وجود

... loading ...

وجود

شہر کی سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ۔۔۔خاتمے کا خواب پورا ہوگا؟

پیر 13 مارچ 2017 شہر کی سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ۔۔۔خاتمے کا خواب پورا ہوگا؟

پاکستان کے لئے 70 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے والا میگا سٹی جس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے یہاں کے مسائل میں مسلسل اضافے کی وجوہات ارباب اختیار کی عدم دلچسپی اور سیاسی مفادات کا حصول ہے جو مسائل کے سدباب میںبڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ انہی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ اس شہر کی مرکزی سڑکوں‘ فٹ پاتھوں، مارکیٹوں اور بازاروں میں سیاست اور طاقت کی بنیاد پر قائم تجاوزات ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل تک تجاوزات کے قیام میں لسانی سیاسی کارکنوں کے ملوث ہونے کے باعث متعلقہ انسداد تجاوزات کے ادارے اپنے امور کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں پھر اپنی ناکامی پر خاموش بیٹھنے ،یا فرائض ادا کرنے کے بجائے سرکاری اہلکار اور افسران نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردیئے اور لسانی سیاسی رہنمائوں کی سرپرستی کرتے ہوئے خود ہی تجاوزات کے قیام میں کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔اب جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات کہیں کارروائی کی کوشش کرتا ہے تو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے کسی رہنما کا سفارشی یا دھمکی آمیزفون آجاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے بعض علاقائی رہنما یا کارکنان تجاوزات کے قیام میں ملوث ہیں تاہم وہ اسے کھیل کود سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے کارکنان کو کھلی شہہ دے کر آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ پھر شہر کی یہ مرکزی سڑک اور تجارتی مراکز میں ٹریفک کی روانی تو دور کی بات ہے پیدل چلنا بھی محال ہوجاتا ہے ۔یہ تجاوزات شہریوں کی جان کا بھی دشمن ہے کیونکہ اس سے اکثر ٹریفک جام رہتا ہے اور اس ٹریفک جام میں اکثر ایمبولینس میں سفر کرنے والے مریض بلاوجہ تاخیر سے اسپتال پہنچائے جاتے ہیں جس سے ان کی موت یا تو راستے میں یا پھر اسپتال پہنچ کر واقعہ ہوجاتی ہے۔ تجاوزات تعمیر وترقی کے دشمن بھی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بدترین ٹریفک جام کے باعث لوگ اپنی منزل مقصود پر انتہائی تاخیر سے پہنچتے ہیں اور ضروری کام رک جاتے ہیں۔ شہر بھر کے مختلف علاقوں جن میں سب سے اہم صدر سمیت اولڈ سٹی ایریا‘ نیو ایم اے جناح روڈ‘ گولیمار‘ لیاقت آباد‘ حسین آباد‘ گلشن اقبال‘ گلستان جوہر‘ لانڈھی‘ کورنگی‘ شاہ فیصل کالونی‘ لیاری‘ اورنگی ٹائون‘ نیو کراچی‘ ناظم آباد‘ سرجانی سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی و ذیلی سڑکوں اور مارکیٹوں میں اس قدر تجاوزات قائم ہیں کہ پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے بعض مقامات پر تو آر سی سی دکانیں ،مارکیٹیں بنادی گئی ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق متعلقہ محکمے کے اہلکار جن میں علاقہ پولیس کا سب سے زیادہ کردار ہوتا ہے پورے شہر سے ماہانہ 30 تا 50 کروڑ روپے ٹھیلے‘ پتھاروں‘ اسٹالوں‘ ہوٹلوں‘ ریستورانوں‘ باربی کیو سے متعلقہ محکموں کے اہلکار وصول کرتے ہیں یہی رقم جمع ہوکر اعلیٰ پولیس اور انتظامیہ کے ضلعی افسران تک پہنچتی ہے جبکہ یہ اعلیٰ افسران ہر ماہ ایک موٹی رقم اپنے سرپرست سیاسی شخصیات کو پہنچاتے ہیں جو ان کی تقرری کے لئے سفارشیں کرتے ہیں ۔تجاوزات کے قیام میں شامل لوگ تجاوزات مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن کے خاتمے کی ہر کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔ حکومتی سطح پر انسداد تجاوزات کے ایم سی کو مجسٹریسی اختیارات نہ دیئے جانے کے باعث وہ کوئی بھی سخت کارروائی کرنے سے قاصر ہیں کئی مقامات پر قبضہ اور تجاوزات مافیا کے کارندوں نے نہ صرف مسلح مزاحمت کی ہے بلکہ براہ راست فائرنگ کرکے کئی سرکاری ملازمین اور افسران کو قتل بھی کردیا ہے۔ حکومت اس حوالے سے مربوط قانون سازی بھی نہیں کرتی کہ جس میں متعلقہ محکموں کو نہ صرف مجسٹریسی اختیارات ملتے ہوں بلکہ سخت سزائیں اور جرمانے بھی نافذ کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف تجاوزات کی روک تھام ہوگی بلکہ سخت سزائوں اور جرمانوں سے تجاوزات مافیا کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا شہر کی خوبصورتی تجاوزات کے باعث ختم ہوکر رہ گئی ہے حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس شہر کی ڈھائی کروڑ آبادی کو تجاوزات سے آزادی دلانا بہت ضروری ہوچکا ہے اگر اس کے لئے گرینڈ آپریشن اور رینجرز کی خصوصی طورپر خدمات بھی حاصل کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے تو تجاوزات ختم ہوسکتی ہیں۔

مافیا کے آگے ڈی آئی جی ٹریفک اور کمشنر کراچی بھی بے بس

ضلع جنوبی کا اہم تجارتی مرکز صدر عرصہ دراز سے تجاوزات میں گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سیاسی ولسانی بنیاد پر قائم کی گئی تجاوزات ہیں اور ٹریفک جام کی صورتحال ہر وقت موجود رہتی ہے ڈی آئی جی ٹریفک نے اس حوالے سے کمشنر کراچی کو خط لکھا تھا اور کمشنر کراچی نے تجاوزات کے خاتمے کے لئے 28 فروری 2017 کو ضلع جنوبی خصوصاً صدر سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے آئینی ٹاسک فورس کوبااختیار بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا ،مختلف 6 متعلقہ محکموں کے سربراہان کو رکن بنایا گیا تھا جبکہ سربراہ ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی رفیق قریشی کو بنایا گیا تھا ۔تاہم رفیق قریشی مصلحت پسندی کے باعث اب تک ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے قبل کئی اعلیٰ حکام جن میں سابق کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے بھی صدر کو ہاکر فری زون اور پبلک ٹرانسپورٹ فری زون بنانے کی کوشش کی تھی تاہم بات پھر وہی ہے کہ جن کے پاس مجسٹریسی پاور ہیں وہ شہر میں کسی بھی تجاوزات کے خاتمے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے اور جن کو تجاوزات کے خاتمے کا محکمہ دیا گیا ہے ان کے پاس مجسٹریسی اختیار نہیں ہے۔ اس عدم توازن کے باعث ہر طرف تجاوزات ہیں اور صدر سے تجاوزات کے خاتمے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی سنجیدہ کوشش کو بعض مفاد پرست افسران ناکام بنارہے ہیں۔

عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر