وجود

... loading ...

وجود

سعودی عرب‘شاہی حکومت کو مختلف محاذوں پر مشکلات کاسامنا،اسلامی اتحاد سے امیدیں وابستہ

جمعه 14 اپریل 2017 سعودی عرب‘شاہی حکومت کو مختلف محاذوں پر مشکلات کاسامنا،اسلامی اتحاد سے امیدیں وابستہ

تیل کی عالمی قیمتوںاور کھپت میں کمی پر قابو پانے کے لیے حکام کی تنخواہوں مراعات میں کٹوتی،زرمبادلہ کی آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش اور سیاحت کی پالیسیوں میں نرمی کی جارہی ہے سیاسی طور پر اندرونی و بیرونی چیلنجز نے حکمرانوں کو گھیر رکھا ہے ، حکومت کی سخت گیر پالیسیوں سے نالاں نوجوان داعش اور القاعدہ کے پروپگنڈے کا بڑے پیمانے پر شکار ہورہے ہیں

سعودی عرب کی حکومت کو ان دنوںگوناگوں مسائل کا سامناہے اور ان مسائل ومشکلات وچیلنجوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں قائم بادشاہت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ سعودی حکومت کو ایک طرف تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کی آمدنی میں زبردست کمی کی وجہ سے مالی مشکلات درپیش ہیں جس میں بتدریج اضافہ ہوتاجارہاہے، اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے پہلے سعودی حکومت نے اپنے وزرا اور شاہی خاندان کے افراد کی تنخواہوں اور مراعات میںکٹوتی کی ، بعد ازاں سعودی عرب میں موجود کمپنیوں پر مختلف طرح کے ٹیکس عاید کئے ،سعودی عوام کوجو ٹیکس دینے کے عادی ہی نہیں ٹیکس نیٹ میں لایاگیا اور ان تمام اقدامات کے باوجود مالی خسارہ کم نہ ہونے پر اب زرمبادلہ کی آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے اور اب سیاحوں کو ترغیب دینے کے لیے مختلف شعبوں میں حکومت کی سخت پابندیوں کی پالیسیوں میں بتدریج نرمی کی جارہی ہے۔
ایک طرف سعودی حکومت کو مالی مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب اس پورے خطے میں سیاسی اتھل پتھل شروع ہوجانے کے اثرات بھی سعودی عرب پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں ،جس کی وجہ سے شاہی حکومت کو مملکت پر کنٹرول قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔سعودی عرب کی شاہی حکومت کواس وقت اندرونی محاذ پر کئی بڑے خطرات اورچیلنجوں کاسامنا ہے، ایک طرف حکومت کو سعودی عرب میں موجود شیعہ آبادی پر کنٹرول رکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے جبکہ دوسری طرف داعش اور القاعدہ نے بھی سعودی عرب میں قدم جمانے کی کوششیں تیز کردی ہیں اور سعودی حکومت کی انتہائی سخت گیر پالیسیوں سے نالاں نوجوان داعش اور القاعدہ کے پروپگنڈے کا بڑے پیمانے پر شکار ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مملکت میں اب پہلے جیسی ”سب اچھا“ کی کیفیت برقرار نہیں ہے،اور عام آدمی کو اندرون خانہ پیدا ہونے والی ہلچل محسوس ہونے لگی ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کو اندرونی محاذ پر ان مسائل اور چیلنجوں کاسامنا ہے اور دوسری جانب روس کے بھرپور تعاون سے اب ایران شام میں قدم جمانے کی بھرپور کوشش کررہاہے، اور شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے اثرات سے سعودی عرب کسی طرح محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہی نہیں بلکہ یمن کے حوثی باغی بھی سعودی عرب کی حکومت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں ،یہاں تک کہ انھوں نے مکہ مکرمہ اور دیگر بڑے شہروں کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بناناشروع کردیاہے اوریہ سلسلہ اب رکتا نظر نہیں آتا۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی شاہی حکومت کو بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت ہے جو تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے اب میسر نہیں ہیںاور بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کی وجہ سے اب اس مملکت کی روایتی خوشحالی بھی خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔
اس مشکل صورت حال سے نمٹنے میںناکامی کے بعد اب سعودی حکومت کی امیدوں کا آخری سہارا راحیل شریف اور مجوزہ اسلامی اتحاد رہ گیا ہے جو اس مملکت کی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرکے اس کاخاتمہ کرسکتاہے۔
سعودی عرب کی شاہی حکومت کو درپیش یہ مسائل راتوں رات پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سعودی حکومت کی ان دیرینہ پالیسیوں کانتیجہ ہیں جو انھوں نے شخصی اور خاندانی حکومت قائم رکھنے کے لیے اختیار کر رکھی تھیں۔سعودی حکومت کی جانب سے مملکت میں اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے پوری توجہ شاہی حکومت کو مستحکم اور مضبوط رکھنے پر مرکوز رکھی گئی یہاں تک کہ خارجہ پالیسی میں بھی سعودی حکومت نے مملکتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے بجائے مختلف سربراہان مملکت کے ساتھ تعلقات کومستحکم کرنے کی کوشش کی اور تبدیلی کی موجودہ لہر کے دوران ان رہنماؤں کے زوال کی وجہ سے سعودی عرب کی شاہی حکومت نے جن کے ساتھ اپنی دوستی استوار کی تھی، مختلف ممالک کے ساتھ سعودی حکومت کے تعلقات اب پہلے جیسی نہیں رہے۔
دفاع کے شعبے میں بھی سعودی حکومت نے کم وبیش اسی رویے اور سوچ کو فروغ دیا اور ایک متحد قومی دفاعی ادارہ قائم کرنے اور تمام مسلح افواج کوا س ادارے کے ماتحت کرنے کے بجائے ،سعودی فوج کو دو ٹکڑیوں میں تقسیم کردیاگیا ۔فوج کاایک حصہ جو نیشنل گارڈ کہلاتاہے سعودی وزارت نیشنل گارڈ کے ماتحت کام کرتاہے جبکہ فوج کا دوسرا حصہ جو سعودی حکمرانوں اور شاہی گھرانے کازیادہ وفادار تصور کیا جاتاہے سعودی وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتاہے۔ اس کے علاوہ سعودی فوج کی کمانڈ کی پالیسی بھی شاہی خاندان اور دوسرے شاہی گھرانے کے بااثر قبیلوں کے ماتحت ہے اور میرٹ کے بجائے ان کی مرضی کے مطابق ہی فوج کے سربراہ اور دوسرے اہم عہدوں پر تقرریاں ہوتی ہیں۔اس طرح سعودی عرب کادفاعی نظام بنیادی ادارہ جاتی اصولوں سے عاری ہے جس میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قابلیت ہی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔جبکہ پوری دنیا میں صدیوں سے فوج میں تقرریاں اور خاص طورپر اس کی کمانڈرشپ پرتقرریوں کے لیے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا اور
حکمرانوں کی پسند وناپسند کاخیال چند بڑے عہدوں تک ہی محدود رکھا جاتاہے جبکہ فوج کی پوری رینک اور فائل میں تقرریاں خالص میرٹ اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی فوج کاشمار دنیا کی بہترین اور منظم افواج میں کیاجاتاہے، ایک لڑاکا فوج کی حیثیت سے پوری دنیا میں پاک فوج کی صلاحیتوں کوتسلیم کیاجاتاہے اور حالیہ برسوں کے دوران پاک فوج نے افغان سرحد کے ساتھ ملک کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میںدہشت گردوں کے ٹھکانوں کا کامیابی کے ساتھ صفایا کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا سے منوالیا ہے ۔پاک افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے یمن میں حوثی باغیوں کے زیر اثر دشوار گزار علاقوں سے بڑی مماثلت رکھتے ہیں ، اور غالباً یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنی اتحادی فوج کی قیادت کے لیے جنرل راحیل شریف کی خدمات پر ہی اصرار کیا ۔سعودی عرب کی جانب سے راحیل شریف کی خدمات حاصل کرنے پر اصرار کی بنیادی وجہ سعودی فوج کی جانب سے پاکستان کے مقابلے میں 8 گنا سے زیادہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود حوثی باغیوں کو کچلنے اور ان کے حملے روکنے میں ناکامی ہے۔سعودی عرب کے
