... loading ...

سانحہ کوئٹہ کے بعد 10 اگست کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں ملکی سلامتی کی اندرونی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ۔ اور کوئٹہ دھماکے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ یہ اس اعتبار سے ایک اہم اجلاس تھا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ اجلاس کیے تھے۔ بعد ازاں سیاسی اور عسکری اداروں کی اعلیٰ قیادت نے بدھ کے روز ایک مشترکہ اجلاس میں ملک کی اندرونی صورت حال پر اکٹھے فیصلے لیے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شریک ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق اس اعلیٰ سطح اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے اُن نکات پر غور کیا گیا جن پر اب تک عملدرآمد نہیں کیا جا سکا، جن میں مدارس کی رجسٹریشن اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نظرانداز ہونے والے ذرائع کے خلاف کارروائی وغیرہ شامل ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلوانے سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے۔
وزیراعظم کے زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت پر ایک لرزہ خیز حملے میں 70 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو سوگوار کردیا ہے۔ حملے کے بعد ملک میں سیاسی اور عسکری حمایت میں تقسیم سیاست وصحافت اور فعال طبقات سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں نے اُن پہلوؤں کو زیادہ موضوع بحث بنایا جو سیاسی اور عسکری تعلقات کی ناہمواری کو ظاہر کرنے والے تھے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ خاص طور پر اجاگر ہوا کہ کوئٹہ سانحے کے بعد دونوں شریفین نے الگ الگ کوئٹہ کا رخ کیا۔ یہاں تک کہ تمام اہم فیصلے وزیراعظم نوازشریف کی کوئٹہ آمد سے پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے زیرصدارت سدرن کمانڈ کے دفتر میں ہونے والے ایک اجلاس میں لے لیے گئے۔ اور وزیراعظم نوازشریف کی کوئٹہ آمد محض ایک رسمی کارروائی اور زخمیوں کی مزاج پرسی کے علاوہ اُس بریفنگ تک محدود رہی جس میں اُنہیں بلوچستان کے حالات اور سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں وزیراعظم نوازشریف نے اپنے طور پر ایک اجلاس کی صدارت کی ۔ جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے اگلے روز کورکمانڈرز اجلاس کی صدارت میں ملک کی داخلی سلامتی پر غور کیا۔ اس تناظر میں یہ اجلاس سیاسی اور عسکری قیادت کو اکٹھے بیٹھ کر ملکی مسائل پر غور کرنے کا پہلا موقع تھا۔
یہ اجلاس اس فضا میں ہوا جب ایک روز قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی متنازع خیالات کا اظہار پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق کیا تھا۔ اور کوئٹہ حملے کو انٹیلجنس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے اُن اداروں پر دھماکے کی ذمہ داری عائد کرنے کا مطالبہ داغا تھا۔ اس خطاب میں اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت بھارتی خفیہ ایجنسی را پر دہشت گردی کے الزامات لگانے کے بجائے اپنے اداروں کی ناکامی پر توجہ دے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...