وجود

... loading ...

وجود

گلستان جوہر حادثہ : معاملے کا ہر پہلو بدعنوانیوں کاایک گورکھ دھندا نکلا

بدھ 14 اکتوبر 2015 گلستان جوہر حادثہ : معاملے کا ہر پہلو بدعنوانیوں کاایک گورکھ دھندا نکلا

karachi-landsliding

گلستان جوہر حادثے کی تحقیقات سے اب تک سامنے آنے والے حقائق نے کراچی میں سب کو چونکا دیا ہے۔ اس حادثے کے اسباب میں ہر سبب بدعنوانیوں کا ایک گورکھ دھندا ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا؟

گلستان جوہر کے بلاک ایک میں پہاڑی پر قائم دو بنگلوں کے مالکان ایک پارک تعمیر کر رہے تھے ۔ پارک کی تعمیر سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے ناجائز طور پر ہورہی تھی۔اسی تعمیر کے باعث پہاڑی تودا سابق صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کے پلاٹ پر قائم جھگیوں پرگر پڑا۔ جس کے باعث تیرہ ہلاکتیں ہوئیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے کی جانے والی تعمیر پر شہری ادارے اب تک جاگے کیوں نہیں تھے؟ یہاں تک کہ ایک حادثے نے تیرہ انسانوں کی جانیں نگل لیں۔ وجود ڈاٹ کام کو کے ڈی کے بعض ذرایع نے اطلاع دی ہے کہ غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی پر قبضے کی اس جاں لیوا مہم میں خود کے ڈی اے کے بعض سرکاری افسران بھی شریک تھے۔ یہاں بنگلوں کے وہ مالکان جو سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کے بعدپارک کی تعمیر میں مشغول تھے، کے علاوہ کے ڈی اے کے وہ افسران بھی اس حادثے کے ذمہ داران میں شریک ٹہرتے ہیں جو اس قبضے کی ناجائز سرپرستی کر رہے تھے جو بآلاخر تیرہ افرادکی جانوں کو نگلنے کا محرک ثابت ہوا۔

بدقسمتی سے شہر کراچی میں پلاٹوں پر قبضے سے لے کر قبضوں کی حفاظت تک پولیس کا غیر قانونی استعمال عام ہے

مگر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اس کے بالکل برابر نوعیت کا خطرناک کہا جا سکتا ہے۔تین بدقسمت خاندانوں کے ہلاک ہونے والے تیرہ افراد جن تین پلاٹوں پر جھگیاں قائم کرکے رہ رہے تھے، یہ دراصل خود ایک بہت بڑا بکھیڑا ہے جو شہر کراچی کو برباد کرنے کا موجب بنا ہوا ہے۔ یہ تینوں پلاٹ وزیراعلیٰ سندھ کے کوٹے پر الاٹ کیے گئے پلاٹوں میں شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کے کوٹے سے یہاں بہت سے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں جو بعد ازاں فروخت کے لین دین میں بھی شامل رہے۔ ان پلاٹوں کو حاصل کرنے والے افراد خود یہاں غیر قانونی قبضوں میں شامل ہیں۔ اور غیر قانونی قبضوں کے شکار بھی ہیں۔ چنانچہ یہاں کراچی میں عموی طور پر لینڈ مافیا زمینوں پر قبضے کے لیے یا اپنے قبضے برقرار رکھنے کے لیے ایسے افراد ڈھونڈتی ہیں جو جھگیاں قائم کرکے رہنے کو تیار ہوں ، اُنہیں اس کے لیے ایک مناسب معاوضہ بھی ادا کردیا جاتا ہے۔المناک حادثے کے شکار افراد جن پلاٹوں پر جھگیاں قائم کرکے رہ رہے تھے، وہ وزیراعلیٰ کے کوٹے پر ملنے والے پلاٹ تھے جن میں بی ۔ چون تیرہ ڈی اور تیرہ ای شامل ہیں ۔ یہ ایاز سومرو اور سیمی کاظمی کے نام الاٹ پلاٹ ہیں۔ جہاں پر ان لوگوں کو جھگیاں قائم کرکے اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ان پلاٹوں پر بھی کہیں قبضہ نہ ہو جائے۔

karachi-landsliding2

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے کوٹے سے الاٹ کیے جانے والے یہ پلاٹ کتنے قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں؟ کیا یہ پلاٹ صحیح الاٹ کیے گئے تھے؟ جھگیوں قائم کرکے جگہوں ، زمینوں اور پلاٹوں کی حفاظت نے اس شہر میں قانون کی رٹ کو کتنا متاثر کیا ہے؟ اور یہ رجحان بجائے خود کتنا خطرناک ہے؟ پھر ان جھگیوں کو قائم کرنے کے لیے لوگ کہاں سے اور کیوں میسر آجاتے ہیں؟

اس معاملے کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے۔ ایاز سومروکے نام اس پلاٹ میں جھگیوں کے علاوہ وہاں کے ڈی ایس پی کو بھی یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ پلاٹ کی حفاظت کریں۔ یہ سہولت کتنے اراضی مالکان کو حاصل ہے۔ بدقسمتی سے شہر کراچی میں پلاٹوں پر قبضے سے لے کر قبضوں کی حفاظت تک پولیس کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔ اور اس پر کوئی تو جہ دینے کو تیار نہیں۔ گلستان جو ہر کے حادثے نے ایک بار پھر شہر کے اندر جاری ہمہ جہتی ظلم کی طرف پورے ملک کو متوجہ کیا ہے۔

گلستان جوہر میں جھگیوں پر پہاڑی تودہ گرنے کے اس حادثے میں تخریب کاری کے پہلو کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم تین کمیٹیاں اس سے کیا برآمد کرتی ہیں۔اور وہ اوپر اُٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دیتی ہیں یا نہیں؟

karachi-landsliding3


متعلقہ خبریں


بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق وجود - بدھ 04 فروری 2026

پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...

ایران امریکا مذاکرات، پاکستان کو شرکت کی دعوت،دفتر خارجہ کی تصدیق

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ وجود - بدھ 04 فروری 2026

اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...

محمود اچکزئی کا شہباز شریف کو خط، عمران خان کا طبی معائنہ ذاتی معالجین سے کرانے کامطالبہ

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل وجود - بدھ 04 فروری 2026

صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...

فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک وجود - بدھ 04 فروری 2026

خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...

ملک بھر میں 195,000قومی شناختی کارڈز بلاک

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 03 فروری 2026

ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...

8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل وجود جمعه 06 فروری 2026
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔ وجود جمعه 06 فروری 2026
'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر