... loading ...

سیاسی حالات، فوجی اداروں کے عزم اور وزیراعظم کے دورۂ کراچی نے ایم کیوایم کے اجتماعی فیصلوں کے اعلان کو بے اثر بنا دیا ہے۔ اور اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ یہ استعفے قبول کئے جاتے ہیں یانہیں۔ ایم کیوایم استعفوں سے جو دباؤ پیدا کرنا چاہتی تھی اور جو اب تک اس کی سیاست کا ایک امتیازی وصف رہا ہے ، وہ کم ازکم کراچی آپریشن کے حوالے سے بے نتیجہ رہا ہے۔ بلکہ یہ اُلٹا اثر دکھا گیا ہے اور ایم کیوایم اب خود اپنے ہی اجتماعی استعفوں کے دباؤ سے نکلنے کے لئے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔
حکومت نے ایک طرف یہ کوششیں جاری رکھی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سمجھا بُجھا کر ایم کیوایم کی پارلیمنٹ میں واپسی یقینی بنا ئی جائے۔ مگر ساتھ ہی اُس نے کراچی آپریشن پر کوئی مفاہمت نہ کرنے کے واضح اشارے بھی دے دیئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، حکومت نے اِسی دوران الطاف حسین کے جیو ٹیلی ویژن کے ایک نشریئے’’ جرگہ‘‘میں کی جانے والی خصوصی گفتگو کو بھی نشر ہونے سے روک دیا ہے۔ اس سے قبل ہی الطاف حسین کے براہِ راست خطابات کو دکھانے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی جاچکی تھی۔ اس طرح عملاً الطاف حسین کی ’’رونمائی‘‘ اور ’’لب کشائی‘‘ کے ابلاغی ذرائع پر کڑے پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم واضح طور پر الطاف حسین کے خطاب پر عائد غیر اعلانیہ پابندی کا فوری خاتمہ چاہتی ہے۔ ایم کیوایم کے اہم رہنماؤں نے سیاسی قیادت کو اعلیٰ ترین سطح سے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ آئندہ الطاف حسین غیر محتاط گفتگو سے گریز کریں گے اور فوجی اداروں کے خلاف کسی بھی نوع کی لب کشائی نہیں کریں گے۔ مگر اُن کی اس یقین دہانی کا کوئی خاطر خواہ اثر دکھائی نہیں دے رہا۔ وجود کو اپنے ذرائع سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ ایم کیوایم کے رہنما اس نکتے کے ساتھ کراچی آپریشن کے دیگر مسائل کا ایک طویل ایجنڈا لے کر کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل نوید مختار سے بھی ملاقات کے خواہاں تھے مگر اُنہیں اس پر کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی ہے۔
ایم کیوایم کی طرف سے اجتماعی استعفوں کے ذریعے پیدا کئے گئے دباؤ کے بے نتیجہ ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے پاس اب اپنی’’ چہرہ بچائی‘‘(فیس سیونگ)کے لئے بہت کم راستے باقی بچے ہیں۔ چنانچہ ایم کیوایم اسحاق ڈار اور مولانا فضل الرحمان کے ’’بیچ بچاؤ‘‘ فارمولے سے مستفید ہونے کے لئے خاصی بے قرار دکھائی دیتی ہے۔مگر یہ راستا بھی کچھ زیادہ موثر ثابت نہیں ہورہا۔ کیونکہ ایم کیوایم کو اس راستے سے ہونے والے ’’مذاکرات‘‘ سے کچھ خاص ملنے کی توقع نہیں رہی۔یہی وجہ تھی کہ ایم کیوایم نے وزیراعظم کی 20؍اگست بروز جمعرات کراچی آمد کو ایک بہترین موقع سمجھتے ہوئے اُن سے ہر صورت ملاقات کی کوئی صورت نکالنا چاہی۔ مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس وزیراعظم نے کراچی آمد پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس اور پارسی برادری سے خطاب کے دوران کراچی آپریشن کو بہرصورت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور عملاً ایم کیوایم کی طرف سے ’’مانیٹرنگ کمیٹی‘‘ کے مطالبے پر کسی قسم کاکوئی عندیہ نہیں دیا۔ ایم کیوایم کے لئے اب کراچی آپریشن پر محض ایک مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام وہ واحد راستا بچ گیا ہے جسے وہ جواز بنا کر پارلیمنٹ میں واپسی کرسکتی ہے۔ مگر مانیٹرنگ کمیٹی بھی عملاً ایم کیوایم کی شکایات کودور کرنے کا کوئی موثر ذریعہ ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس سے قبل ایپکس کمیٹی کا قیام دیگر بہت سارے مقاصد کے ساتھ اِسی لئے کیا گیا تھا کہ جہاں بیٹھ کر ایک دوسرے کے تحفظات کا ازالہ بھی کیا جاسکے، مگر عملاً ایپکس کمیٹی سے ایم کیوایم یہ مقصد حاصل نہیں کرسکی۔ اب یہ ایک خام خیالی ہی ہوسکتی ہے کہ کسی نوع کے آپریشن سے قبل مانیٹرنگ کمیٹی کو اس سے باخبر رکھاجائے یا پھر رینجرز گرفتار شدہ ملزموں کی تمام تفصیلات کو قبل ازوقت مانیٹرنگ کمیٹی کے حوالے کردے۔ اس اعتبار سے مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی کچھ زیادہ قابلِ قبول حل ثابت نہیں ہوسکیں گی، تاہم ایم کیوایم کے پاس اب مانیٹرنگ کمیٹیوں کاقیام ہی اجتماعی استعفوں کے دباؤ سے نکلنے کا ایک واحد راستا دکھائی دیتا ہے۔
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...
7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...
ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...
امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...
پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...