وجود

... loading ...

وجود

آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

جمعه 31 جولائی 2026 آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

اگر آپ محنت نہیں کرتے ، محبت نہیں کرتے ، کتاب نہیں پڑھتے ، شاعری نہیں سنتے اورموسیقی سے بھی آپ کے دل میں کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، تو پھرآپ موت سے کیوں ڈررہے ہیں؟ آپ تو پہلے ہی مرے ہوئے ہیں ۔

بعض اوقات انسان کی سانسیں چل رہی ہوتی ہیں، دل بھی دھڑک رہا ہوتا ہے ، وہ دفتر بھی جاتا ہے ، کاروبار بھی کرتا ہے ، کھانا بھی کھاتا ہے ، دوستوں سے ہنستا بھی ہے ، مگر اس کے باوجود وہ زندہ نہیں ہوتا۔ زندگی صرف جسم کا نام نہیں، احساس کا نام ہے ۔ جس دن انسان کے اندر تجسس مرجائے ، سیکھنے کی خواہش ختم ہو جائے ، کسی کتاب کا صفحہ اسے اپنی طرف نہ بلائے ، کسی شعر پردل نہ دھڑکے ، کسی دھن سے روح میں ارتعاش پیدا نہ ہو، کسی خواب کے لیے محنت کرنے کا جذبہ باقی نہ رہے ، تو پھر زندگی آہستہ آہستہ ایک مشینی معمول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے دورمیں داخل ہو چکے ہیں جہاں لوگ زندہ رہنے کی تیاری توبہت کرتے ہیں، مگر جینے کا ہنر بھولتے جا رہے ہیں۔

بہترگھر، بہترگاڑی، بہترعہدہ اوربہتر بینک بیلنس کی دوڑمیں انسان نے اپنے اندر کے انسان کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ صبح سے شام تک بھاگتے ہوئے اکثر یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ آخری مرتبہ کسی کتاب نے ہمیں کب سوچنے پرمجبورکیا تھا، کسی نظم نے ہماری آنکھیں کب نم کی تھیں، یا کسی خوبصورت دھن نے ہمارے اندرامید کا چراغ کب روشن کیا تھا۔ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے ۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو صبح گھر سے نکلتے ہیں، شام کو واپس آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، موبائل اسکرول کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ پھراگلی صبح یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے ۔ دن بدلتے ہیں، تاریخیں بدلتی ہیں، سال بدل جاتے ہیں، مگران کی زندگی میں کچھ نہیں بدلتا۔ انہوں نے جینا نہیں، صرف وقت گزارنا سیکھ لیا ہوتا ہے ۔زندگی کا اصل حسن یہ نہیں کہ انسان کتنے سال جیتا ہے ، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان سالوں میں کتنا محسوس کرتا ہے ۔ ایک اچھی کتاب آپ کی سوچ کا دروازہ کھول دیتی ہے ، ایک بہترین شعر آپ کے اندر سوئی ہوئی کیفیت کو جگا دیتا ہے ، ایک خوبصورت دھن دل کی گرد صاف کر دیتی ہے ، اور ایک سچی محبت انسان کو اپنے آپ سے بہتر بنا دیتی ہے ۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو محض زندہ نہیں رکھتیں، بلکہ اسے زندہ دل بناتی ہیں،بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ جذباتی اورفکری قحط کا شکار ہوتا جا رہا ہے ،شاید اسی لیے چہروں پر مسکراہٹیں تو دکھائی دیتی ہیں، مگرآنکھوں میں وہ چمک کم ہوتی جا رہی ہے جو صرف ایک بامقصد زندگی سے پیدا ہوتی ہے ۔

یہ بھی ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم نے کامیابی کا مطلب صرف دولت، عہدے اورشہرت تک محدود کر دیا ہے ۔ حالانکہ دنیا کی تاریخ گواہ
ہے کہ بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے پاس نہ دولت کے انبار تھے ، نہ اقتدارکی کرسی، مگروہ زندگی سے بھرپور تھے ،وہ محنت کرتے تھے ، محبت بانٹتے تھے ، کتابوں سے دوستی رکھتے تھے ، فنونِ لطیفہ سے لطف اندوز ہوتے تھے اور ہر نئے دن کو سیکھنے کا ایک نیا موقع سمجھتے تھے ۔ اسی لیے وہ اپنے مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، صرف سانسوں کا چلتے رہنا زندگی نہیں، زندگی تو اندر کی روشنی کا نام ہے ، اور جب یہ روشنی بجھ جائے تو انسان چلتا پھرتا وجود تو رہ جاتا ہے ، مگر اس کی روح زندگی سے اپنا رشتہ کھو بیٹھتی ہے ۔شاید اسی لیے حقیقی زندگی کا آغاز اس دن ہوتا ہے جب انسان کسی مقصد کے لیے محنت کرنا شروع کرتا ہے ، کسی انسان سے بے غرض محبت کرنا سیکھ لیتا ہے ، کتاب کو اپنا دوست بنا لیتا ہے ، شاعری سے اپنے احساسات کو جلا بخشتا ہے اور موسیقی میں زندگی کی دھڑکن سن لیتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو عمرمیں نہیں، زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔

زندگی دراصل برسوں کا حساب نہیں، لمحوں کا معیار ہے ۔ کچھ لوگ ساٹھ برس کی عمر میں بوڑھے ہو جاتے ہیں اور کچھ اسی برس کی عمر میں بھی نئے خواب دیکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے زندگی کو بوجھ سمجھا اور دوسرے نے نعمت۔ ایک نے وقت گزارا، دوسرے نے وقت کو معنی عطا کیے ،اس لیے اگرآپ واقعی زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھیے ۔ محنت کو اپنی عادت بنائیے ، محبت کو اپنی فطرت، کتاب کو اپنا ساتھی، شاعری کو اپنی غذا اور موسیقی کو اپنی روح کی آواز بنائیے ۔ ہر روز کچھ نیا سیکھیے، کسی کی مدد کیجیے ، کسی کا ہاتھ تھامئے ، کسی خواب کے لیے پسینہ بہائیے ۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو انسان کو محض زندہ نہیں رکھتیں، بلکہ اسے زندہ دل بناتی ہیں۔آخر میں مجھے وہ جملہ پھر یاد آتا ہے جس نے اس پوری تحریرکو جنم دیا’’۔اگرآپ محنت نہیں کرتے ، محبت نہیں کرتے ، کتاب نہیں پڑھتے، شاعری نہیں سنتے اورموسیقی سے بھی آپ کا کوئی تعلق نہیں، تو پھرآپ کو موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ موت صرف سانسوں کے رکنے کا نام نہیں۔ حقیقی موت تو اس دن واقع ہو جاتی ہے جب انسان کے اندرخواب دیکھنے ، محسوس کرنے ، سیکھنے اور محبت کرنے کی صلاحیت مر جائے ، اس لیے اپنی سانسوں کی نہیں، اپنے احساسات کی حفاظت کیجیے ، کیونکہ زندہ وہی ہے جس کے اندر زندگی ابھی باقی ہے ’’۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر