... loading ...
ریاض احمدچودھری
کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی مودی کی خارجہ پالیسی کو ملکی مفاد کے بجائے صرف ذاتی دکھاوے کا ذریعہ قرار دیا۔مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا بحران اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر مودی حکومت کا خوف کھل کر سامنے آ یا ہے۔ مودی کی ظاہری نمائش کے برعکس عالمی مذاکرات میں بھارت کی کوئی جگہ نہیں دکھائی دی۔دوسری جانب بھارتی دفاعی ماہر پروین ساہنی کے مطابق جنوبی ایشیا میں مودی کی مکمل سفارتی ناکامی عالمی سطح پر بھارت کی بدترین بے وقعتی ثابت ہو گی۔ مودی کے خوف اور دکھاوے کی سیاست نے دنیا بھر میں بھارت کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔
بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بدترین خارجہ پالیسی کے نتیجے میں سنجیدہ سفارت کاری محض سوشل میڈیاپر تماشا بن کر رہ گئی ہے۔مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے۔ امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا۔ملکی خارجہ پالیسی میں قیادت کا مفاد بڑھنے سے ریاستی سفارتی شناخت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان نے سفارتی میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا، مودی سرکار کی ناکامی پر سوالات اٹھنے لگے۔ معرکہ حق میں بھارت کیخلاف دفاعی کامیابی اور ایران امریکا کشیدگی میں نتیجہ خیز ثالثی نے دنیا بھر میں پاکستان کو نئی پہچان دلا دی۔بھارت واشنگٹن سے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف جبکہ پاکستان پہلے ہی اپنا سفارتی لوہا منوا چکا ہے، جی 7 سمٹ میں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات روایتی گرمجوشی کے بجائے صرف مصافحہ تک محدود رہی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات بظاہر دوستانہ تھی مگر کشیدگی کے آثار بھی نمایا تھے۔
بھارت کئی سال تک پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ پاکستان خطہ اور عالمی سطح پر ایک اہم ترین ملک بن کر ابھرا۔بھارتی صحافی سریند ساگر کے مطابق دنیا اب امن کیلئے بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے جو مودی کی ناکامی ہے۔ بھارتی تجزیہ کار آنند رنگناتھن نے بھارتی سفارتکاری کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کوشش کر رہا ہے کہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے، بھارت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی تجزیہ کاروں کی مایوسی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت مودی راج میں اپنی خارجہ پالیسی کے ناکام ترین دورسے گزر رہا ہے۔ نریندر مودی نے 2016 میں پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا، لیکن آج کی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے نہ صرف اس دباؤ کا مقابلہ کیا بلکہ آج وہ واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض جیسی بڑی عالمی طاقتوں اور دارالحکومتوں کے ساتھ مضبوط رابطے میں ہے۔ مودی حکومت کی یہ حکمتِ عملی الٹا بھارت کے لیے ہی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے اور پاکستان آج خطے میں اثر انداز ہونے والا ایک انتہائی اہم فریق بن کر ابھرا ہے۔
2025 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے بیانیے کی جنگ اپنے نام کی، کیونکہ دنیا نے پہلگام کے واقعے پر بھارتی الزامات کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کشیدگی کو ختم کرانے اور جنگ بندی کے معاملے پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں دراڑ ڈال دی۔صدر ٹرمپ نے تیس سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لیا، جبکہ نئی دہلی مسلسل اس دعوے کی تردید کرتا رہا۔اس کے علاوہ، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھارت کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر مسلسل تنقید کی جاتی رہی، لیکن اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک غیر معمولی شخصیت قرار دے کر ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ رپورٹ میں خطے کی نئی جیو پولیٹیکل حقیقتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی ناقابلِ شکست شراکت داری اب خطے میں ایک مضبوط سچائی بن چکی ہے۔اس کے ساتھ ہی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری کو بھارت کی علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان خلیجی ممالک کے لیے ایک ابھرتے ہوئے سکیورٹی پارٹنر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔ان تمام کامیابیوں کے باعث پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور اس کی فضائی طاقت میں عالمی برادری کی دلچسپی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔رپورٹ کے آخری حصے میں بھارت کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی، مساجد کی مسماری اور دیگر امتیازی اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس کے مقابلے میں، پاکستان نے اپنی قیمتی معدنیات، بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع اور فعال سفارت کاری کے ذریعے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ کامیابی سے اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، پاکستان آج دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت امریکا، چین، ایران اور سعودی عرب جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے ساتھ اپنے مؤثر اور متوازن تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کی سفارتی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
٭٭٭