حکمرانوں کو مملکت کو درپیش موجودہ چیلنجوں اور ان سے نمٹنے میں سعودی فوج کی ناکامی کے بعد یہ احساس ہوگیاہے کہ اس طرح کی نازک صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور عزم مصمم کی ضرورت ہوتی ہے اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے ان صلاحیتوں کاثبوت دیا ہے۔تاہم اس حوالے سے ایک بنیادی نکتہ جسے غالباً سعودی حکمرانوں نے نظر انداز کردیاہے یہ ہے کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی ایک فرد کی کوششوں کانتیجہ نہیں ہیں بلکہ بحیثیت پوری فوج کی صلاحیتوں اور کوششوں کی وجہ سے یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے، سعودی عرب کے حکمرانوں کو یہ اہم نکتہ نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کسی بھی معرکے اور چیلنج سے بھرپور انداز میں کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک ایسی مربوط اور منظم فوج کی ضرورت ہوتی ہے جو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہونے کے ساتھ ہی بھرپور جذبے سے بھی سرشار ہو۔ جبکہ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیاہے سعودی فوج کو ایک مربوط فوج قرار نہیں دیاجاسکتا جبکہ سعودی فوج کو ایک خاص نکتہ نظر سے تیار کی جانے والی فورس ہی قرار دیاجاسکتاہے، اس فوج کو ایک منظم اور مربوط فوج کی شکل دینا آسان کام نہیں ہے یہ کام فوج میں برسوں کی تربیت جوانوں اور افسران میں قائدانہ صلاحتیوں کوفروغ دینے کے لیے ان میں مقابلے کا جذبہ پیدا کرنے کے بعد
ہی ممکن ہوسکتاہے ۔ جہاں تک پاکستان کی فوج کاتعلق ہے تو یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں فوج کے سربراہ کاتقرر وزیراعظم کی صوابدید پرہوتاہے لیکن فوج کے سربراہ کے تقرر کے بعد فوج کے دیگر معاملات میں حکومت کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی جاتی ،فوج کے اندر تقرریوں اورتبادلوں اور ترقیوں کا فیصلہ فوج کا سربراہ اپنے نائبین کے مشورے سے خالص صلاحیت کی بنیاد پر کرتاہے اور کبھی بھی حکومت کی جانب سے اس پرکوئی اعتراض نہیں کیاجاتا۔جبکہ سعودی عرب میں فوج میں تقرریاں اور ترقیاں وزیر دفاع کی صوابدید پر کیاجاتاہے اور اس کامقصد ایک ایسی وفادار فوج قائم رکھناہے جسے کسی بھی وقت فوج کی جانب سے بغاوت کا کوئی خدشہ نہ رہے ۔
جہاں تک اب سعودی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے فوجی اتحاد کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں پوری دنیا میں عام تاثر یہی ہے کہ سعودی حکومت نے یہ اتحاد اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قائم کیاہے،اگر یہ تصور کسی حد تک بھی درست ہے تو پھر اس اتحاد کی قیادت جو کوئی بھی سنبھالے گا وہ اپنی پالیسیوں میں مکمل طورپر آزاد نہیں ہوگااور سعودی حکمرانوں کے احکامات پر عملدرآمدکرنے کاپابند ہوگا۔ایسی صورت میں اسے اپنی قائدانہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کاموقع ہی نہیں مل سکے گاجس کی وجہ سے اس کی قائدانہ صلاحیتیں متاثر ہوں گی ۔اس کے علاوہ اگر کوئی مقصد سامنے نہ ہو تو وہ جذبہ سامنے نہیں آسکتاجو کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کرائے کی فوج کبھی کسی محاذ پر اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرپاتی جب تک اس کی پشت پر جذبے سے سرشار کوئی فورس موجود نہ ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک فوج کے مایہ ناز جنرل راحیل شریف اس صورت حال میں سعودی اتحادی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور وہ سعودی فوج کو ایک ایسی منظم اور متحدفوج بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں جو وطن کے دفاع کے جذبے سے بھی سرشار ہو۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر