وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

جمعه 24 اپریل 2026 کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

عطا محمد تبسم

کراچی جو کبھی کھلی آب و ہوا کا شہر تھا، اب زہریلی اور کثیف ہوا سے بھرا ہوا ہے ۔ میرے ایک عزیز کا 8 سال کا بچہ مسلسل سانس کی
تکلیف میں مبتلا ہے ، مسجد میں کئی بوڑھے افراد کو میں مستقل ماسک میں دیکھتا ہوں، میڈیکل اسٹور پر سانس کو برقرار اور ہموار رکھنے والی
دواؤں کی قلت ہے ۔ کراچی کی زہریلی فضا کو اب محض ایک مبالغہ یا استعارہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک واضح، قابلِ پیمائش ماحولیاتی اور عوامی
صحت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ اس شہر کی ہوا میں شامل آلودگی نہ صرف ماحول
بلکہ انسانی زندگی کے معیار کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی کو آلودگی
کے کئی پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے ذرائع کا سامنا ہے ، جو اس کے فضائی معیار کو مسلسل گرا رہے ہیں اور لاکھوں شہریوں کی صحت کو خطرے
میں ڈال رہے ہیں۔
موجودہ فضائی معیار کے اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔کراچی اکثر ایسے درجے میں آتا ہے جسے درمیانی سے لے
کر حساس افراد کے لیے مضر قرار دیا جاتا ہے ۔ ایئر کوالٹی انڈیکس عموماً 90 سے 100 کے درمیان رہتا ہے ، جبکہ PM2.5 کی سطح
تقریباً 30 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے ۔ یہ سطح عالمی ادارئہ صحت کی تجویز کردہ محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے ، جو اس بات
کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری روزمرہ زندگی میں غیر محسوس انداز میں صحت کے خطرات سے دوچار ہیں۔اس آلودگی میں سب سے اہم کردار
باریک ذراتی مادہ یعنی PM2.5 کا ہے ۔ یہ نہایت باریک ذرات ہوتے ہیں جو بآسانی سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر
پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف سانس کی بیماریاں جنم لیتی
ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور دیگر طویل مدتی طبی مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ خاص طور پر بچے ، بزرگ اور پہلے سے کسی بیماری
میں مبتلا افراد اس آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
کراچی میں ماحول کی آلودگی اور ہوا مین زہریلی ذرات کے مسائل متعدد اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا
ذریعہ ٹرانسپورٹ ہے ۔ شہر میں لاکھوں گاڑیاں، خاص طور پر پرانی اور ناقص ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں، روزانہ زہریلا دھواں
خارج کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیاں، پاور پلانٹس، ریفائنریز اور بندرگاہی سرگرمیاں بھی فضا میں خطرناک کیمیکل چھوڑتی
ہیں۔ عالمی سطح پر تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ایسے صنعتی super-emitters شہری علاقوں، بشمول کراچی، میں بڑی مقدار میں PM2.5 خارج کرتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں۔
کراچی کی جغرافیائی اور موسمی صورتحال بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے ۔ شہر میں نمی زیادہ ہونے اور ہوا کے کم بہاؤ کی وجہ سے آلودہ
ذرات فضا میں ٹھہر جاتے ہیں۔ بعض اوقات گرد و غبار، کچرا جلانے اور تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والے ذرات بھی فضا کو مزید خراب
کرتے ہیں۔ اگرچہ سمندری ہوائیں کچھ اوقات میں فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن شہری پھیلاؤ اور بے ہنگم ترقی نے اس
قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے ۔اس زہریلی فضا کے اثرات نہایت سنجیدہ ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق PM2.5 کی بلند سطح سانس کی
بیماریوں، دمہ، دل کے امراض، فالج اور حتیٰ کہ قبل از وقت اموات کا سبب بن سکتی ہے ۔ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ
خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے انسانی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور زندگی کی مجموعی مدت بھی متاثر
ہو سکتی ہے ۔
ماہرین اس مسئلے کے حل کے لیے کئی اقدامات تجویز کرتے ہیں، جن میں صاف ایندھن کا استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، صنعتی
اخراج پر سخت کنٹرول، شجرکاری، اور شہری منصوبہ بندی میں بہتری شامل ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکومتی پالیسی، عوامی شعور اور
صنعتی ذمہ داری ایک ساتھ نہ آئیں، کراچی کی فضا میں بہتری ایک مشکل ہدف رہے گی۔ اوپر سے ہر طرف کھدائی سوئی گیس کی لائینوں کی
تبدیلی اور ریڈ لائین منصوبے نے شہر میں تباہی پھیر دی ہے ۔ ماہرین تو شہر میں ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہر میں
سیوریج لائنوں کی ناقص صورتحال کے باعث زہریلی گیسز سے ہلاکتوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔حکومت سندھ اس بارے
میں ایک ایسا غیر انسانی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ۔ جس میں سدھار کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔کراچی، جو کبھی پاکستان کا
اقتصادی حب اور زندگی سے بھر پور شہر تھا، آج اپنی ہی فضا کا یرغمال بن چکا ہے ۔ شہر کی سڑکوں پر اڑتا زہریلا گرد و غبار اور بے ضابطہ ترقیاتی
منصوبے شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والے شہری سانس، دمہ، نمونیہ، چیسٹ انفیکشن ، نزلہ،
زکام ، جلدی امراض اور آنکھوں کے انفیکشن میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک یہ کہ بچے تیزی سے دمہ کا شکار ہو رہے ہیں یہ
آلودہ فضا ان کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے ۔ حکومت توجہ کرے تو صنعتی کنٹرول ، گاڑیوں کی نگرانی اور موثر اقدامات سے آلودگی
میں 50 فیصد تک کی ممکن ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ متوازن کیا جائے ۔ شہر کی فضا کی خرابی
صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے نہ صرف شہریوں پر بلکہ اس حوالے سے دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ حکومت ، صنعت کار، اور شہری سب کو
مل کر فوری اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ورنہ کراچی ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو گی ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر