وجود

... loading ...

وجود

اعظم بستی میں ساڑھے5 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہسپتال کون مکمل کرائے گا؟

پیر 06 مارچ 2017 اعظم بستی میں ساڑھے5 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہسپتال کون مکمل کرائے گا؟

کراچی کے نواحی علاقے اعظم بستی اور گردونواح کے لوگوں کوعلاج معالجے کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی50 بستروں کے ہسپتال کی عمارت گزشتہ 9 سال سے اپنی حالت پر نوحہ کناں ہے اور ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملے کے ارکان عارضی انتظامات کے تحت قریب ہی واقع ایک چھوٹے سے اسکول میں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں ۔لیکن سندھ کا محکمہ صحت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی اس طرف توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔سندھ کے محکمہ صحت کے حکام کا اس حوالے سے موقف یہ ہے کہ انھوں نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت اختیارات کی منتقلی کے قانون کے مطابق یہ عمارت اور ہسپتال بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سپرد کردیاتھا۔ اب یہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ہسپتال کیلئے ضروری سہولتیں فراہم کرے اور اسے اس علاقے کے عوام کی سہولتوں میں اضافے کاذریعہ بنائے ، اسے بلدیہ عظمیٰ کے سپرد کردینے کے بعد سندھ کے محکمہ صحت سے اس کاکوئی تعلق نہیں رہا، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کے ارباب اختیار اس حوالے سے نہ تو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان ذمہ داریوں سے اغماض برتنے کی کوئی ٹھوس وجہ ہی بتانے کو تیار ہیں، جب اس حوالے سے ان سے کوئی بات کی جاتی ہے تو وہ ایک رٹا رٹایا جملہ کہ بلدیہ کے پاس فنڈز نہیں ہیں ،روزمرہ کے کام چلانا ہی مشکل ہورہاہے ایسے میں ہسپتال کی ضروریات کیسے پوری کی جاسکتی ہیں،جب فنڈز ملیں گے تو اس پر توجہ دیں گے دہرا کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے جو تفصیلات دستیاب ہوئی ہیں اس کے مطابق اعظم بستی میںلوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی سرکاری ڈسپنسری قائم تھی ،9 سال قبل یعنی 2008 میں حکومت سندھ نے اس سہولت میں توسیع کرکے اس ڈسپنسری کو 50 بستروں کے ہسپتال میں تبدیل کرنے کامنصوبہ بنایااور اس کے لیے باقاعدہ فنڈز کی منظوری دی گئی جس کے نتیجے میں 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے اس ہسپتال کی عمارت مکمل ہوگئی۔ اسی دوران 2013 میں اختیارات کی منتقلی کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ منظور کرلیاگیا اور اس ایکٹ کے تحت محکمہ صحت نے ہسپتال کی یہ عمارت اس وقت اس میں موجود سازوسامان کے ساتھ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو منتقل کردی۔چونکہ ہسپتال تعمیر کرنے کے لیے ڈسپنسری کو جس قریبی عمارت میں منتقل کیاگیاتھا اس کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے اس لئے اب اس ڈسپنسری یا ہسپتال کا عملہ قریبی واقع ایک اسکول میں عارضی انتظام کے تحت لوگوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے میں کوشاں نظر آتاہے لیکن بلدیہ عظمیٰ کراچی اس ہسپتال کو پوری طرح فعال بنا کر علاقے اور گردونواح کے لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار نظر نہیں آتی۔
اس حوالے سے جب ڈائریکٹوریٹ ہیلتھ سروسز کے حکام سے بات چیت کی گئی تو ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس عمارت کا تخمینہ 5 کروڑ70 لاکھ لگایاگیاتھا جس میں 5 کروڑ 20 لاکھ روپے اس پر خرچ کیے جاچکے ہیں لیکن فنڈز کی بروقت عدم فراہمی کی وجہ سے اس کی تخمینی لاگت دگنی ہوچکی ہے۔اب چونکہ یہ قانونی طورپر بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت ہے اس لئے سندھ کامحکمہ صحت اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکتا ،اگر بلدیہ عظمیٰ کراچی اس کی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتی تو اسے یہ عمارت اور اس کاسازوسامان سندھ کے محکمہ صحت کو واپس کردینا چاہئے تاکہ محکمہ سندھ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرسکے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرائع سے معلوم ہواہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اس ہسپتال کیلئے ہر سال اپنے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت رقم مختص کرتی ہے لیکن یہ فنڈز جاری نہیں کیے جاتے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈائریکٹرپلاننگ اور ترقیات محمود بیگ کاکہناہے کہ اس عمارت میں تعمیرات کاکام اسی وقت شروع ہوسکتاہے جب بلدیہ عظمیٰ کراچی کاانجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اس کی ریکیوزیشن دے جب تک انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ریکوزیشن نہیں دی جاتی کوئی تعمیراتی کام شروع ہی نہیں کیاجاسکتا۔
علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ علاقے میں ہسپتال کی عمارت کی تعمیر دیکھ کر لوگوں کو یک گونہ سکون ملاتھا کہ اب انھیں اپنے گھر کے قریب ہی علاج معالجے کی سہولتیں میسر آنے لگیں گی لیکن ہسپتال کی عمارت کا اس طرح بیکار کھڑا رہنا علاقے کے لوگوں کے لیے سوہانِ روح بنا ہواہے کیونکہ انھیں علاج معالجے کی سہولتوں کے لیے بدستور دور دراز کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہے جہاں آنے جانے میں کرائے کی مد ہی میں خاصی رقم خرچ ہوجاتی ہے جبکہ مریضوں کو دور دراز لے جانے کی صعوبت علیحدہ اٹھانا پڑتی ہے، علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ میئر کراچی کو،جو کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے ، اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور 9 سال سے ارباب اختیار کی نظر کرم کی محتاج اس ہسپتال کی عمارت کو مکمل کرواکر علاقے کی وسیع آبادی کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔
اعظم بستی میں واقع اس اربن ہیلتھ سینٹر کی موجودہ انچارج ڈاکٹر یاسمین کاکہنا ہے کہ ہم اسکول کی جس عمارت میں عارضی طورپر ڈسپنسری چلارہے ہیں یہاں ہمیں جگہ کی کمی کاسامنا ہے جس کی وجہ سے ہسپتال میں نہ تو فیملی پلاننگ کا کوئی شعبہ کام کرسکتاہے اور نہ ہی فزیو تھراپی کا ،ان کا کہناہے کہ ہم نے اسکول انتطامیہ سے درخواست کی ہے کہ ہمیں کم از کم ایک کمرہ اور دیدیں تاکہ ہم اس میں فیملی پلاننگ کی سہولت لوگوں کوپہنچاسکیں۔ ڈاکٹر یاسمین نے بتایا کہ اس اربن ہیلتھ سینٹر میں پہلے 150 افراد پر مشتمل عملہ تھا لیکن اب عملے کی تعداد کم ہوکر صرف 80 رہ گئی ہے، ہسپتال میں کوئی پیڈیاٹرک کاشعبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہیں،ہسپتال میں مرد مریضوں کے علاج معالجے کے لیے کوئی مرد ڈاکٹر نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ علاقے میں بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی کی وجہ سے ہسپتال کو ایک جنریٹر کی شدید ضرورت ہے تاکہ الٹرا سائونڈ وغیرہ کی سہولتیں مریضوں کو فراہم کی جاسکیں لیکن یہ سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو اور خود ہمیں امراض کی تشخیص میں دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ہسپتال کی خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ اسکول میں ہسپتال چلانے کی وجہ سے اسکول میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں اور اس سے ڈاکٹر بھی پوری توجہ سے مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں حکام بالا کو اس پر فوری اور ترجیحی بنیاد پر توجہ دینی چاہئے اور اس مسئلے کو اولین فرصت میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر