... loading ...
میری بات/روہیل اکبر
پاکستان میں غربت ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا کڑوا سچ بن چکا ہے، جب یہ کہا جاتا ہے کہ جس شخص کی ماہانہ آمدن 8 ہزار 483 روپے سے ایک روپیہ بھی زیادہ ہو، وہ حکومتی تعریف کے مطابق غریب نہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اتنی معمولی آمدن کسی انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے؟
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 7 کروڑ سے زائد افراد غربت کا شکار ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے روزگار ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں غریب ہونا صرف کم آمدنی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی زندگی کا دوسرا نام ہے جس میں ہر دن ایک نئی آزمائش لے کر طلوع ہوتا ہے۔ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کے خواب، خواہشات اور بعض اوقات اس کی عزتِ نفس کو بھی متاثر کرتی ہے جو لوگ ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر غربت کے اعداد و شمار مرتب کرتے ہیں ،شاید وہ اس کرب کو پوری طرح محسوس نہ کر سکیں جو ایک غریب شخص روزانہ برداشت کرتا ہے ۔ایک غریب شخص کی صبح سورج نکلنے سے پہلے شروع ہو جاتی ہے ۔اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آج روزی کہاں سے ملے گی؟ دیہاڑی دار مزدور ہو یا ریڑھی لگانے والا اس کی آمدنی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آج کام ملتا ہے یا نہیں ۔اگر کام نہ ملے تو گھر میں چولہا جلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں تنخواہ، بونس یا سالانہ ترقی کا کوئی تصور نہیں ہوتا بلکہ ہر دن ایک نئی جدوجہد کا نام ہے۔ گھر واپس پہنچنے پر اس کے سامنے بچوں کی ضروریات کا پہاڑ کھڑا ہوتا ہے۔ کسی بچے کو اسکول کی فیس چاہیے، کسی کی کتابیں پرانی ہو چکی ہیں، کسی کے جوتے پھٹ گئے ہیں اور کسی کی طبیعت خراب ہے لیکن محدود آمدنی میں یہ تمام ضروریات پوری کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اکثر غریب والدین اپنے بچوں کے خوابوں کو صرف اس لیے قربان کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ مہنگائی نے غریب آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور ادویات سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے ۔ایک وقت تھا جب غریب آدمی کم از کم دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر لیتا تھا لیکن آج بہت سے خاندان ایک وقت کا کھانا پورا کرنے کے لیے بھی پریشان رہتے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بل الگ مسئلہ ہیں جو محدود آمدنی کو مزید محدود کر دیتے ہیںصحت کا شعبہ بھی غریب کے لیے ایک مستقل آزمائش ہے اگر گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جائے تو علاج کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں طویل قطاریں اور سہولتوں کی کمی جبکہ نجی ہسپتالوں کے اخراجات غریب کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں، ایسے میں بہت سے لوگ بیماری کے ساتھ جینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم وہ راستہ ہے جو غربت سے نجات دلا سکتا ہے مگر افسوس کہ غریب کے لیے یہی راستہ سب سے زیادہ دشوار ہے۔ لاکھوں بچے صرف اس لیے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کے والدین فیس، کتابوں اور یونیفارم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ نتیجتاً غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
غربت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان سے امید چھین لیتی ہے جب مسلسل محنت کے باوجود حالات نہ بدلیں تو مایوسی جنم لیتی ہے یہی مایوسی بعض اوقات جرائم، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔اگرچہ اکثریت دیانت داری اور محنت کا راستہ اختیار کرتی ہے لیکن معاشی دباؤ معاشرے پر منفی اثرات ضرور مرتب کرتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا غریب شخص صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے زندہ رہتا ہے ۔وہ گرمی، سردی، بارش اور مشکلات کی پروا کیے بغیر محنت کرتا ہے تاکہ اس کے بچوں کا مستقبل اس سے بہتر ہو، اس کی زندگی قربانی، صبر اور جدوجہد کی ایک ایسی داستان ہے جو اکثر حکومتی رپورٹوں اور اعداد و شمار میں نظر نہیں آتی۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ اس کے کمزور طبقات کا معیارِ زندگی ہوتا ہے ۔اگر غریب آدمی کو باعزت روزگار، معیاری تعلیم، سستا علاج اور بنیادی سہولتیں میسر آ جائیں تو نہ صرف اس کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ پورا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ غربت کسی فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی چیلنج ہے جس کے حل کے لیے ریاست، معاشرہ اور صاحبِ حیثیت طبقے کو مل کر
کردار ادا کرنا ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں رہا، بلکہ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بل، تعلیم اور علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے متوسط
طبقے کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں رہی جو سرکاری طور پر غریب شمار ہوتے ہیں بلکہ وہ خاندان بھی مشکلات کا شکار ہیں جو بمشکل اپنے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔غربت کے اثرات صرف معاشی نہیں ہوتے بلکہ اس کے گہرے سماجی اور نفسیاتی نتائج بھی سامنے آتے ہیں جب ایک باپ اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکے جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار حاصل نہ کر سکیں اور جب گھر کے اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ ہو جائیں تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی بعض اوقات ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور انتہائی صورتوں میں خودکشیوں کا سبب بنتی ہے ۔گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی مسائل سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات میں اضافے کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں ۔اگرچہ ہر خودکشی کے پیچھے ایک ہی وجہ نہیں ہوتی، لیکن غربت، بے روزگاری اور مالی پریشانی اہم عوامل میں شامل ہیں ۔ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ایسے حالات سے بچانے کے لیے مؤثر سماجی تحفظ فراہم کرے ۔غربت کا ایک اور خطرناک پہلو جرائم میں اضافہ ہے جب نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع محدود ہوں اور معاشی مشکلات بڑھتی جائیں تو بعض لوگ غلط راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دیگر جرائم کے پیچھے اکثر معاشی محرومیاں بھی کارفرما ہوتی ہیں ۔یقینا ہر غریب شخص مجرم نہیں بنتا لیکن غربت جرائم کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ اصل مسئلہ صرف غربت کی شرح جاننا نہیں بلکہ اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے ۔اگر اعداد و شمار حقیقت کے مطابق ہوں تو پالیسی سازی بہتر ہو سکتی ہے لیکن اگر غربت کی لکیر اتنی کم مقرر کر دی جائے کہ ہزاروں روپے کمانے والا شخص بھی کاغذوں میں خوشحال نظر آئے تو پھر مسائل کی حقیقی تصویر سامنے نہیں آ پاتی۔ عوام کو اعداد و شمار سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی کی مشکلات نظر آتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، صنعت و تجارت کو فروغ دیا جائے، تعلیم اور ہنر مندی کے پروگراموں کو وسعت دی جائے اور کم آمدن والے طبقات کے لیے مؤثر سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا جائے۔ غربت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، سماجی استحکام اور انسانی وقار کا مسئلہ بھی ہے ۔جب تک عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری نہیں آتی ،غربت کے بارے میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار محض اعداد ہی رہیں گے۔ قومیں صرف رپورٹوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے معیارِ زندگی سے ترقی یافتہ کہلاتی ہیں اور پاکستان کی حقیقی ترقی کا پیمانہ بھی یہی ہونا چاہیے۔