... loading ...

کراچی کا امن ایک بار پھر شدید خطرے میں ہے۔ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر فوجی اہلکاروں کونشانا بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آزما فوج کو بھی وہ شہروں میں چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب فوج آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں، دہشت گردوں نے عین اُن ہی دنوں میں کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع پارکنگ پلازہ کے قریب فوجی گاڑی کو نشانے بنایا جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار شدید زخمی ہو گیے۔ زخمی فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تو اس دوران میں ایک اہلکارراستے میں ہی دم توڑ گیا۔ جبکہ دوسرا ہلکار علاج کے دوران میں زخموں کی تاب نہ لاکر زندگی ہار گیا۔زخمی اہلکاروں کی شناخت لانس نائیک عبدالرزاق اور حوالدارخادم حسین کے ناموں سے ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق لانس نائیک عبدالرزاق کا تعلق نوشہرو فیروز سے تھاجبکہ حوالدار خادم حسین کا دادو کا رہائشی تھا۔ مذکورہ دونوں فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ اولڈ ریس کورس گراونڈ میں ادا کردی گئی۔ جس میں کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ ، کراچی پولیس چیف مشتاق مہر اورتینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کراچی میں فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ۔ اس سے قبل کراچی کی مصرف ترین شاہرہ ایم اے جناح روڈ پر گزشتہ برس کے اختتامی ماہ یکم دسمبر 2015 میں سیکورٹی ادارے کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں دو اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ 2013 میں بھی فوج کو ایسے ہی ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑاتھا جب کراچی کے علاقے عوامی کالونی کورنگی میں ضمنی انتخابات کی سیکورٹی پر مامور پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 22 اگست 2013 کے اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ فوجی جوانوں کو پہلی بار کراچی میں بم حملے کے ذریعے نشانا بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس میں دو جوان جاں بحق اور 17کے قریب لوگ زخمی ہو گیے تھے۔ بدقسمتی سے ان واقعات کے حوالے سے ذمہ داروں تک پہنچنے اور اُنہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

کراچی کا یہ المیہ ہے کہ یہاں تفتیشی عمل کبھی بھی عوامی سطح پر اعتبار حاصل نہیں کرسکا۔ اور ایک ہی واقعے کے اتنےذمہ داران کے نام زیر گردش رہتے ہیں کہ یہ پورا عمل شکوک کے گرداب میں چلا جاتا ہے۔ کراچی میں فوجی اہلکاروں پر حملے کے 2013 سے اب تک تین واقعات کے بارے میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اُنہیں نشانہ بنانے والے کون ہیں؟ اور کیا یہ کوئی ایسا گروہ ہے جو بھارت کے احکامات پر کراچی میں پاک فوج کو کوئی خصوصی پیغام دینے کے لیے اپنی کارروائیاں کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشمیریوں کی حالیہ جدوجہد کے تناظر میں یہ پہلو خاصا اہمیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اور افغانستان میں ان دنوں پاکستان کے خلاف ایک ایسی ملی بھگت موجود ہے جو کوئی بہت زیادہ مخفی نہیں رہی ہے۔
اس سے قطع نظر کراچی کے حالیہ واقعے میں دہشت گردوں نے اس مرتبہ تفتیشی عمل میں مشکلات پیدا کرنے کی خاطر اسلحہ کے ساتھ ایک تھیلے کا استعمال کیا تاکہ تفتیش کاروں کو جائے واردات سے گولیوں کے خول نہ مل سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ساؤتھ نے واضح کیا ہے کہ جائے واردات سے کوئی خول نہیں ملا ہے ، کیونکہ حملہ آوروں نے بیگ یا کیچر کا استعمال کیا ہے۔ واقعے کے ایک عینی شاہد رکشہ ڈرائیور نے بھی ابتدائی بیان میں یہی کہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دو دہشت گرد گاڑی کے پیچھے تھے۔ گاڑی جوں ہی سنسان سڑک پر پہنچی تو موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے دہشت گرد نے فائرنگ کردی۔ عینی شاہد کے مطابق دہشت گرد کے ہاتھ میں اسلحہ کے ساتھ ہاتھ میں ایک تھیلا بھی تھا۔
واضح رہے کہ اس طرح اسلحے کے ساتھ ہاتھ میں تھیلا رکھ کر حملہ کرنے کا ایک واقعہ اس سے قبل بھی کراچی میں پیش آچکا ہے جب عزیز آباد میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
کراچی میں فوجی اہلکاروں کو ایک بار پھر نشانہ بنانے سے دو چیزیں بالکل واضح ہو گئی ہیں ۔ اولاً دہشت گردوں کے خلاف ایک وسیع تر فوجی آپریشن اور اُن کے خلاف قانونی کاررائیوں اور پھانسیوں کے باوجود وہ نفسیاتی طور پراب بھی حملہ کرنے اور پلٹ کر وار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ ثانیاً : دہشت گرد اس ضمن میں اس قدر بے پرواہ ہیں کہ وہ اپنے اہداف میں فوجی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں فوجی اہلکاروں پر ہونے والے تازہ حملے نے کراچی آپریشن کی کامیابی کے دعوے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...