وجود

... loading ...

وجود

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

اتوار 05 جولائی 2026 پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

شاہ صاحب فرمانے لگے !!یار، تم ہر وقت دکھ، درد، محرومی، مہنگائی اور مسائل ہی کیوں لکھتے رہتے ہو؟ لوگوں کے پاس پہلے ہی رونے کے لیے آنسو کم ہیں، تم مزید غم بانٹ دیتے ہو۔ کبھی قوم کو خوشخبری بھی سنایا کرو، حوصلہ بھی دیا کرو، روشن مستقبل بھی دکھایا کرو۔میں نے عرض کیا، شاہ صاحب! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔سو دیکھیے ، کل ہمارے علاقے میں پورے اٹھارہ گھنٹے بجلی غائب رہی۔ مگر خدا گواہ ہے ، نہ میں نے لوگوں میں مایوسی پھیلائی، نہ حکومت کو کوئی خطاب دیا، دل میں بھی گالی نہیں نکالی، بلکہ میں نے لوڈشیڈنگ کے ایسے ایسے فوائد دریافت کیے کہ خود بجلی بھی شرما جائے ۔ میں نے سوچا، آخر اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے ،اب ذرا انصاف سے بتائیے ، پاکستانی قوم سے زیادہ صبر کس نے کیا ہے ؟ مہنگائی برداشت کی، ٹیکس برداشت کیے ، بے روزگاری برداشت کی، لوڈشیڈنگ برداشت کی، لمبی قطاریں برداشت کیں، وعدے برداشت کیے ، اگر صبر کا کوئی عالمی کپ ہوتا تو پاکستان برسوں سے ناقابلِ شکست چیمپئن ہوتا۔تو میں نے دل کو تسلی دی کہ پاکستانی ہی تو صابر،شاکر ہیں،یہی جنت میں جائینگے ۔ دنیا توچند دن کی ہے ، اصل کامیابی تو آخرت کی ہے ۔ وہاں نہ بجلی کا بل آئے گا، نہ فیول ایڈجسٹمنٹ، نہ اضافی سرچارج، نہ میٹر ریڈر کا انتظار ہوگا۔ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی، ایسی جن کا تصور بھی دنیا میں ممکن نہیں۔ مہنگائی،لوڈ شیڈنگ جائے بھاڑ میں،ہم سب جنت میں جائیں گے ۔کیا بات ہے جنت کی، وہاں خالص شہد ہوگا ،وہ بھی چھوٹی مکھی کا۔ اورشراب بھی ایسی، رومانے کونٹی سے کروڑوں درجہ بہتر اورمزیدار۔ اور رہی حوریں۔مولانا طارق جمیل کے مطابق،وہ ایسی خوبصورت ہوں گی کہ اگر ایک حورِ جنت دنیا میں ایک بار جھانک لے تو سورج بھی شرم سے چھپ جائے ۔ ان کا حسن اللہ نے اپنے ہاتھ سے تراشا ہے ، کوئی انسانی ہاتھ اسے چھو بھی نہیں سکتا۔ان کی زلفیں،لمبی، گھنگھریالی، سیاہ اور چمکدار،جیسے رات کا اندھیرا مگر چاندنی میں نہائے ہوئے ،جب وہ سر ہلائیں گی تو ان زلفوں کی لہریں دل کو موہ لیں گی، جیسے کوئی نرم ہوا باغِ جنت کے پھولوں کو چھو رہی ہو۔ان کی آنکھیں ، بڑی بڑی، کشش والی، سرمہ لگی ہوئی، جیسے ہیرے ،موتی یا چمکتے ستارے ،ایک نگاہ میں ہی دل فتح کر لیں گی، مگر وہ نگاہیں پاک اور شرم والی ہوں گی،ان کی آنکھوں میں کوئی فتنہ نہیں، صرف سکون اور محبت ہو گی۔ان کا قد و قامت،سیدھا، بلند اور خوبصورت، نہ زیادہ لمبا نہ چھوٹا ،بالکل وہ ڈول جو دل کو بھائے ۔

ان کی چال جنت کی ہواؤں سے بھی زیادہ نرم اور لطیف ہو گی۔ان کا حسن اور رنگت، سفید، چمکدار، جیسے تازہ دودھ میں غوطہ لگا ہو، یا موتی جو کبھی سورج کی روشنی نہ دیکھا ہو۔ ان کے جسم پر کوئی داغ نہیں، کوئی کمی نہیں، بالکل کامل اور پاکیزہ۔ ان کے لباس ریشم اور زر و جواہرات کے ہوں گے جو چمکتے رہیں گے ۔ ان کی آواز،جب وہ بولیں گی تو جیسے موسیقی بج رہی ہو، نرم، میٹھی اور دل کو چھو لینے والی۔ وہ تمہارے نام سے پکاریں گی تو دل پگھل جائے گا۔وہ کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی، کبھی بیمار نہیں ہوں گی، کبھی ناراض نہیں ہوں گی۔ ہمیشہ مسکراتی رہیں گی، ہمیشہ خوش رہیں گی۔ ان کی محبت خالص ہو گی، حسد نہیں، تکبر نہیں۔پاکستانیو !! گھبرانا نہیں،یہ سب کچھ آپ کیلئے ہے ،آپکو ملے گا۔کیونکہ آپ سب صابر اور شاکر ہیں۔

اب آئیے دنیاوی کامیابی کی طرف۔لوڈشیڈنگ کے اتنے فائدے ہیں کہ اگر بجلی ہر وقت آنے لگے تو شاید ہم ان نعمتوں کو بھول جائیں۔سوچیے ، اگر چوبیس گھنٹے بجلی رہے گی تو میٹر بھی چوبیس گھنٹے دوڑے گا، میٹر دوڑے گا تو یونٹ بڑھیں گے ،یونٹ بڑھیں گے تو بل زیادہ آئے گا۔ بل زیادہ آئے گا تو جیب خالی ہوگی۔ جیب خالی ہوگی تو قرض لینا پڑے گا اور پھر قرض ادا کرنے کیلئے قرض لینا پڑے گا،آخر ایک دن قرض دینے والے آپ کی جائیداد ہر قبضہ کرلیں گے ،آپ گھر سے محروم کر فٹ پاتھ پر آجائیں گے ۔مگر لوڈشیڈنگ نے یہ سارا سلسلہ وہیں روک رکھا ہے ،بجلی نہیں، تو میٹر بھی آرام میں۔ میٹر آرام میں، تو یونٹ کم۔ یونٹ کم، تو بل نسبتاً کم۔ بل کم، تو قرض کم۔ قرض کم، تو گھر بچا ہوا ہے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں، یہ لوڈشیڈنگ نعمت ہوئی یا نہیں؟ہم تو برسوں سے غلطی یہ کرتے رہے کہ بجلی جاتے ہی آسمان کی طرف دیکھ کر شکوے شروع کر دیتے تھے ، حالانکہ ہمیں تو بجلی جاتے ہی اپنا کیلکولیٹر نکال کر خوش ہونا چاہیے تھا کہ چلو، چند یونٹ اور بچ گئے ۔اس لیے ، اے اہل پاکستان! آئندہ اگر بجلی چلی جائے تو پریشان مت ہونا، غصے میں گالیاں بھی مت دینا، دل میں بھی نہیں۔ بس اتنا سوچ لینا کہ شاید آج پھر چند یونٹ بچ گئے ، چند روپے بچ گئے ، اور قرض لینے کی نوبت چند گھنٹے مزید ٹل گئی۔
اور شاہ صاحب !! پڑھ لیجیے ۔ آج میں نے قوم کو مایوس نہیں کیا۔ آج تو میں نے انہیں دنیا کی کامیابی بھی سنا دی اور آخرت کی امید بھی دلا دی۔لکھتے ،لکھتے ۔آخر میں ساغر صدیقی کا شعر یاد آگیا۔

فقیہِ شہر نے تُہمت لگائی ساغر پر
یہ شخص درد کی دولت کو عام کرتا ہے


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر