وجود

... loading ...

وجود

سعودی عرب‘شاہی حکومت کو مختلف محاذوں پر مشکلات کاسامنا،اسلامی اتحاد سے امیدیں وابستہ

جمعه 14 اپریل 2017 سعودی عرب‘شاہی حکومت کو مختلف محاذوں پر مشکلات کاسامنا،اسلامی اتحاد سے امیدیں وابستہ

تیل کی عالمی قیمتوںاور کھپت میں کمی پر قابو پانے کے لیے حکام کی تنخواہوں مراعات میں کٹوتی،زرمبادلہ کی آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش اور سیاحت کی پالیسیوں میں نرمی کی جارہی ہے سیاسی طور پر اندرونی و بیرونی چیلنجز نے حکمرانوں کو گھیر رکھا ہے ، حکومت کی سخت گیر پالیسیوں سے نالاں نوجوان داعش اور القاعدہ کے پروپگنڈے کا بڑے پیمانے پر شکار ہورہے ہیں

سعودی عرب کی حکومت کو ان دنوںگوناگوں مسائل کا سامناہے اور ان مسائل ومشکلات وچیلنجوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں قائم بادشاہت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ سعودی حکومت کو ایک طرف تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کی آمدنی میں زبردست کمی کی وجہ سے مالی مشکلات درپیش ہیں جس میں بتدریج اضافہ ہوتاجارہاہے، اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے پہلے سعودی حکومت نے اپنے وزرا اور شاہی خاندان کے افراد کی تنخواہوں اور مراعات میںکٹوتی کی ، بعد ازاں سعودی عرب میں موجود کمپنیوں پر مختلف طرح کے ٹیکس عاید کئے ،سعودی عوام کوجو ٹیکس دینے کے عادی ہی نہیں ٹیکس نیٹ میں لایاگیا اور ان تمام اقدامات کے باوجود مالی خسارہ کم نہ ہونے پر اب زرمبادلہ کی آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے اور اب سیاحوں کو ترغیب دینے کے لیے مختلف شعبوں میں حکومت کی سخت پابندیوں کی پالیسیوں میں بتدریج نرمی کی جارہی ہے۔
ایک طرف سعودی حکومت کو مالی مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب اس پورے خطے میں سیاسی اتھل پتھل شروع ہوجانے کے اثرات بھی سعودی عرب پر پڑنا شروع ہوگئے ہیں ،جس کی وجہ سے شاہی حکومت کو مملکت پر کنٹرول قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔سعودی عرب کی شاہی حکومت کواس وقت اندرونی محاذ پر کئی بڑے خطرات اورچیلنجوں کاسامنا ہے، ایک طرف حکومت کو سعودی عرب میں موجود شیعہ آبادی پر کنٹرول رکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے جبکہ دوسری طرف داعش اور القاعدہ نے بھی سعودی عرب میں قدم جمانے کی کوششیں تیز کردی ہیں اور سعودی حکومت کی انتہائی سخت گیر پالیسیوں سے نالاں نوجوان داعش اور القاعدہ کے پروپگنڈے کا بڑے پیمانے پر شکار ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مملکت میں اب پہلے جیسی ”سب اچھا“ کی کیفیت برقرار نہیں ہے،اور عام آدمی کو اندرون خانہ پیدا ہونے والی ہلچل محسوس ہونے لگی ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کو اندرونی محاذ پر ان مسائل اور چیلنجوں کاسامنا ہے اور دوسری جانب روس کے بھرپور تعاون سے اب ایران شام میں قدم جمانے کی بھرپور کوشش کررہاہے، اور شام میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے اثرات سے سعودی عرب کسی طرح محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہی نہیں بلکہ یمن کے حوثی باغی بھی سعودی عرب کی حکومت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئے ہیں ،یہاں تک کہ انھوں نے مکہ مکرمہ اور دیگر بڑے شہروں کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بناناشروع کردیاہے اوریہ سلسلہ اب رکتا نظر نہیں آتا۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی شاہی حکومت کو بڑے پیمانے پر وسائل کی ضرورت ہے جو تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے اب میسر نہیں ہیںاور بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کی وجہ سے اب اس مملکت کی روایتی خوشحالی بھی خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔
اس مشکل صورت حال سے نمٹنے میںناکامی کے بعد اب سعودی حکومت کی امیدوں کا آخری سہارا راحیل شریف اور مجوزہ اسلامی اتحاد رہ گیا ہے جو اس مملکت کی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرکے اس کاخاتمہ کرسکتاہے۔
سعودی عرب کی شاہی حکومت کو درپیش یہ مسائل راتوں رات پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سعودی حکومت کی ان دیرینہ پالیسیوں کانتیجہ ہیں جو انھوں نے شخصی اور خاندانی حکومت قائم رکھنے کے لیے اختیار کر رکھی تھیں۔سعودی حکومت کی جانب سے مملکت میں اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے پوری توجہ شاہی حکومت کو مستحکم اور مضبوط رکھنے پر مرکوز رکھی گئی یہاں تک کہ خارجہ پالیسی میں بھی سعودی حکومت نے مملکتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے بجائے مختلف سربراہان مملکت کے ساتھ تعلقات کومستحکم کرنے کی کوشش کی اور تبدیلی کی موجودہ لہر کے دوران ان رہنماؤں کے زوال کی وجہ سے سعودی عرب کی شاہی حکومت نے جن کے ساتھ اپنی دوستی استوار کی تھی، مختلف ممالک کے ساتھ سعودی حکومت کے تعلقات اب پہلے جیسی نہیں رہے۔
دفاع کے شعبے میں بھی سعودی حکومت نے کم وبیش اسی رویے اور سوچ کو فروغ دیا اور ایک متحد قومی دفاعی ادارہ قائم کرنے اور تمام مسلح افواج کوا س ادارے کے ماتحت کرنے کے بجائے ،سعودی فوج کو دو ٹکڑیوں میں تقسیم کردیاگیا ۔فوج کاایک حصہ جو نیشنل گارڈ کہلاتاہے سعودی وزارت نیشنل گارڈ کے ماتحت کام کرتاہے جبکہ فوج کا دوسرا حصہ جو سعودی حکمرانوں اور شاہی گھرانے کازیادہ وفادار تصور کیا جاتاہے سعودی وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتاہے۔ اس کے علاوہ سعودی فوج کی کمانڈ کی پالیسی بھی شاہی خاندان اور دوسرے شاہی گھرانے کے بااثر قبیلوں کے ماتحت ہے اور میرٹ کے بجائے ان کی مرضی کے مطابق ہی فوج کے سربراہ اور دوسرے اہم عہدوں پر تقرریاں ہوتی ہیں۔اس طرح سعودی عرب کادفاعی نظام بنیادی ادارہ جاتی اصولوں سے عاری ہے جس میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قابلیت ہی کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔جبکہ پوری دنیا میں صدیوں سے فوج میں تقرریاں اور خاص طورپر اس کی کمانڈرشپ پرتقرریوں کے لیے میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا اور
حکمرانوں کی پسند وناپسند کاخیال چند بڑے عہدوں تک ہی محدود رکھا جاتاہے جبکہ فوج کی پوری رینک اور فائل میں تقرریاں خالص میرٹ اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کی فوج کاشمار دنیا کی بہترین اور منظم افواج میں کیاجاتاہے، ایک لڑاکا فوج کی حیثیت سے پوری دنیا میں پاک فوج کی صلاحیتوں کوتسلیم کیاجاتاہے اور حالیہ برسوں کے دوران پاک فوج نے افغان سرحد کے ساتھ ملک کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میںدہشت گردوں کے ٹھکانوں کا کامیابی کے ساتھ صفایا کرکے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا سے منوالیا ہے ۔پاک افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقے یمن میں حوثی باغیوں کے زیر اثر دشوار گزار علاقوں سے بڑی مماثلت رکھتے ہیں ، اور غالباً یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنی اتحادی فوج کی قیادت کے لیے جنرل راحیل شریف کی خدمات پر ہی اصرار کیا ۔سعودی عرب کی جانب سے راحیل شریف کی خدمات حاصل کرنے پر اصرار کی بنیادی وجہ سعودی فوج کی جانب سے پاکستان کے مقابلے میں 8 گنا سے زیادہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود حوثی باغیوں کو کچلنے اور ان کے حملے روکنے میں ناکامی ہے۔سعودی عرب کے
حکمرانوں کو مملکت کو درپیش موجودہ چیلنجوں اور ان سے نمٹنے میں سعودی فوج کی ناکامی کے بعد یہ احساس ہوگیاہے کہ اس طرح کی نازک صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور عزم مصمم کی ضرورت ہوتی ہے اور پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے ان صلاحیتوں کاثبوت دیا ہے۔تاہم اس حوالے سے ایک بنیادی نکتہ جسے غالباً سعودی حکمرانوں نے نظر انداز کردیاہے یہ ہے کہ پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی ایک فرد کی کوششوں کانتیجہ نہیں ہیں بلکہ بحیثیت پوری فوج کی صلاحیتوں اور کوششوں کی وجہ سے یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے، سعودی عرب کے حکمرانوں کو یہ اہم نکتہ نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کسی بھی معرکے اور چیلنج سے بھرپور انداز میں کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے ایک ایسی مربوط اور منظم فوج کی ضرورت ہوتی ہے جو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہونے کے ساتھ ہی بھرپور جذبے سے بھی سرشار ہو۔ جبکہ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیاہے سعودی فوج کو ایک مربوط فوج قرار نہیں دیاجاسکتا جبکہ سعودی فوج کو ایک خاص نکتہ نظر سے تیار کی جانے والی فورس ہی قرار دیاجاسکتاہے، اس فوج کو ایک منظم اور مربوط فوج کی شکل دینا آسان کام نہیں ہے یہ کام فوج میں برسوں کی تربیت جوانوں اور افسران میں قائدانہ صلاحتیوں کوفروغ دینے کے لیے ان میں مقابلے کا جذبہ پیدا کرنے کے بعد
ہی ممکن ہوسکتاہے ۔ جہاں تک پاکستان کی فوج کاتعلق ہے تو یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں فوج کے سربراہ کاتقرر وزیراعظم کی صوابدید پرہوتاہے لیکن فوج کے سربراہ کے تقرر کے بعد فوج کے دیگر معاملات میں حکومت کی جانب سے کوئی مداخلت نہیں کی جاتی ،فوج کے اندر تقرریوں اورتبادلوں اور ترقیوں کا فیصلہ فوج کا سربراہ اپنے نائبین کے مشورے سے خالص صلاحیت کی بنیاد پر کرتاہے اور کبھی بھی حکومت کی جانب سے اس پرکوئی اعتراض نہیں کیاجاتا۔جبکہ سعودی عرب میں فوج میں تقرریاں اور ترقیاں وزیر دفاع کی صوابدید پر کیاجاتاہے اور اس کامقصد ایک ایسی وفادار فوج قائم رکھناہے جسے کسی بھی وقت فوج کی جانب سے بغاوت کا کوئی خدشہ نہ رہے ۔
جہاں تک اب سعودی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے فوجی اتحاد کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں پوری دنیا میں عام تاثر یہی ہے کہ سعودی حکومت نے یہ اتحاد اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قائم کیاہے،اگر یہ تصور کسی حد تک بھی درست ہے تو پھر اس اتحاد کی قیادت جو کوئی بھی سنبھالے گا وہ اپنی پالیسیوں میں مکمل طورپر آزاد نہیں ہوگااور سعودی حکمرانوں کے احکامات پر عملدرآمدکرنے کاپابند ہوگا۔ایسی صورت میں اسے اپنی قائدانہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کاموقع ہی نہیں مل سکے گاجس کی وجہ سے اس کی قائدانہ صلاحیتیں متاثر ہوں گی ۔اس کے علاوہ اگر کوئی مقصد سامنے نہ ہو تو وہ جذبہ سامنے نہیں آسکتاجو کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کرائے کی فوج کبھی کسی محاذ پر اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرپاتی جب تک اس کی پشت پر جذبے سے سرشار کوئی فورس موجود نہ ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک فوج کے مایہ ناز جنرل راحیل شریف اس صورت حال میں سعودی اتحادی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور وہ سعودی فوج کو ایک ایسی منظم اور متحدفوج بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں جو وطن کے دفاع کے جذبے سے بھی سرشار ہو۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر