... loading ...

مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید 7جنوری 2015ء صبح آٹھ بجے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کرگئے ۔وہ 22دسمبر 2015سے گردن توڑ بخار میں مبتلا تھے۔کئی دنوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ میں لائف سپورٹ سسٹم پر تھے ،تاہم وہ جا نبر نہ ہوسکے۔مفتی سعید 12جنوری 1936ء بیجباڑہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے ۔علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے لاء اور عربی میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔1950ء میں بھارت نواز سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق کی نیشنل ڈیمو کریٹک نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے،جو بعد میں انڈین نیشنل کا نگر یس میں ضم ہوگئی ۔ 1987ء سے 1991ء تک وہ جنتا دل سے وابستہ رہے ۔ بعد میں پھر کا نگریس پارٹی میں واپس آئے اور1999ء تک اسی کے ساتھ جڑے رہے اور ریاستی سطح اور مرکزی سطح پر کلیدی ذمہ داریوں پر فائز رہے ۔ 1967 ء میں انہیں صادق وزارت میں نائب وزیر بنا یا گیا۔ 1972 ء میں کابینہ درجے کے وزیر بنے ۔ 1975 ء میں وہ ریاستی کانگریس کے صدر رہے۔ 1986 ء میں راجیو گاندھی کی حکومت میں بطور وزیر سیاحت شامل ہوئے ۔ دسمبر 1989ء سے نو مبر1990ء تک میں وہ وشواناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت میں مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے پر بر اجماان ہوئے 2دسمبر 1989ء میں ان کی بیٹی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہوئی ۔جس کی رہائی کے بدلے بھارت سرکار کو پانچ مجاہدین رہا کرنے پڑے ۔1999ء میں انہوں نے کا نگریس پارٹی سے علیحدہ ہوکر اپنی پارٹی پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی۔نومبر 2002سے 2نومبر 2005تک جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ بنے ۔
مارچ 2015میں وہ دوسری مرتبہ بھارتی جنتا پا رٹی کے ساتھ اتحاد کرکے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی بنے ۔وہ اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کا فی قریب سمجھے جا تے تھے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی چالاکی اور ہنر کے ساتھ بھارتی مفادات کا تحفظ کیا۔1990ء میں جب عوامی سطح پر جموں و کشمیر میں آزادی کے حق میں مظا ہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا تو اس تحریک کو کچلنے کیلئے سخت گیر اور مسلم کش گورنر ،جگمو ہن کو جموں و کشمیر میں مفتی سعید کے احکامات کے تحت گورنر تعینات کیا گیا۔حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبد اﷲ نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔ جگموہن نے 20جنوری 1990ء کو بحثیت گورنر اپنا عہدہ سنبھالا۔اور پہلے ہی روز سے کشمیر میں ظلم و ستم کی ایک داستان رقم کی جس کی تاریخ میں بہت کم مثا لیں ملتی ہیں۔تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دینے ،اور مسلمانوں کے بلا امتیاز قتل عام کیلئے کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکال کر جموں کے ریفوجی کیمپوں میں پہنچایا گیا۔اور اس سلسلے میں انہیں سرکاری اور فوجی گاڑیوں سمیت ہر قسم کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
[table id=7 /]
عوامی مظاہروں کو روکنے کیلئے کرفیو،فائرنگ ،گھیراؤ ،جلاؤ سب طریقے آزمائے جانے لگے۔،پوری ریاست میں میڈیا پر سنسر شپ عائد کردی گئی۔وادی سے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ڈاکٹر فاروق عبداﷲ کی حکومت کو برطرف کیا گیا،اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اورپوری وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ گورنر جگمو ہن نے20جنوری 1990ء کو ریاستی گورنر کی حیثیت سے چارج سنبھالا ،اور 22مئی 1990ء کو انہیں فارغ کیا گیا۔ان 123دنوں میں 74دنوں کرفیو لگا رہا۔جگ موہن کے ان 123دنوں میں پوری ریاست میں لوگوں کے مارنے کا سلسلہ جاری رہا اورپر امن احتجاجی مظاہروں اور ایک جنازے کے جلوس پربے دریغ اور اندھادھند فائرنگ کرکے سینکڑوں افراد کو ،بلا کسی وجہ اور وارننگ کے شہید اور سینکڑوں لوگوں کو عمر بھر کیلئے معذور کیا گیا۔
جون 1990میں انڈیا ٹوڈے کے شمارے میں شا ئع انٹر ویو میں جگ مو ہن کے ظا لمانہ اقدامات اور قتل عام کا دفاع کرتے ہوئے مفتی سعید نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے جگ موہن نے جو اقدامات وہاں کئے ،ہمیں اس پر اطمینان ہے ۔اسی طرح ان ہی کے دور میں وزارت داخلہ کی طرف سے جولائی 1990سےArmed Forces Special Powers Act(افسپا)ریاست پر نافذ کیا گیا ،جس کے تحت فورسز کو مارنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔یہ ایکٹ آج بھی موجود ہے اور معروف
بھارتی صحافی پروین ڈونتھی کی تحقیق کے مطا بق مفتی سعید کو اس ایکٹ کے اطلاق پر کبھی افسوس نہ تھا بلکہ وہ خو ش تھا کہ اسی ایکٹ پر عملدرآمد کے نتیجے میں وہ آج اس مقام پر کھڑا
ہے،جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔مفتی سعید کے بارے میں ریاست کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر وجودڈاٹ کام کو بتایا کہ سابق بھارتی را چیف اے ایس دولت اور مفتی محمد سعید ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔دولت جاسوسی دنیا میں بھارتی مفادات کا ضامن اور مفتی سعید سیاسی میدان میں بھارتی مفادات کا رکھوالا تھا۔مفتی کی شخصیت کو جا ننے اور سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اسے دیگر بھارت نواز سیاسی رہنما ؤں سے زیادہ مضر سمجھتے تھے۔ہیلنگ ٹچ کے نام پر اقتدار حاصل کرکے کلنگ ٹچ کی پالیسی جاری رہی اور آج بھی وہاں آئے روز بے گناہ ان کے ہی نا فذ کردہ افسپا کے نتیجے میں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔مفتی سعید کا انتقال بھارت اور اس کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے نا قابل تلا فی نقصان ہے ۔ان کی بیٹی محبو بہ مفتی اب ان کی جگہ لے رہی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنا بھارتی خاکوں میں رنگ بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ آنیوالا وقت بتائے گا۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...