... loading ...
حمیداللہ بھٹی
جنوبی ایشیاکا آبادی ،جغرافیے،معدنیات اور علم وادب کے حوالے سے دنیا میں منفرد مقام ہے لیکن ماہ مئی کے حوالے سے دیکھیں تو بھارت ایسی فلمیں بناتاہے جس میں آخر کارپاکستانی فوج کو شکست ہوتی ہے جبکہ پاکستانی فوج میدانِ جنگ میں بھارتی فوج کی دُرگت بنا کر اپنی طاقت کا لوہا منواتی ہے۔ اب ماہ مئی آیا ہے تو بھارتی فوج کواپنی ہزیمت یاد آنے پرپھر بلبلانے لگی ہے۔ بھارت کے عسکری سربراہ کے بیان سے بھارتی دردصاف معلوم ہوتاہے ،ایسے دردکی تشخیص سے لیکر موثردواپاکستانی فوج کے پاس وافرہے جس کی ایک ڈوز کا اثر پورا سال رہابظاہر لگتاہے کہ بھارت دوا کی ایک اور ڈوزچاہتاہے۔
فلم اور حقائق میں فرق ہوتا ہے۔ بھارتی فوج کی طرح بھارتی صحافی اور عوام بھی فلموں سے متاثر ہیں ۔2025میں جب بھارتی ذرائع ابلاغ نے ایسی خبریں نشرکرنا شروع کیں کہ اُن کی فوج نہ صرف اسلام آباد میں داخل ہو گئی ہے بلکہ لاہور کی بندرگاہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے تو لاہوریئے جو سدا کے خوش مزاج ہیں اور ہر بات میں مزاح کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں، ایسی خبریںسن کرکچھ غم وغصہ کا شکار لگے کہ ہماری نسلیں لاہور سے ہیں لیکن حکومت نے کبھی معلوم ہی نہیں ہونے دیا کہ یہاں کوئی سمندرہے جس پر بندرگاہ بھی ہے۔ قصہ مختصر لاہوریوں نے اپنے شہر کو کھنگالنے اور بندرگاہ تلاش کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ مگر بھارتی فوج ،عوام اور صحافیوں نے دنیا کو باور کرانے کی پوری کوشش کی کہ لاہورمیں سمندربھی ہے اور بندرگاہ بھی ، جو دونوں بھارت کے قبضے میں ہیں۔ یہ دانش ہے یا حماقت ؟فیصلہ کرنے کا اختیار قارئین کو دیتے ہیں۔
مثل مشہور ہے کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو جنگل سے نکل کر شہر کا رُخ کرتا ہے اور سانپ کی موت آتی ہے تو راستے میں آبیٹھتا ہے۔ بھارت کابھی اچھا بھلا دنیا میں مقام تھا۔ مضبوط معیشت اور پچاس کروڑ پر مشتمل مڈل کلاس کی مارکیٹ دنیا کے لیے پُرکشش تھی۔ تیجس لڑاکا طیارے اور براہموس میزائل سے دفاعی صنعت بھی اہم ہوگئی تھی ۔مزید یہ کہ امریکہ سے جوہری اور دفاعی تعاون کے سمجھوتوں سے عیاں ہوگیا کہ وہ اب خطے کی بالا دست طاقت ہے ۔میزائل کلب کی رُکنیت الگ ایسا انعام تھا جس کا مطلب امریکہ کا وہی خطے میں معتمد خاص ہے اور کوئی نہیں۔ مگر عقل و فہم نہ ہو تو کامیابیاں بھی حماقتیں ہونے لگتی ہیں، یہی کچھ بھارت کے ساتھ ہوا جس نے چین کا مقابل ہونے اور دیگر ہمسایہ ممالک کو زیرِ نگیں رکھنے کی بڑھکیں لگائیں تو پاکستان نے اپنی آزادی وخود مختاری پر سمجھوتہ کرنے اور خطے میں کسی ملک کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی بات کی جوبھارت کو ناگوار گزرتی۔ اسی لیے پاکستان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا لیکن ایسا کوئی جواز نہیں تھا کہ پاکستان پر حملہ کیاجا سکے۔
22اپریل 2025کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حکومتی خواہش پر ایک ایسی کاروائی کی گئی جس میں 28شہری جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی کوہلاک کر دیا گیا جسے بھارت نے طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کاحملہ کہنا شروع کردیا اور پاکستان کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کو ٹھکراکربدلہ لینے کا فیصلہ کیا ۔سات مئی کو آپریشن سندورکے نام سے پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی شروع کردی گئی میزائل اور ڈرونزسے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے رہائشی علاقوں پر حملے کیے جس کا پاکستان نے ایسا منہ توڑ جواب دیاکہ بھارتی تکبر،تعصب اور تنگ نظری کا خاتمہ ہوگیا نہ صرف بھارت کافخر رافیل جیسے طیارے گرادیے بلکہ شہری علاقوں پر حملوں کے جواب میں بھارت کادفاعی نظام ایس 400 سمیت کئی عسکری مراکز کو بھی ملیا میٹ کردیا۔ اٹھاسی گھنٹوں کی اِس لڑائی سے بھارتی بھرم کی حقیقت دنیا کے سامنے واضح ہو گئی اور سب نے جان لیا کہ پاکستان عسکری حوالے سے بھارت سے طاقتور ہے اور کسی بھی وقت کہیں بھی ایسے حیران کُن نتائج دے سکتا ہے جس سے خطے کا جغرافیہ بدل سکتا ہے۔ بڑھتی کشیدگی پر بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکرنے جوہری ٹکرائو کا واویلا شروع کردیااور امریکی وزیرِ خارجہ مارکوروبیو سے التجا کی کہ پاکستانی فوج کو فائر بندی پر آمادہ کریں جنھوں نے صدر ٹرمپ کو نیند سے جگا کر بھارتی التجا سے آگاہ کیا۔اِس طرح یقینی جوہری ٹکرائو کاخطرہ ختم ہوا۔وگرنہ بھارتی حماقت سے شاید خطے میں کروڑوں معصوم لوگ لقمۂ اجل بن جاتے۔
ماہ مئی میںپاکستان نے اہم عسکری کامیابیاں حاصل کیں جس کی کوکھ سے سفارتی کامیابیوں نے جنم لیا۔ آج پاکستان کی ثالثی پر دنیا اعتماد کرتی ہے مگر بھارت خود کو ماں اور اسرائیل کو باپ کہہ کر بھی یک وتنہا ہے۔ صدرٹرمپ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی فہم وفراست کے معترف ہیں ۔اپنے ہر بیان میں بھارتی طیاروں کی گرنے کی تعداد میں اضافہ کرکے اُسے مزید چڑاتے ہیں۔ امریکہ اور ایران جیسے حریف ممالک اسلام آباد میں مذاکرات کرتے ہیں اور مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے باوجود اب بھی دونوںپاکستانی ثالثی پر اعتماد کرتے ہیں لیکن بھارت کی حالت یہ ہے کہ نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ تک جاری نہیں ہوپاتا۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندردویدی نے مانک شا سینٹر میں، سینا سمواد،کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان کے خلاف سخت بیان دیا ہے جس میں کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور بھارت کے خلاف کاروائیاں جاری رکھیں تو اُسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ جغرافیہ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔ویسے بھارت میں شراب نوشی عام ہے مگریہ معلوم نہیں تھا کہ اہم عہدوں پر براجمان لوگ بھی اِتنا سستا نشہ کرتے ہیں کہ حقائق تک بھول جاتے ہیں۔کیابھارتی فوج کے سربراہ کو معلوم نہیںکہ بھارت کی تقسیم سے پاکستان نے جنم لیا اور نئے جغرافیے کی بنیاد رکھی جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو اقوامِ متحدہ کے اِدارے انسداد دہشت گردی کی سربراہی پاکستان کے پاس ہے لہٰذا بھارت کے واویلے کو بھلا کون اہمیت دے گا ؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارتی فوج کے سربراہ کے اشتعال انگیز بیان پر شدید ردِ عمل آیاجس میں انھوں نے جوہری ہمسایہ کو جغرافیہ سے مٹانے کی دھمکی کو ذہنی دیوالیہ پن اورجنگی جنون قراردیا ہے ۔ایک جوہری ملک سے تعلقات بہتر رکھنا دانشمندی ہے لیکن بھارت کو اگر کوئی وہم ہے تو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹکرائو کی صورت میں جغرافیے سے ایک جوہری ملک نہیں دونوں متاثر ہوں گے۔ اگر بھارتی جنرل ہوش میںہوتاتو گزشتہ برس مئی کے لگے زخم نہ بھولتا، لیکن بُراہو نشے کی لت کا کہ جنرل تک ہوش و حواس کھوبیٹھتے ہیں لیکن بھارت کی جنونی قیات کو دیکھتے ہیں جو ملک سے مسلمانوں ، سکھوں ، عیسائیوں اور دلتوں کوختم کرنے کاعزم رکھتی ہے توبھارتی جنرل کی ذہنی پس ماندگی و پراگندگی اچنبھے کی بات نہیں لگتی اور وہ بھی جنونی درجے پر فائز معلوم ہوتا ہے، جسے دانش نہیں حماقت ہی کہہ سکتے ہیں۔