وجود

... loading ...

وجود

ہاں خریدا ہے جہاز!

اتوار 05 جولائی 2026 ہاں خریدا ہے جہاز!

پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ پوری تقریر پر بھاری پڑ جاتا ہے، کچھ جملے اخبارات کی سرخی بنتے ہیں، کچھ ٹی وی ٹاک شوز کی زینت بنتے ہیں، اور کچھ عوام کی روزمرہ گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں ”ہاں خریدا ہے جہاز!” بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں بحث، طنز اور مزاح کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیامجھے تو یوں لگا جیسے ملک کے تمام مسائل اچانک رخصت ہو گئے ہوں نہ مہنگائی کا ذکر رہا، نہ بے روزگاری کا، نہ بجلی کے بلوں کا، نہ ٹیکسوں کا ہر طرف صرف ایک ہی سوال تھاہاں جہاز خرید لیا؟

پاکستانی قوم بھی کمال کی قوم ہے۔ دکھ میں بھی مسکرانے کا ہنر جانتی ہے۔ سوشل میڈیا کھولا تو ایسا لگا جیسے ہر شخص کامیڈین بن گیا ہواور پاکستان کے ہر چائے خانے، ہر دفتر، ہر رکشے اور ہر سوشل میڈیا گروپ کو ایک نیا موضوع مل گیا ہو عوام نے بھی دل کھول کر اس جملے کا خیر مقدم کیا کسی نے کہا ”جہاز خریدا ہے تو شاید اب ٹریفک جام سے نجات مل جائے”۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اگر جہاز آ ہی گیا ہے تو محلے کے بچوں کو بھی ایک چکر لگوا دیا جائے، ہمارے ملک میں تو آج بھی عام آدمی موٹر سائیکل کی قسط پوری نہیں کر پاتا لیکن سیاسی بیانات ایسے آتے ہیں جیسے ہر دوسرے گھر کے باہر ایک طیارہ کھڑا ہوغریب آدمی بجلی کا بل دیکھ کر بے ہوش ہونے کے قریب ہوتا ہے گیس کا بل ہاتھ میں آتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ آٹے، چینی اور دال کی قیمتیں سن کر جیب خود ہی خالی محسوس ہونے لگتی ہے مگر سیاست کی دنیا میں گفتگو کا معیار کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ یہی تو ہماری سیاست کا حسن بھی ہے اور المیہ بھی یہاں اصل مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ایک جملہ پوری سیاست پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، انصاف اور امن جیسے موضوعات انتظار کرتے رہتے ہیں جبکہ قوم ایک بیان کے معنی اور اس کے پس منظر پر بحث کرتی رہتی ہے۔

ویسے اگر جہاز خریدنا کوئی اتنی عام بات ہے تو پھر عوام کو بھی اجازت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بجلی کے بل کا جواب صرف ایک جملے میں دیں ”ہاں نہیں بھر سکتے!” شاید اس کے بعد واپڈا والے بھی مسکرا کر کہیں ”کوئی بات نہیں!”ہمارے ہاں عجیب رواج ہے عوام سے کہا جاتا ہے کہ صبر کریں، قربانی دیں، مشکل وقت ہے، کفایت شعاری اپنائیں لیکن جب طاقتور طبقے کی بات آتی ہے تو انداز بدل جاتا ہے تب وضاحتیں بھی اعتماد سے دی جاتی ہیں اور فیصلے بھی۔اصل سوال جہاز کا نہیں ترجیحات کا ہے قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ اگر وسائل موجود ہیں تو ان پر پہلا حق کس کا ہے؟ ایک نئی سواری کا یا ایک نئے ا سکول کا؟ ایک نئے جہاز کا یا ایک ایسے ہسپتال کا جہاں مریض کو دوا خریدنے کے لیے اپنا موبائل نہ بیچنا پڑے؟ سیاست میں بیانات آتے رہیں گے، وضاحتیں بھی ہوتی رہیں گی مگر عوام کے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ گردش کرتا رہے گا آخر وہ دن کب آئے گا جب کوئی رہنما پورے اعتماد سے یہ کہے ہاں مہنگائی کم کی ہے، ہاں نوجوانوں کو روزگار دیا ہے، ہاں سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنایا ہے۔ اس دن شاید قوم بھی تالیاں بجائے گی۔ سوشل میڈیا پر لطیفے کم ہوں گے اور ”جہاز” نہیں بلکہ عوام کی امیدیں پرواز کریں گی۔ لیکن بدقسمی سے ہمارے ہاں سوچ کا فرق ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان ہے جہاں لاکھوں لوگ مہینے کے آخری دس دن ادھار پر گزارتے ہیں ،جہاں والدین بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے زیور بیچ دیتے ہیں، جہاں مریض سرکاری ہسپتالوں میں دوائی نہ ملنے پر پریشان ہوتے ہیں، جہاں نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں ۔دوسری طرف ایک ایسا پاکستان بھی ہے جہاں بعض اوقات ایسے بیانات دیے جاتے ہیں جن سے لگتا ہے جیسے معاشی مشکلات صرف عام آدمی کے لیے ہیں،اگر کسی نے واقعی جہاز خریدا ہے اور وہ قانونی طور پر خریدا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اعتراض اس احساس پر ہے جو ایسے بیانات عوام میں پیدا کرتے ہیں۔ سیاست دان جب عوامی نمائندہ بنتا ہے تو اس کے ہر لفظ کی قیمت ہوتی ہے۔ اس کے لہجے میں بھی عوام کے دکھوں کی جھلک ہونی چاہیے اور دوسری طرف ہمارے معاشرے کی خوبصورتی بھی ہے کہ ہم روتے بھی ہیں تو ہنس کر اور ہنستے ہیں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔

عوام کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہر بجٹ کے بعد مزید کفایت شعاری سیکھتے ہیں۔ پہلے گوشت ہفتے میں تین بار پکتا تھا پھر ایک بار رہ گیا۔ اب بعض گھروں میں عید کا انتظار ہوتا ہے۔ پہلے بچے ہر سال نئے کپڑے لیتے تھے۔ اب بڑے بہن بھائیوں کے کپڑے چھوٹوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ پہلے خاندان سیاحت کا پروگرام بناتے تھے۔ اب بازار جانے سے پہلے بھی حساب لگاتے ہیں کہ جیب اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بااثر شخصیت پورے اعتماد سے کہے ”ہاں خریدا ہے جہاز!” تو پھرمحسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک عجیب مزاج ہے یہاں الفاظ کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں ۔ایک بیان کئی مہینوں کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے اور ایک جملہ پوری حکومت کی ترجمانی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اسی لیے عوامی عہدے پر بیٹھے لوگوں کو صرف فیصلوں ہی نہیں بلکہ اپنے الفاظ کی بھی ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کو اپنی ذاتی کامیابی یا خریداری پر شرمندہ ہونا چاہیے لیکن جب ملک کا بڑا حصہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے نبرد آزما ہو تو عوامی احساسات کا خیال رکھنا بھی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ قوم کو جہازوں سے کوئی دشمنی نہیں قوم تو صرف یہ چاہتی ہے کہ اس کے بچوں کا مستقبل بھی پرواز کرے کاش کوئی لمحہ ایسا بھی آئے جس دن کوئی حکمران پورے اعتماد سے یہ کہے گا”ہاں ہم نے غربت کم کی ہے،ہاں ہم نے عوام کی زندگی آسان بنائی ہے ،ہاں ہم نے ریاست کو عوام کے لیے آسان بنا دیا ہے” اس دن شاید کسی کو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی کہ ”جہاز خریدا ہے یا نہیں؟” کیونکہ اس وقت عوام خود کہیں گے کہ اصل پرواز تو ملک نے کی ہے کسی ایک شخص نے نہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر