمین پر کاشت ممکن ہوسکے گی۔اس میں سے ایک لاکھ 13 ہزار ایکڑ زمین کو پانی رینی کینال کے پہلے 110 کیلومیٹر پر محیط مرحلے کے ذریعے جو مکمل کیاجاچکاہے فراہم کیاجائے گا جبکہ بقیہ علاقے کو پانی کینال کے اس حصے سے فراہم کیاجائے گا جس کی تعمیر کاکام فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب رکاہواہے۔
آبپاشی کے حکام کاکہناہے کہ تھر کے علاقے میں تمام قابل کاشت اراضی ایسے علاقے میں واقع ہے جہاںبارشوں کے سوا صاف پانی کا کوئی تصور نہیں ہے،واپڈا نے اس کینال کامنصوبہ سیلابی پانی کی نکاسی کیلئے پیش کیاتھا۔واپڈا حکام کاکہنا ہے کہ سیلابی پانی کی نکاسی کے ساتھ ہی اس کاکچھ حصہ کینال میں محفوظ کرلیاجائے گا جو علاقے میں کاشتکاری کے لئے استعمال ہوگا جبکہ اس کینال کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی سے صحرا کی پیاسی زمین کو پانی ملے گا جس سے علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور اس سے استفادہ کرنا ممکن ہوسکے گا۔
رینی کینال گھوٹکی کے علاقے کھینجو ٹاؤن سے شروع کی گئی ہے اور گھوٹکی کے علاقے آرڈی 181 پر تھرکینال اس سے ملتی ہے ،اس اصل کینال کے ساتھ ایک اسکیپ چینل بھی تعمیر کیاگیاہے تاکہ کچھ اضافی پانی اس میں بھی ذخیرہ ہوسکے اور علاقے کے لوگوں کے کام آسکے۔
اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت یہ کینال مٹھی تک جائے گی اور اس کے ذریعے اس پورے علاقے کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ان کے مویشیوں کیلئے پانی اور چارے کی فراہمی کا بھی ذریعہ بن جائے گی۔تاہم ایسا اسی وقت ہوسکے گا جب اس کے دوسرے مرحلے کیلئے وفاقی حکومت رقم فراہم کرنے پر تیار ہوجائے اور کام کابلاتاخیر آغاز ہوجائے ،اس کی تکمیل سے اس پورے علاقے میں جولائی اگست کے دوران اضافی رقبے پر کاشت ممکن ہوسکے گی جس سے نہ صرف یہ کہ علاقے کے لوگوں کی غذائی ضرورت پوری ہوگی بلکہ ان کی آمدنی میں معقول اضافہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں غربت کم ہوگی اور فاقہ کشی اور کم غذائیت کی وجہ سے بچوں کی اموات کاسلسلہ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت کے مطابق اس کی تکمیل پر 43 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ اس پروجیکٹ پر اب تک 18 ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔اس مقصد کیلئے مزید رقم کی فراہمی کیلئے ایکنک اور سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری کاانتظار ہے جس کے بعد ہی وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اس پروجیکٹ کیلئے مزید رقم فراہم کی جاسکے گی۔
سندھ کے سابق سیکریٹری آبشاپی بابر آفندی کاکہناہے کہ سیلاب کے دنوں میں گڈوبیراج کو پانی کے شدید دباؤ سے محفوظ رکھنے کیلئے گڈو بیراج کے بالائی علاقے میںکم وبیش ایک لاکھ کیوسک پانی کی گنجائش کی یک متبادل چینل کی تعمیر بھی از حد ضروری ہے ۔آفندی کاکہناہے کہ اگر گڈو بیراج پر 12 لاکھ کیوسک کاسیلابی ریلا آتاہے توا س سے ایک لاکھ کیوسک نکال دیاجائے تو اس سے اس ریلے کا زور بڑی حد تک ٹوٹ جائے گا اور اس متبادل چینل سے نہ صرف یہ کہ پانی بآسانی محفوظ طریقے سے نکالا جاسکے گا بلکہ اس سے اردگرد کے علاقوں کو وافر پانی میسر آسکے گا۔آفندی کا کہناہے کہ وفاقی حکومت پراس مقصد کیلئے رقم کی فراہمی کیلئے دباؤ ڈالا جانا چاہئے بلکہ اگر ضرورت محسوس ہوتو اس پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے عالمی بینک سے رجوع کرنا چاہئے۔آفندی کاکہناہے کہ اس اسکیپ چینل کی تعمیر سے اچھرو تھر تک کے بنجر علاقے کو پانی فراہم کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔جس سے یقینا علاقے میںخوشحالی آئے گی۔
سندھ کی حکومت اس منصوبے میں اس لئے زیادہ دلچسپی لے رہی ہے کہ اس کے ذریعے تھر کے وسیع علاقے کے لوگوں کو پینے اور دیگر ضروریات کیلئے پانی کی فراہمی کے ساتھ ہی علاقے میں کاشتکاری کیلئے بھی مناسب مقدار میں پانی دستیاب ہوسکے گا جس سے طویل عرصے سے بھوک اور بیروزگاری کے شکار اس علاقے کے لوگوں کے چہروں پر بھی خوشی کی لہر دوڑ سکے گی۔
اب دیکھنایہ ہے کہ وفاقی حکومت کے سربراہ میاں نواز شریف جو گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ میں اپنی پارٹی کوزندہ کرنے کیلئے کچھ زیادہ ہی سرگرم ہیں سندھ کے تباہ حال علاقے تھر پارکر کے عوام کو بھوک، غربت اور بیروزگاری کے عفریت سے نجات دلانے کیلئے رینی کینال کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کرنے کے احکامات کب دیتے ہیں اور ان احکامات پر عمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگتا ہے؟
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر