وجود

... loading ...

وجود

فلپائن‘ آتش فشاں پہاڑ ’’پینا ٹوبو‘‘کے اردگردآباد شہریوں کی واپسی

منگل 04 اکتوبر 2016 فلپائن‘ آتش فشاں پہاڑ ’’پینا ٹوبو‘‘کے اردگردآباد شہریوں کی واپسی

mount-pinatubo

20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع مشہور آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو نے جب گرم گرم لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو حکومت کو اس علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرکے ان لوگوں کو جو حکومت کی وارننگ کے باوجود علاقہ چھوڑ کر نہیں نکلے تھے ،زبردستی ان کے سازوسامان کے ساتھ محفوظ علاقوں میں منتقل کرنا پڑا تھا ۔اس وقت اس علاقے میں ایک افراتفری کا عالم تھا اور پھر جب آتش فشاں اپنی پوری جولانی پر پہنچا تو اس سے نکلنے والے لاوے کی گرمی دور دور تک محسوس کی جارہی تھی لیکن آج اس واقعے کو 20 سال سے کچھ زیادہ وقت گزرچکا ہے ، یہ پہاڑ لاوا اگلنے کے بعد گزشتہ 20 سال سے خاموش ہے اور اب ایک مرتبہ پھر اس پہاڑ کے گرد شہریوں نے واپس آنا شروع کردیا ہے ، بہت سے لوگ جو 20 سال قبل اس علاقے کو خیر باد کہہ کر گئے تھے ان کے مکان پہاڑ سے نکلنے والے لاوے تلے دب کر اپنا وجود کھوچکے ہیں اور جو مکان باقی بچے ہیں انھیں بھی مکان کے بجائے مکانوں کے آثار ہی کہاجاسکتا ہے ۔

20سال قبل شمالی فلپائن کے آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو سے نکلنے والے لاوے کی زد میں آکر اس علاقے کے کم وبیش ڈیڑھ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے اور راکھ کے ڈھیر میں گم ہوگئے تھے ۔ان میں سے بہت سوں کی لاشیں بھی دستیاب نہیں ہوسکی تھیں۔کہتے ہیں کہ اس پہاڑ سے نکلنے والے دھوئیں کے بادل کی وجہ سے اس پورے علاقے کا موسم تبدیل ہوگیا تھا اور کئی سال تک اس علاقے میں گرمی بہت کم ہوگئی تھی اور علاقے میں ٹھنڈک میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اب اس پہاڑ کی چوٹی پر صبح ہی صبح کوے آکر بیٹھ کر کائیں کائیں کرنے لگے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس پہاڑ کے گرد سے موت کا سایہ ہٹ چکا ہے اور زندگی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے رہی ہے ۔

فلپائن کے پیناٹوبو آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعے کو 20 ویں صدی کے دوران دوسرا سب سے بڑا ہلاکت خیز آتش فشانی حادثہ قرار دیا جاتا ہے ۔ا س کی وجہ سے وسیع علاقے سے زندگی کے آثار معدوم ہوگئے تھے اور ہر طرف گرم گرم ریت اور مٹی کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔

گزشتہ دنوں جب سیاحوں کا پہلا قافلہ اس علاقے میں پہنچا تو ہر طرف اونچی اونچی گھاس اگی ہوئی تھی جس پر تتلیاں اور پتنگے منڈلارہے تھے اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آرہا تھا ، اس علاقے میں مختلف طرح کے درخت اگے ہوئے تھے جو غالباً ا س علاقے میں آنے والے پرندوں کے لائے ہوئے پھلوں کے بیجوں کی وجہ سے خود رو طریقے سے اگ آئے تھے بہرحال علاقے میں زندگی اپنے جوبن پر تھی۔

20سال کے بعد اس علاقے میں پہنچنے والے گروپ میں پورٹر رینڈی ڈومونٹ بھی شامل تھا ، پورٹر کا کہنا ہے کہ جب اس علاقے میں پیناٹوبو پہاڑ نے لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو میری عمر 14 سال تھی میرے تمام اہل خانہ ، میرا جھونپڑی نما مکان اور 7.41 ایکڑ کا کھیت جس پر چاول اور آلو کی طرح کی ایک سبزی کی کاشت کی گئی تھی سب کچھ اس پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دب کر تباہ ہوگیا تھا۔یہ علاقہ فلپائن کے شمال مشرقی علاقے سانتا جولیانا سے کم وبیش 30 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

پورٹر کے گھر والوں نے 1991 کے بعد یہاں مکان تو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے لیکن ان کا کھیت پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دفن ہوچکا ہے اور اب اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔پورٹر کاکہنا ہے کہ اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کی وجہ سے ایک ہی رات کے اندر ہم زمیندار سے بے زمین کسانوں کی صف میں کھڑے ہوگئے اور ہماری حیثیت صرف 1.55 ڈالر یومیہ کی رہ گئی جو کہ فلپائن میں بے زمین کسانوں کو دیے جاتے ہیں ،ہم کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے ۔

پورٹر کا کہنا ہے کہ 20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع آتش فشاں پہاڑ نے کوئی 40 سال کے وقفے کے بعد لاوا اگلنا شروع کیا تھا اور ایک ہی رات میں اس علاقے میں 40 سال کے دوران ہونے والی ترقی کو ملیا میٹ کردیا تھا، سب کچھ فنا کردیا تھا ، اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کے سبب کم وبیش5 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر اپنی زندگی بھر کی پونچی سے محروم ہوکر عرش سے فرش پر آگئے تھے ،بے گھر اور بے در بلکہ دربدر ہوگئے تھے ۔

پورٹر کا کہنا ہے کہ پینا ٹوبو سے لاوا اس قدر تیزی سے اور اس قدر بھاری مقدار میں خارج ہورہا تھا کہ کم وبیش 30 کیلومیٹر کا علاقہ اس کی لپیٹ میں آچکا تھا اور اس سے مجموعی طور پر5 ارب کیوبک میٹر راکھ اور آگ خارج ہوئی تھی ۔اس سے نکلنے والے لاکھوں ٹن سلفورک ایسڈ کے بادل نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے سورج ڈھک گیا تھا ،علاقے میں دھوپ نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی اور اس پورے علاقے کا موسم سرد ہوگیا تھا۔اس پہاڑ سے لاوا نکلنا بند ہوجانے کے کئی سال بعد تک علاقے کا درجہ حرارت 0.6 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوسکا تھا ، اب ایک دفعہ پھر لوگ زندگی کی امید لے کر اس علاقے میں واپس آرہے ہیں ، نئے سرے سے زندگی شروع کررہے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ 10-20 یا 40 سال بعد یہ پہاڑ ایک دفعہ پھر کروٹ نہیں لے گا اور اس علاقے میں تنکا تنکا جوڑ کر زندگی کا آغاز کرنے والے لوگ ایک دفعہ پھر دربدر نہیں ہوجائیں گے ۔یہ انجانا خوف اس علاقے میں واپس آنے والے ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے لیکن اپنے آبائی گھروں کوآباد کرنے کی خوشی میں وہ یہ خدشات بار بار اپنے ذہن سے جھٹک کر علاقے میں نئی زندگی شروع کرنے کی دھن میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔

دوسری جانب اس اطلاع نے کہ آتش فشاں پہاڑ کے غیض وغضب کا شکار ہوکر تباہ ہوجانے والا علاقہ ایک دفعہ پھر آباد ہورہا ہے ،دنیا بھر کے سیاح بھی اس علاقے کی سیر کے لیے علاقے کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ علاقہ دوبارہ کتنے عرصے بعد اپنی پرانی حیثیت پر آئے گا اور گزشتہ 20 سال کے دوران سائنسی شعبے میں ہونے والی ترقی سے اس علاقے میں دوبارہ آباد ہونے والے لوگ کس حد تک استفادہ کرسکیں گے یا سائنسی ترقی ان کو سابقہ تباہ کاریوں کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کتنابڑا کردار ادا کرسکے گی۔


متعلقہ خبریں


بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر