وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

تحریک انصاف کی طرف سے سندھ میں مزید جلسے کرنے کی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ

پیر 24 اپریل 2017 تحریک انصاف کی طرف سے سندھ میں مزید جلسے کرنے کی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ

 

عمران خان نے سندھ کے ویتنام دادو میں کامیاب جلسہ کرکے پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دادو میں ایک کامیاب جلسہ کرکے ہی سب کو نہیں چونکایا بلکہ اُنہوں نے مسلم لیگ نون کے خلاف پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ نہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مستقبل میں سندھ کی انتخابی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے حوالے سے یہ غلط یا صحیح رائے موجود تھی کہ وہ ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے انتخابی میدانوں یعنی مسلم لیگ نون سندھ میں اور پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کا پنجاب میں تقریباً صفایا ہوگیا جبکہ مسلم لیگ سندھ میں اُن برادریوں یا جماعتوں کی حمایت سے بتدریج محروم ہوتی چلی گئی جو گزشتہ انتخابات کے بعد بھی اگلے دو تین برسوں تک ’’پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ‘‘ کے بمصداق اُس سے جڑی رہی تھی۔ مگرمسلم لیگ نون کی طرف سے سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے کوئی بڑا چیلنج کھڑا نہ کرنے کے باعث آہستہ آہستہ وہ تمام سیاسی شخصیات اُن سے دور ہوتی چلی گئیں جو بڑی حد تک پیپلزپارٹی کے مقابلے میں انتخابی معرکوں میں کامیابی بٹورنے کی صلاحیت رکھتی تھیں ۔ اس کا اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سندھ کی انتخابی قوت رکھنے والی سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ بھی عین اُس وقت کرنا شروع کیا ہے جب سیاسی حالات مختلف کروٹیں لے کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان سیاسی خلیج کو بڑھاچکے ہیں۔ ہر وقت مسکراہٹ سجائے رکھنے والے آصف علی زرداری کی بھنویں اب تنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اور ہمہ وقت مفاہمت کے لیے تیار دکھائی دینے والے زرداری اب مسلم لیگ سے کبھی مفاہمت نہ کرنے کے شعلہ انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مولا بخش چانڈیو مسلم لیگ نون کے خلاف پنجابی فلموں کے مولا جٹ بن چکے ہیں اور اُدھر مسلم لیگ نون سے عابد شیر علی، طلال چودھری اور دانیال عزیز شاید کم پڑرہے تھے کہ راولپنڈی میں قدرے گم ہوجانے والے حنیف عباسی کو برآمد کرکے اُنہیں پیپلزپارٹی کے خلاف چڑھائی کے لیے آزمایا جانے لگا ہے۔ بظاہر یہ وہ موقع دکھائی دے رہا تھاجب تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر اپنے ’’مشترکہ دشمن‘‘ کے خلاف ایک سیاسی صف آرائی کرسکتی تھی۔پیپلزپارٹی کی جانب سے گزشتہ دو روز سے تحریک انصاف کو اس کے مسلسل اشارے بھی دیے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ خود آصف علی زرداری نے بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف اپنے ماتھے کی شکنیں کچھ کم اور مسکراہٹ بکھیرتے لب کچھ زیادہ پھیلائے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری اعتزاز احسن نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے حزب اختلا ف کی سیاست کے سب سے تیزگفتار رفیق شیخ رشید کے ذریعے عمران خان کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ آصف علی زرداری کو ایک فون کرلیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس پیغام کو نظر انداز کردیا ۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف وقتی حمایت کی تلاش سے کہیں زیادہ سندھ کی انتخابی سیاست کے مدوجزر پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی عمران خان کو نوازشریف کے خلاف اپنی حمایت دے کر جہاں ایک طرف سندھ کی سیاست میں پیپلزپارٹی مخالف فضاء کو عمران خان کے حق میں مڑنے سے روک لگانے میں کامیاب ہوتی، وہیں تحریک انصاف کے پاس پیپلزپارٹی کے ساتھ رہ کر نوازشریف کے خلاف پاناما کے مسئلے پر لڑنے کا جواز بھی بہت کم ہوتا چلا جاتا اور وہ ایک بار پھر اُسی طرح کے تنقیدکے ماحول کا شکارہو جاتی جو ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے نعرے کے بعد مختلف بدعنوان رہنماؤں کی تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث گزشتہ برسوں میں اُسے درپیش رہا۔
عمران خان نے یہ پہلا موقع ہے کہ اپنی سیاسی بصیرت کا کچھ زیادہ ہی ثبوت دیا ۔ اور دادو میں ایک ایسا سیاسی جلسہ کردکھایا ہے جس نے پیپلزپارٹی کی صفوں کے اندر کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور پیدا کی ہے۔ لاڑکانہ ، موہنجوڈارو سے چل کر عمران خان نے دادو کے جس مقام پر جلسہ کیا ہے وہ تقریبا چالیس کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔ اس درمیان میں آنے والے دیہاتوں ، گاؤں اور ہر چھوٹے بڑے قصبوں میں عمران خان کے لیے کہیں نہ کہیں استقبال ہوتا رہا۔ دادو میں تمام اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اس جلسے کے میزبان لیاقت جتوئی تقریباً اٹھارہ سال سے اقتدار سے دور ہیں۔ اندرون سندھ کے سیاسی حقائق کوسمجھنے والوں کے لیے یہ کوئی معمولی باتیں نہیں۔ یہ بات اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ سندھ کے دو مقامات ایسے ہیں جنہیں ہمیشہ پیپلزپارٹی کے حق میں ویتنام کہا جاتا رہا ہے اور جو پیپلزپارٹی کے خلاف کسی بھی فضاء میں ایک کامیاب مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ جن میں مورو کے علاوہ دادو کا وہ مقام بھی شامل ہے جس کے آس پاس عمران خان نے ایک کامیاب جلسہ کردکھا یا ہے۔ دادو کا یہ وہی مقام ہے جہاں جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترتے ہوئے یہاں ایک زبردست مزاحمت ہوئی تھی۔ جواب میں ہیلی کاپٹر سے ہونے والی فائرنگ نے انسانی جانوں کو نگل لیا تھا۔ مگر ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ اب وہاں عمران خان نے ایک جلسہ کرکے یہ اعلان کیا کہ ’’نوازشریف پھنس گیا ،اب آصف زرداری کے پیچھے پڑوں گا۔ ‘‘یہاں پر اب عمران خان کی بات سننے والے ہی نہیں تھے بلکہ اُن کی مختلف برادریوں اور قبیلوں کی جانب سے حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی دونوں کے خلاف یک آواز رہیں گے۔ اور یہی پہلو اُنہیں سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف حلقے کی حمایت دلا سکے گا۔ دادو سے اس کا آغاز تو کردیا گیا ہے مگر ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق تحریک انصاف بہت جلد سندھ میں مزید تین بڑے جلسوں کا فیصلہ کرچکی ہے۔ عمران خان کی جانب سے پیپلزپارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ اوریہ تمام جلسے دراصل سندھ میں پی پی مخالف سیاسی فضاء کو انتخابی حمایت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر چہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے بظاہر کوئی پریشانی ظاہر نہیں کررہی مگر اُس کی اندرونی صفوں میں واضح طور پر اس حوالے سے ایک ہلچل دکھائی دیتی ہے۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر