... loading ...
پاکستان کے لئے 70 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے والا میگا سٹی جس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے یہاں کے مسائل میں مسلسل اضافے کی وجوہات ارباب اختیار کی عدم دلچسپی اور سیاسی مفادات کا حصول ہے جو مسائل کے سدباب میںبڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ انہی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ اس شہر کی مرکزی سڑکوں‘ فٹ پاتھوں، مارکیٹوں اور بازاروں میں سیاست اور طاقت کی بنیاد پر قائم تجاوزات ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل تک تجاوزات کے قیام میں لسانی سیاسی کارکنوں کے ملوث ہونے کے باعث متعلقہ انسداد تجاوزات کے ادارے اپنے امور کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں پھر اپنی ناکامی پر خاموش بیٹھنے ،یا فرائض ادا کرنے کے بجائے سرکاری اہلکار اور افسران نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردیئے اور لسانی سیاسی رہنمائوں کی سرپرستی کرتے ہوئے خود ہی تجاوزات کے قیام میں کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔اب جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات کہیں کارروائی کی کوشش کرتا ہے تو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے کسی رہنما کا سفارشی یا دھمکی آمیزفون آجاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے بعض علاقائی رہنما یا کارکنان تجاوزات کے قیام میں ملوث ہیں تاہم وہ اسے کھیل کود سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے کارکنان کو کھلی شہہ دے کر آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ پھر شہر کی یہ مرکزی سڑک اور تجارتی مراکز میں ٹریفک کی روانی تو دور کی بات ہے پیدل چلنا بھی محال ہوجاتا ہے ۔یہ تجاوزات شہریوں کی جان کا بھی دشمن ہے کیونکہ اس سے اکثر ٹریفک جام رہتا ہے اور اس ٹریفک جام میں اکثر ایمبولینس میں سفر کرنے والے مریض بلاوجہ تاخیر سے اسپتال پہنچائے جاتے ہیں جس سے ان کی موت یا تو راستے میں یا پھر اسپتال پہنچ کر واقعہ ہوجاتی ہے۔ تجاوزات تعمیر وترقی کے دشمن بھی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بدترین ٹریفک جام کے باعث لوگ اپنی منزل مقصود پر انتہائی تاخیر سے پہنچتے ہیں اور ضروری کام رک جاتے ہیں۔ شہر بھر کے مختلف علاقوں جن میں سب سے اہم صدر سمیت اولڈ سٹی ایریا‘ نیو ایم اے جناح روڈ‘ گولیمار‘ لیاقت آباد‘ حسین آباد‘ گلشن اقبال‘ گلستان جوہر‘ لانڈھی‘ کورنگی‘ شاہ فیصل کالونی‘ لیاری‘ اورنگی ٹائون‘ نیو کراچی‘ ناظم آباد‘ سرجانی سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی و ذیلی سڑکوں اور مارکیٹوں میں اس قدر تجاوزات قائم ہیں کہ پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے بعض مقامات پر تو آر سی سی دکانیں ،مارکیٹیں بنادی گئی ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق متعلقہ محکمے کے اہلکار جن میں علاقہ پولیس کا سب سے زیادہ کردار ہوتا ہے پورے شہر سے ماہانہ 30 تا 50 کروڑ روپے ٹھیلے‘ پتھاروں‘ اسٹالوں‘ ہوٹلوں‘ ریستورانوں‘ باربی کیو سے متعلقہ محکموں کے اہلکار وصول کرتے ہیں یہی رقم جمع ہوکر اعلیٰ پولیس اور انتظامیہ کے ضلعی افسران تک پہنچتی ہے جبکہ یہ اعلیٰ افسران ہر ماہ ایک موٹی رقم اپنے سرپرست سیاسی شخصیات کو پہنچاتے ہیں جو ان کی تقرری کے لئے سفارشیں کرتے ہیں ۔تجاوزات کے قیام میں شامل لوگ تجاوزات مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن کے خاتمے کی ہر کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔ حکومتی سطح پر انسداد تجاوزات کے ایم سی کو مجسٹریسی اختیارات نہ دیئے جانے کے باعث وہ کوئی بھی سخت کارروائی کرنے سے قاصر ہیں کئی مقامات پر قبضہ اور تجاوزات مافیا کے کارندوں نے نہ صرف مسلح مزاحمت کی ہے بلکہ براہ راست فائرنگ کرکے کئی سرکاری ملازمین اور افسران کو قتل بھی کردیا ہے۔ حکومت اس حوالے سے مربوط قانون سازی بھی نہیں کرتی کہ جس میں متعلقہ محکموں کو نہ صرف مجسٹریسی اختیارات ملتے ہوں بلکہ سخت سزائیں اور جرمانے بھی نافذ کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف تجاوزات کی روک تھام ہوگی بلکہ سخت سزائوں اور جرمانوں سے تجاوزات مافیا کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا شہر کی خوبصورتی تجاوزات کے باعث ختم ہوکر رہ گئی ہے حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس شہر کی ڈھائی کروڑ آبادی کو تجاوزات سے آزادی دلانا بہت ضروری ہوچکا ہے اگر اس کے لئے گرینڈ آپریشن اور رینجرز کی خصوصی طورپر خدمات بھی حاصل کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے تو تجاوزات ختم ہوسکتی ہیں۔
ضلع جنوبی کا اہم تجارتی مرکز صدر عرصہ دراز سے تجاوزات میں گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سیاسی ولسانی بنیاد پر قائم کی گئی تجاوزات ہیں اور ٹریفک جام کی صورتحال ہر وقت موجود رہتی ہے ڈی آئی جی ٹریفک نے اس حوالے سے کمشنر کراچی کو خط لکھا تھا اور کمشنر کراچی نے تجاوزات کے خاتمے کے لئے 28 فروری 2017 کو ضلع جنوبی خصوصاً صدر سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے آئینی ٹاسک فورس کوبااختیار بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا ،مختلف 6 متعلقہ محکموں کے سربراہان کو رکن بنایا گیا تھا جبکہ سربراہ ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی رفیق قریشی کو بنایا گیا تھا ۔تاہم رفیق قریشی مصلحت پسندی کے باعث اب تک ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے قبل کئی اعلیٰ حکام جن میں سابق کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے بھی صدر کو ہاکر فری زون اور پبلک ٹرانسپورٹ فری زون بنانے کی کوشش کی تھی تاہم بات پھر وہی ہے کہ جن کے پاس مجسٹریسی پاور ہیں وہ شہر میں کسی بھی تجاوزات کے خاتمے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے اور جن کو تجاوزات کے خاتمے کا محکمہ دیا گیا ہے ان کے پاس مجسٹریسی اختیار نہیں ہے۔ اس عدم توازن کے باعث ہر طرف تجاوزات ہیں اور صدر سے تجاوزات کے خاتمے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی سنجیدہ کوشش کو بعض مفاد پرست افسران ناکام بنارہے ہیں۔
عمران علی شاہ
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...