وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

جمعه 08 جنوری 2016 مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کا قاتل مفتی سعید خود بھی موت کے آغوش میں پہنچ گیا

mufti saeed

مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید 7جنوری 2015ء صبح آٹھ بجے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کرگئے ۔وہ 22دسمبر 2015سے گردن توڑ بخار میں مبتلا تھے۔کئی دنوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ میں لائف سپورٹ سسٹم پر تھے ،تاہم وہ جا نبر نہ ہوسکے۔مفتی سعید 12جنوری 1936ء بیجباڑہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے ۔علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے لاء اور عربی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔1950ء میں بھارت نواز سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کی نیشنل ڈیمو کریٹک نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے،جو بعد میں انڈین نیشنل کا نگر یس میں ضم ہوگئی ۔ 1987ء سے 1991ء تک وہ جنتا دل سے وابستہ رہے ۔ بعد میں پھر کا نگریس پارٹی میں واپس آئے اور1999ء تک اسی کے ساتھ جڑے رہے اور ریاستی سطح اور مرکزی سطح پر کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہے ۔ 1967 ء میں انہیں صادق وزارت میں نائب وزیر بنا یا گیا۔ 1972 ء میں کابینہ درجے کے وزیر بنے ۔ 1975 ء میں وہ ریاستی کانگریس کے صدر رہے۔ 1986 ء میں راجیو گاندھی کی حکومت میں بطور وزیر سیاحت شامل ہوئے ۔ دسمبر 1989ء سے نو مبر1990ء تک میں وہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے پر بر اجماان ہوئے 2دسمبر 1989ء میں ان کی بیٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہوئی ۔جس کی رہائی کے بدلے بھارت سرکار کو پانچ مجاہدین رہا کرنے پڑے ۔1999ء میں انہوں نے کا نگریس پارٹی سے علیحدہ ہوکر اپنی پارٹی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی۔نومبر 2002سے 2نومبر 2005تک جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے ۔

1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔

مارچ 2015میں وہ دوسری مرتبہ بھارتی جنتا پا رٹی کے ساتھ اتحاد کرکے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے ۔وہ اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کا فی قریب سمجھے جا تے تھے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی چالاکی اور ہنر کے ساتھ بھارتی مفادات کا تحفظ کیا۔1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبد اﷲ نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔ جگموہن نے 20جنوری 1990ء کو بحثیت گورنر اپنا عہدہ سنبھالا۔اور پہلے ہی روز سے کشمیر میں ظلم و ستم کی ایک داستان رقم کی جس کی تاریخ میں بہت کم مثا لیں ملتی ہیں۔تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے ،اور مسلمانوں کے بلا امتیاز قتل عام کیلئے کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکال کر جموں کے ریفوجی کیمپوں میں پہنچایا گیا۔اور اس سلسلے میں انہیں سرکاری اور فوجی گاڑیوں سمیت ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

[table id=7 /]

عوامی مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو،فائرنگ ،گھیراؤ ،جلاؤ سب طریقے آزمائے جانے لگے۔،پوری ریاست میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔وادی سے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداﷲ کی حکومت کو برطرف کیا گیا،اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اورپوری وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ گورنر جگمو ہن نے20جنوری 1990ء کو ریاستی گورنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا ،اور 22مئی 1990ء کو انہیں فارغ کیا گیا۔ان 123دنوں میں 74دنوں کرفیو لگا رہا۔جگ موہن کے ان 123دنوں میں پوری ریاست میں لوگوں کے مارنے کا سلسلہ جاری رہا اورپر امن احتجاجی مظاہروں اور ایک جنازے کے جلوس پربے دریغ اور اندھادھند فائرنگ کرکے سینکڑوں افراد کو ،بلا کسی وجہ اور وارننگ کے شہید اور سینکڑوں لوگوں کو عمر بھر کیلئے معذور کیا گیا۔

جون 1990میں انڈیا ٹوڈے کے شمارے میں شا ئع انٹر ویو میں جگ مو ہن کے ظا لمانہ اقدامات اور قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے مفتی سعید نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے جگ موہن نے جو اقدامات وہاں کئے ،ہمیں اس پر اطمینان ہے ۔اسی طرح ان ہی کے دور میں وزارت داخلہ کی طرف سے جولائی 1990سےArmed Forces Special Powers Act(افسپا)ریاست پر نافذ کیا گیا ،جس کے تحت فورسز کو مارنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے اور معروف
بھارتی صحافی پروین ڈونتھی کی تحقیق کے مطا بق مفتی سعید کو اس ایکٹ کے اطلاق پر کبھی افسوس نہ تھا بلکہ وہ خو ش تھا کہ اسی ایکٹ پر عملدرآمد کے نتیجے میں وہ آج اس مقام پر کھڑا
ہے،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔مفتی سعید کے بارے میں ریاست کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر وجودڈاٹ کام کو بتایا کہ سابق بھارتی را چیف اے ایس دولت اور مفتی محمد سعید ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔دولت جاسوسی دنیا میں بھارتی مفادات کا ضامن اور مفتی سعید سیاسی میدان میں بھارتی مفادات کا رکھوالا تھا۔مفتی کی شخصیت کو جا ننے اور سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اسے دیگر بھارت نواز سیاسی رہنما ؤں سے زیادہ مضر سمجھتے تھے۔ہیلنگ ٹچ کے نام پر اقتدار حاصل کرکے کلنگ ٹچ کی پالیسی جاری رہی اور آج بھی وہاں آئے روز بے گناہ ان کے ہی نا فذ کردہ افسپا کے نتیجے میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔مفتی سعید کا انتقال بھارت اور اس کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے نا قابل تلا فی نقصان ہے ۔ان کی بیٹی محبو بہ مفتی اب ان کی جگہ لے رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا بھارتی خاکوں میں رنگ بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ آنیوالا وقت بتائے گا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر