... loading ...

عمران خان نے سندھ کے ویتنام دادو میں کامیاب جلسہ کرکے پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دادو میں ایک کامیاب جلسہ کرکے ہی سب کو نہیں چونکایا بلکہ اُنہوں نے مسلم لیگ نون کے خلاف پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ نہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مستقبل میں سندھ کی انتخابی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے حوالے سے یہ غلط یا صحیح رائے موجود تھی کہ وہ ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے انتخابی میدانوں یعنی مسلم لیگ نون سندھ میں اور پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کا پنجاب میں تقریباً صفایا ہوگیا جبکہ مسلم لیگ سندھ میں اُن برادریوں یا جماعتوں کی حمایت سے بتدریج محروم ہوتی چلی گئی جو گزشتہ انتخابات کے بعد بھی اگلے دو تین برسوں تک ’’پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ‘‘ کے بمصداق اُس سے جڑی رہی تھی۔ مگرمسلم لیگ نون کی طرف سے سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے کوئی بڑا چیلنج کھڑا نہ کرنے کے باعث آہستہ آہستہ وہ تمام سیاسی شخصیات اُن سے دور ہوتی چلی گئیں جو بڑی حد تک پیپلزپارٹی کے مقابلے میں انتخابی معرکوں میں کامیابی بٹورنے کی صلاحیت رکھتی تھیں ۔ اس کا اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سندھ کی انتخابی قوت رکھنے والی سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ بھی عین اُس وقت کرنا شروع کیا ہے جب سیاسی حالات مختلف کروٹیں لے کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان سیاسی خلیج کو بڑھاچکے ہیں۔ ہر وقت مسکراہٹ سجائے رکھنے والے آصف علی زرداری کی بھنویں اب تنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اور ہمہ وقت مفاہمت کے لیے تیار دکھائی دینے والے زرداری اب مسلم لیگ سے کبھی مفاہمت نہ کرنے کے شعلہ انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مولا بخش چانڈیو مسلم لیگ نون کے خلاف پنجابی فلموں کے مولا جٹ بن چکے ہیں اور اُدھر مسلم لیگ نون سے عابد شیر علی، طلال چودھری اور دانیال عزیز شاید کم پڑرہے تھے کہ راولپنڈی میں قدرے گم ہوجانے والے حنیف عباسی کو برآمد کرکے اُنہیں پیپلزپارٹی کے خلاف چڑھائی کے لیے آزمایا جانے لگا ہے۔ بظاہر یہ وہ موقع دکھائی دے رہا تھاجب تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر اپنے ’’مشترکہ دشمن‘‘ کے خلاف ایک سیاسی صف آرائی کرسکتی تھی۔پیپلزپارٹی کی جانب سے گزشتہ دو روز سے تحریک انصاف کو اس کے مسلسل اشارے بھی دیے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ خود آصف علی زرداری نے بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف اپنے ماتھے کی شکنیں کچھ کم اور مسکراہٹ بکھیرتے لب کچھ زیادہ پھیلائے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری اعتزاز احسن نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے حزب اختلا ف کی سیاست کے سب سے تیزگفتار رفیق شیخ رشید کے ذریعے عمران خان کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ آصف علی زرداری کو ایک فون کرلیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس پیغام کو نظر انداز کردیا ۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف وقتی حمایت کی تلاش سے کہیں زیادہ سندھ کی انتخابی سیاست کے مدوجزر پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی عمران خان کو نوازشریف کے خلاف اپنی حمایت دے کر جہاں ایک طرف سندھ کی سیاست میں پیپلزپارٹی مخالف فضاء کو عمران خان کے حق میں مڑنے سے روک لگانے میں کامیاب ہوتی، وہیں تحریک انصاف کے پاس پیپلزپارٹی کے ساتھ رہ کر نوازشریف کے خلاف پاناما کے مسئلے پر لڑنے کا جواز بھی بہت کم ہوتا چلا جاتا اور وہ ایک بار پھر اُسی طرح کے تنقیدکے ماحول کا شکارہو جاتی جو ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے نعرے کے بعد مختلف بدعنوان رہنماؤں کی تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث گزشتہ برسوں میں اُسے درپیش رہا۔
عمران خان نے یہ پہلا موقع ہے کہ اپنی سیاسی بصیرت کا کچھ زیادہ ہی ثبوت دیا ۔ اور دادو میں ایک ایسا سیاسی جلسہ کردکھایا ہے جس نے پیپلزپارٹی کی صفوں کے اندر کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور پیدا کی ہے۔ لاڑکانہ ، موہنجوڈارو سے چل کر عمران خان نے دادو کے جس مقام پر جلسہ کیا ہے وہ تقریبا چالیس کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔ اس درمیان میں آنے والے دیہاتوں ، گاؤں اور ہر چھوٹے بڑے قصبوں میں عمران خان کے لیے کہیں نہ کہیں استقبال ہوتا رہا۔ دادو میں تمام اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اس جلسے کے میزبان لیاقت جتوئی تقریباً اٹھارہ سال سے اقتدار سے دور ہیں۔ اندرون سندھ کے سیاسی حقائق کوسمجھنے والوں کے لیے یہ کوئی معمولی باتیں نہیں۔ یہ بات اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ سندھ کے دو مقامات ایسے ہیں جنہیں ہمیشہ پیپلزپارٹی کے حق میں ویتنام کہا جاتا رہا ہے اور جو پیپلزپارٹی کے خلاف کسی بھی فضاء میں ایک کامیاب مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ جن میں مورو کے علاوہ دادو کا وہ مقام بھی شامل ہے جس کے آس پاس عمران خان نے ایک کامیاب جلسہ کردکھا یا ہے۔ دادو کا یہ وہی مقام ہے جہاں جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترتے ہوئے یہاں ایک زبردست مزاحمت ہوئی تھی۔ جواب میں ہیلی کاپٹر سے ہونے والی فائرنگ نے انسانی جانوں کو نگل لیا تھا۔ مگر ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ اب وہاں عمران خان نے ایک جلسہ کرکے یہ اعلان کیا کہ ’’نوازشریف پھنس گیا ،اب آصف زرداری کے پیچھے پڑوں گا۔ ‘‘یہاں پر اب عمران خان کی بات سننے والے ہی نہیں تھے بلکہ اُن کی مختلف برادریوں اور قبیلوں کی جانب سے حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی دونوں کے خلاف یک آواز رہیں گے۔ اور یہی پہلو اُنہیں سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف حلقے کی حمایت دلا سکے گا۔ دادو سے اس کا آغاز تو کردیا گیا ہے مگر ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق تحریک انصاف بہت جلد سندھ میں مزید تین بڑے جلسوں کا فیصلہ کرچکی ہے۔ عمران خان کی جانب سے پیپلزپارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ اوریہ تمام جلسے دراصل سندھ میں پی پی مخالف سیاسی فضاء کو انتخابی حمایت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر چہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے بظاہر کوئی پریشانی ظاہر نہیں کررہی مگر اُس کی اندرونی صفوں میں واضح طور پر اس حوالے سے ایک ہلچل دکھائی دیتی ہے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...