... loading ...

متحدہ قومی موومنٹ کے تنظیمی ڈھانچے میں نیچے سے اوپر کی سطح پر اہم تبدیلیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین فیصلے میں ایم کیوایم کے سب سے بڑے فورم رابطہ کمیٹی کے اوپر ایک اور سپریم کونسل قائم کر دی گئی ہے۔جس کے بارے میں ایم کیوایم کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کونسل الطاف حسین کی عدم دستیابی کی صورت میں یا پھر کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں کارکنان کی رہنمائی کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق سپریم کونسل نو ارکان پر مشتمل ہو گی جس کے مستقل کنوینرندیم نصرت ہوں گے۔ سینئر ڈپٹی کنوینرکے طور پر فاروق ستارکے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔جبکہ اس کے ارکان میں سینیٹر فروغ نسیم، سینیٹر نسرین جلیل، کنور نوید، روف صدیقی، بابرخان غوری، کشور زہرہ اور افتخارحسین شامل ہوں گے۔ایم کیوایم کے اس اعلیٰ ترین رہنما فورم کے اراکین پر غور کیا جائے تو یہ ایک اہم بات ہے کہ اس میں سینیٹر فروغ نسیم کے علاوہ تمام ہی نام ایم کیوایم کے پرانے رہنماووں کے ہیں۔تاہم کشور زہرہ جو پارٹی کی انتہائی اہم خاتون رہنما ہونے کے باوجود کبھی ایم کیوایم کو چھوڑ گئی تھی۔ متحدہ میں کچھ سال قبل واپس آگئی تھی۔اُن کا نام پہلی مرتبہ پارٹی کے اہم ذمہ داروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح افتخار حسین جو لندن میں منی لانڈرنگ کے علاوہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں اسکاٹ لینڈ کی تفتیش کا سامنا کرتے رہے ہیں ، کبھی بھی کسی تنظیمی ذمہ داری میں شامل نہیں کئے گئے تھے۔وہ الطاف حسین کے قریبی رشتے دار ہیں اور زیادہ وقت لندن میں ہی مقیم رہے ہیں۔ اُنہیں بھی ایم کیوایم کی تنظیمی ذمہ داریوں میں جگہ دی گئی ہے۔ یہ بات دوسروں کے لئے شایدعجیب ہوں مگر ایم کیوایم میں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں سمجھی جاتی کہ روف صدیقی کو 5 ماہ قبل ایم کیو ایم نے 8 اگست 2015 کو معطل کرتے ہوئے کہاتھا وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ مگر اب اُنہیں متحدہ قومی موومنٹ کے سب سے اعلی ترین فورم میں جگہ دی گئی ہے۔
ایم کیو ایم نے گزشتہ ماہ نچلی سطح پر تنظیمی اسٹرکچرکو بھی مکمل طور پر تبدیل کردیا تھا۔ اور اپنے قیام سے اب تک یونٹس اور سیکٹر میں منقسم تنظیمی ڈھانچے کو یونین کونسل ٹاؤن کی نئی شناخت دے دی تھی ۔
یوسی اور ٹاؤن کے بعد ایم کیوایم میں سپریم کونسل کا قیام اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ اب واقعتاً ایم کیوایم کو کچھ عرصے میں قائد کی عدم دستیابی کا مسئلہ پیش آسکتا ہے۔ ایم کیوایم کے اندرونی حلقوں میں اس فیصلے کے بعد اس موضوع پر گفتگو شروع ہو گئی ہے کہ آخر الطاف حسین کی عدم دستیابی کی صورتِ حال کیوں اور کیسے پیش آسکتی ہے؟ نیز ایم کیو ایم الطاف حسین کی عدم دستیابی کے مسئلے سے کب دوچار ہوسکتی ہے؟وقت اور حالات یہ دو پہلو ہیں جو ایم کیوایم کے تازہ اعلامیے میں ایک سوال بن کر چہ مگوئیوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ کیونکہ ایم کیوایم کے قیام سے اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ الطاف حسین پارٹی کو میسر نہ رہے ہو۔ یہ مسئلہ تب بھی پیش نہیں آیا جب 1992 میں الطاف حسین کراچی میں ابتر حالات کے باعث برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔وہ گزشتہ 24برسوں سے پوری گرفت کے ساتھ لندن سے ایم کیوایم کے تمام امور کو کنٹرول میں رکھنے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں ۔
اب اس تناطر میں ایم کیوایم کے قائد کی عدم دستیابی کا مسئلہ کسی بھی طرح تین اسباب میں سے کسی ایک سے جڑا ہو سکتا ہے۔اولاً الطاف حسین کو لندن میں جاری ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات میں کسی ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ثانیاً : ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کو صحت کامسئلہ درپیش ہونے کے باعث یہ فیصلہ بھی لیا جاسکتا ہے۔ ثالثا: پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ایم کیوایم پر یہ دباؤ ہے کہ وہ منفی الطاف حسین فارمولے پر عمل پیرا ہوکر اپنے اوپر دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ان تینوں وجوہات کے تناظر میں ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...