وجود

... loading ...

وجود

مودی کی عالمی سطح پر سبکی

جمعه 22 مئی 2026 مودی کی عالمی سطح پر سبکی

ریاض احمدچودھری

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو یورپ کے دورے کے دوران خالصتان کے حامیوں کی طرف سے شدید احتجاج کا سامنا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ان کے ہالینڈ کے دورے کوبڑھاچڑھا کر پیش کیاگیا جس کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔ خالصتان ریفرنڈم کے کارکنوں نے مودی اور اقلیتوں بالخصوص سکھوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی پالیسیوں کے خلاف سویڈن کے شہر گوتھنبرگ اور ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور پرمجیت سنگھ پما سمیت بیرون ملک سکھ کارکنوں کے خلاف سازشوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین 16 اور 17 مئی کی درمیانی شب گوٹھنبرگ میں ہوٹل گوتھیا ٹاورز کے باہر جمع ہوئے، مودی کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی حکومت پر ظلم و جبر اور ہراسانی کا الزام لگایا۔ مظاہرین نے بھارتی پنجاب میں سکھ کسانوں کی حالت زارکو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیاں مقامی کمیونٹیز کی قیمت پر کارپوریٹ گروپوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔اسی طرح کے مظاہرے دی ہیگ میں بھی ہوئے جہاں خالصتان کے حامیوں نے خالصتان کے حق میں اور بھارتی ریاستی جبر کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مختلف ملکوں میں سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے اور اختلاف رائے کو دبانے پر نئی دہلی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ناروے میں مقیم سکھ برادری کے ارکان اورخالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ناروے کے موقع پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارت کے انسانی حقوق کے سیاہ ریکارڈ اور جبر کو نہایت موثر انداز میں بین لاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔وسلو کے سٹی ہال کے باہر، جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کرنا تھی، سینکڑوں مظاہرین نے خالصتان کے جھنڈے لہرائے اور ہندوتوا کے نظریے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے بھارت کے حقیقی چہرے کو بے نقا ب کیا۔مظاہرین نے مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ایک منظم مہم چلانے ، خاص طور پر غیر ملکی سرزمین پر دھمکیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے ذریعے خالصتان کی حامی آوازوں کو نشانہ بنانے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مذمت کی۔مظاہرین نے دوطرفہ سربراہی اجلاس کے موقع پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی جابرانہ اور طاقت کے استعمال کی پالیسیوں کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے ناروے کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم کو ملک کا سب سے بڑا اعزازگرینڈ کراس آف دی رائل نارویجن آرڈر آف میرٹ دینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ مودی کی حکومت پر “بین الاقوامی جبر” کا الزام لگایا جا رہا ہے۔مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ایوارڈز اور تجارتی معاہدیبھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید اور تشویش کو ختم نہیں کر سکتے۔اس موقع پر مظاہرین کی طرف سے بھارتی پرچم کو پھاڑنے اور خالصتان کا جھنڈا لہرانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جس سے اس پیغام کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت کی جانب سے اسے سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں کے باوجود پنجاب کی آزادی کی تحریک عالمی سطح پر گونج رہی ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا اہتمام سکھس فار جسٹس (SFJ) نے نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم ریلیوں کے پس منظر میں کیا گیا تھا۔
سکھس فار جسٹس کے رہنمائوں نے کہا کہ ان ریلیوں کا اہتمام مودی کے نارڈک سمٹ کے دورے کے دوران ان کا مقابلہ کرنے اور پنجاب کے “معاشی قتل ” کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت کی معاشی پالیسیوں نے پنجاب کی زرعی معیشت کو منظم طریقے سے تباہ کر دیا ہے، آبی وسائل کا رخ موڑ دیا ہے اور ہزاروں سکھ کسانوں کو خودکشی پر مجبور کیا ہے یہ ایک ایسا عمل جسے سکھ اپنے خلاف “معاشی جنگ”تصور کرتے ہیں۔سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسلر گروپتونت سنگھ پنوں نے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے یورپی جمہوریتوں کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی میزبانی کی مذمت کی۔ یورپی اور نورڈک جمہوریتیں اعتماد، امن، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہیں۔ ایک ایسی حکومت کے ساتھ شراکت داری جس پر عالمی سطح پر بین الاقوامی جبر اور خودمختار غیر ملکی سرزمین پر قتل کی سازشوں کا الزام لگایا گیا ہے، ان اقدار کے خلاف ہے جن کا یہ ممالک دفاع کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔گروپتونت سنگھ پنوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خالصتان ریفرنڈم ریلیاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ نریندر مودی یورپ میں جہاں بھی جائیں احتساب کے سوالات ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ مودی کے ہالینڈ کے دورے کو بھارتی میڈیا نے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر پیش کیا لیکن حقیقت میں علامتی اعلانات اور معمول کے معاہدوں سے ہٹ کرکوئی بڑی پیش کش نہیں کی گئی۔ نام نہاد اسٹرٹیجک پارٹنرشپ اور 2026ـ2030 کے روڈ میپ میں تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں موجودہ تعاون کا اعادہ کیاگیا ہے۔ دورے کے دوران سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور گرین ہائیڈروجن سے متعلق سودے سمیت جن 17 معاہدوں کا اعلان کیا گیا، وہ ٹھوس معاہدوں کے بجائے محض عزم کا اظہار ہے۔ بھارت خود انحصاری کے دعوؤں کے باوجود غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مہارت پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا۔نئی دہلی ٹیکنالوجی، توانائی اور تجارت کے شعبوں میں وسیع تعاون کے ذریعے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی کوشش میں تیزی سے یورپی یونین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یورپ میں مظاہرے مودی حکومت کی پالیسیوں خاص طور پر اقلیتوں، کسانوں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید جبکہ بیرون ملک بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
اسرائیل کی مکروہ چال وجود جمعه 22 مئی 2026
اسرائیل کی مکروہ چال

مودی کی عالمی سطح پر سبکی وجود جمعه 22 مئی 2026
مودی کی عالمی سطح پر سبکی

خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر