... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارتی سکیورٹی فورسز بدترین ذہنی دباؤ اور مسائل کا شکار ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر، چھتیس گڑھ اور منی پور جیسے شورش زدہ علاقوں میں تعینات اہلکاروں میں خودکشیوں اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع جموں میں ایک بھارتی فوجی نے کیمپ کے اندر خودکشی کر لی ہے۔جموں کے علاقے نگروٹہ میں فوجی کیمپ کے فیملی کوارٹرز کے علاقے میں ڈاگ یونٹ کا فوجی اپنے کمرے کی چھت سے رسی سے لٹکا ہوا پایا گیا۔فوجی کی لاش قانونی کارروائی کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموںمنتقل کردی گئی۔بھارتی فوج میں خودکشیوں کا تشویشناک اضافہ، ہر تیسرے دن ایک فوجی زندگی کا خاتمہ کر رہا ہے۔بھارتی فوج میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خطرناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اوسطاً ہر تیسرے دن ایک فوجی اپنی زندگی ختم کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں تعینات فوجیوں میں ذہنی دباؤ اور فرار کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف سائیکولوجیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق، 2014 سے 2024 کے دوران بھارتی فوج میں 983 فوجیوں نے خودکشی کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجیوں کو ذلت، ہراسانی، ناقص قیادت، خوراک کی کمی اور طویل تعیناتی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا باعث بن رہے ہیں۔بھارتی پارلیمان (راجیہ سبھا) میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ 5 برس میں 819 بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار فوجی اداروں کے اندر موجود گہرے نفسیاتی بحران کو ظاہر کرتے ہیں۔
بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں تعینات فوجی سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ سخت حالات، مقامی آبادی کی مزاحمت، اور طویل محاذی تعیناتی کے باعث ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ فرار کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فوجی اہلکاروں کی جانب سے ذہنی دباؤ اور بدانتظامی سے متعلق شکایات کے باوجود سول انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کا یہ رجحان ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے اب نظرانداز کرنا بھارت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ایک واقعہ بارہ مولا میں پیش آیا جہاں بھارتی فوج کے ایک اہلکار سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔گولی کی آواز سْن کر جب بھارتی فوج کے دیگر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو لائس نائیک بنور لال سرن کو خون میں لت پت پایا۔لاش کو اسپتال لایا گیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد میت راجستھان میں اہلکار کے آبائی گاؤں روانہ کردی گئی۔ خودکشی کی وجہ سامنے نہ آسکی۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ذہنی دباؤ اور پست ہمتی کے باعث بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے واقعات عام ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والی بھارتی فوج خود اپنی جانیں لینے پر مجبور ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مودی سرکارکی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارتی فوجی اپنی جانیں لینے پرمجبور ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی خودکشی کی شرع سب سے زیادہ ہے۔ 2007 سے اب تک مقبوضہ وادی میں 586 سے زیادہ بھارتی فوجی خودکشی کر چکے ہیں،ذہنی تناؤ اور موسم کی سختی نہ برداشت کرنے کے باعث بھارتی فوجی یہ انتہاء بزدلانہ قدم اٹھاتے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران سینکڑوں بھارتی فوجیوں نے چھٹی نہ ملنے اور تھکا دینے والی جنگ سے ذہنی دبائو کا شکار ہو کر خودکشی کی۔بھارتی فوج میں ذہنی مریضوں کی تعداد کم و بیش 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے، 15 فیصد کے قریب فوجی ایسے ہیں جو شراب نوشی کے ذریعے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کیمطابق 2010ء سے 2019 تک بھارت کے 1113 فوجیوں نے خودکشیاں کیں جن میں بری فوج کے 895،فضائیہ کے 185اور بحریہ کے 32اہلکار شامل تھے۔ خودکشی کے مسائل کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کا کشمیری خواتین پر تشدد اور ریپ کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے،مودی سرکار بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں 1989 سے 2020 تک 11ہزار 224 کشمیری خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہیں۔2005 کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ بتائی گئی۔بھارتی فوج بھی اب مودی سرکارکی انتہا پسند پالیسیوں کا شکار ہورہی ہے جس سے مودی کی نام نہاد سیکولر شخصیت عالمی سطح پر بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
چھتیس گڑھ کے نائب وزیراعلیٰ نے صوبائی اسمبلی میں بتایا کہ 2019ء کے بعد سے محض چھتیس گڑھ میں 177 بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پے در پے خودکشیاں اور ساتھیوں پر حملے، نہ صرف بھارتی فوج کی ادارہ جاتی ناکامی ظاہر کرتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بنیاد بھی یہی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ ہے۔2019ء سے جون 2025ء تک، چھتیس گڑھ میں 177 بھارتی پولیس و پیراملٹری اہلکار خودکشی کر چکے ہیں۔ ان میں سینٹرل ریزروڈ پولیس فورس کے 26، بارڈر سکیورٹی فورس کے 5، انڈو تبتن بارڈر پولیس کے 3 و دیگر دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھارتی فوج میں ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اسی مدت میں 18 اہلکار ساتھیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے، جنہوں نے شدید ذہنی دباؤ کے تحت ساتھی اہلکاروں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ صرف جرائم نہیں بلکہ ان اہلکاروں کی ذہنی صحت کی تباہ کن صورتحال کا عکس ہیں۔
٭٭٭٭