وجود

... loading ...

وجود

رینجرز کے اختیارات کا جھگڑا: وفاقی حکومت کے کردار پر نظریں مرکوز ہوگئیں!

هفته 19 دسمبر 2015 رینجرز کے اختیارات کا جھگڑا: وفاقی حکومت کے کردار پر نظریں مرکوز ہوگئیں!

karachi-rangers

رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر سندھ حکومت کی طرف سے ایک واضح موقف اور سندھ اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد اب تمام نگاہیں مرکزی حکومت کے کردار پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق عسکری حلقوں میں اس معاملے پر ایک سنجیدہ رائے پائی جاتی ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت رینجرز کے ساتھ جو بھی سلوک کررہی ہے ، وہ ایک بڑی سطح کی پیچیدہ مگر گہری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جس میں مسلم لیگ نون کی طرف سے پیپلزپارٹی کو کسی مشکل سے دوچار نہ کرنے کی کوئی نہ کوئی ضمانت بہت اعلیٰ سطح پر دی گئی ہے۔

باخبر حلقوں کے مطابق رینجرز اور عسکری ادارے بلدیاتی انتخابات کے بعد نفاذِ قانون کے لئے اپنے کردار کو وسعت دینے کی ایک حکمت ِ عملی کو حتمی منظوری دے چکے تھے۔ اور اس کا دائرہ سندھ کے بعد پنجاب میں وسیع کرنے پر غور کر رہے تھے۔ مگر سندھ میں ہی رینجرز کے کردار کو متنازع بنا کر اب اُنہیں اپنے اختیارات کی حدود کے مسئلے سے دوچار کردیا گیا ہے۔دوسری طرف پنجاب میں رینجرز کے کردار کو اس دوران میں نہایت خاموشی سے ختم کردیا گیا ہے۔ رینجرز پنجاب میں نہایت محدود سطح پر مختلف افراد اور عمارتوں کی سلامتی کے مشن پر تھی ۔ مگر پنجاب حکومت نے نہایت خاموشی سے رینجرز کے اس کردار کو بھی شکریئے کے ساتھ ختم کردیا ہے۔ پنجاب کے باخبر حلقوں کے مطابق شریف برادران کو یہ فکر لاحق تھی کہ کسی بھی لمحے رینجرز کا یہ کردار کسی دوسری سطح پر فیصلہ سازی کے بعد زیادہ فعال ہو سکتا ہے جو حکومت کے لئے سیاسی طور پر مضرت رساں بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا سندھ میں عین رینجرز کے اختیارات کے تنازع کے دوران ہی پنجاب میں رینجرز کے کردار کو عملاً ختم کردیا گیا۔

نوازشریف کی یہ مستحکم رائے ہے کہ ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے میں سیاسی اتحاد کو کسی بھی طرح مکمل طور پر تحلیل ہونے سے بچائے رکھنا ہے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ کی سطح پرحکومت اور حزب اختلاف میں ایک خاموش اتحاد قائم کردکھایا ہے جو ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے

ذمہ دار ذرائع کے مطابق سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے مسئلے پر وفاقی حکومت نے نہایت پراسرار رویہ اختیار کئے رکھا ۔اور سندھ میں سائیں سرکار کو پوری مرضی سے اُن کے اختیارت آزمانے دیئے۔ وفاقی حکومت کے اندرونی حلقوں کے مطابق اس طرح فوجی توجہ مکمل طور پر سندھ تک محدود ہوگئی ۔ اور اُنہیں اس مسئلے میں الجھا کر زیادہ بڑی سطح پر دیکھنے سے وقتی طور پر محروم کر دیا گیا۔ اس دوران میں سندھ اسمبلی کی قرارداد نے صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات کا مقدمہ بھی لڑنے اور ذرائع ابلاغ کی سطح پر اِسے پوری طرح اُچھالنے کا بھرپوروقت لیا۔ دوسری طرف رینجرز اورعسکری حلقوں کو اپنا موقف بیان کرنے کے لئے ذاتی سطح پر ذرائع ابلاغ سے اپنے رابطوں کو استعمال کرنا پڑا۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے کسی بھی سطح پر ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ سیاسی حلقوں میں اب یہ کوئی راز کی بات نہیں رہی کہ نوازشریف کی یہ مستحکم رائے ہے کہ ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے میں سیاسی اتحاد کو کسی بھی طرح مکمل طور پر تحلیل ہونے سے بچائے رکھنا ہے۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ کی سطح پرحکومت اور حزب اختلاف میں ایک خاموش اتحاد قائم کردکھایا ہے جو ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ تحریک انصاف کے دھرنے میں یہ پارلیمانی اتحاد مثالی طور پر بروئے کار آیا۔ اسی طرح ایم کیوایم کی طرف سے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کے معاملے کو بھی تمام جماعتوں نے مل کر اسی طرح سنبھالا۔ جس میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اور ایم کیوایم کواس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے تمام ضروری سیاسی راستے مہیا کئے گیے۔اب ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے پیدا ہونے والی مشکلات پر بھی یہی سیاسی اتحاد ان دیکھے طریقے سے بروئے کار ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع سے وجود ڈاٹ کام کویہ معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ نون التوا کی مطلوبہ مدت پانے اور عسکری حلقوں کو قدے پیچھے دھکیل کر اب رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ پیپلز پارٹی کو ناراض کئے بغیر نمٹانا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں نوازشریف نے یہ طے کیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کوایک حد سے آگے بڑھ کر کسی بھی نوع کا سیاسی نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔ اگر عسکری حلقے سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے لئے سندھ حکومت کی پابندیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ، تو وفاقی حکومت پی پی او کے تحت اُنہیں ضروری اختیارات تو ضرور دے دے گی مگر یہ اختیارات بھی آخری سطح کے اقدامات بروئے کار لانے کے قابل نہ ہوں گے۔ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں وفاقی سطح پر بھی کہیں نہ کہیں جواب دہ رہنا پڑے گا۔ دوسری طرف سندھ حکومت بھی اُنہیں مستقل نشانہ تنقید بنائے رکھے گی۔ چنانچہ وفاقی سطح پر ملنے والے اختیارات بھی رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو مطلوبہ حد تک تسلی بخش نہ بنا سکیں گے۔ یہ ایک مستقل نوعیت کی کشمکش کا آغاز ہے۔ جسے کسی بھی دوسری طرح سے حل کرنے کی کوشش کی جائے ، ابہام موجود اور مسائل برقرار رہیں گے۔ جو عسکری حلقوں کے لئے ایک مستقل دردِ سر بنے رہیں گے۔

سیاسی جماعتوں نے اس پوری صورتِ حال کو نہایت کامیابی سے اپنے حق میں کر لیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے ادارے اِس سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ اور وفاقی حکومت کے اُس کردار سے کتنا مطمئن ہو پاتے ہیں جو گزشتہ دوروز سے اس معاملے میں صلاح مشورے کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اور جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار تک مطمئن نہیں ہو سکے۔ عسکری حلقے اس ضمن میں اپنی آراء کو منظر عام پر لانے سے گریزاں ہیں مگر وہ اس معاملے پر اپنی تشویش کو سامنے لانے کے تما م ضروری فورم استعمال کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

مضامین
غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ! وجود جمعه 06 مارچ 2026
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں !

مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟ وجود جمعه 06 مارچ 2026
مشرق وسطیٰ میں ایران کے بعد کس کا نمبر آئے گا؟

پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا! وجود جمعه 06 مارچ 2026
پریشان مت ہوں،ڈالر نہیں مر رہا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر