وجود

... loading ...

وجود

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

جمعرات 21 مئی 2026 کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

ریاض احمدچودھری

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عید سے قبل کشمیری نظربندوں کو رہا کرے جو علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کاپہلا حقیقی قدم ہوگا۔ دہلی کو کشمیریوں کی آواز سننی چاہیے اور سیاسی لائحہ عمل کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ بھارت جھوٹے مقدمات میں مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ نظر بند رہنمائوں ، کارکنوں کو ناجائز بھارتی کو چیلنج کرنے کی پاداش میں نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ ان کشمیری سیاسی کارکنوں کو من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے تاکہ اختلاف رائے کو خاموش کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت قید حریت رہنماں اور دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہی ہے۔ بیانات میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت حریت رہنماں اور کارکنوں کو نظربند کرنے اور ان کی آواز خاموش کرانے کیلئے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کاالے قوانین کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ کشمیری سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد ان کے حوصلے توڑنا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو شکست دینا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا نوٹس لیں اور تمام غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری رہنماں اور کارکنوں کی فوری رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔ہم مذاکرات اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اوروقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، صرف ترقی سیاسی مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ وادی کشمیرمیں خاموشی ،خوف کا ماحول اورنفرت فوری طور پر ختم ہونی چاہیے،عید سے پہلے قیدیوں کو رہا کرنے سے کشمیر ی عوام کومفاہمت اور مرہم کا مضبوط پیغام جائے گا۔انہوں نے نئی تقسیم پیدا کرنے کے بجائے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت اور سفر کے لئے کشمیر کے تمام راستے کھولنے پر زور دیا۔ہمارا روڈ میپ تمام پڑوسیوں کے ساتھ کشمیر کے دروازے کھولنا ہے، ہم تجارت اور سفر کی آزادی چاہتے ہیں، دیرپا امن کے لیے وسیع تر رابطہ اور عوام سے عوام کا رابطہ ضروری ہے۔ امن اور بات چیت ہی کشمیر اور جنوبی ایشیا کے لیے آگے بڑھنے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔
محبوبہ مفتی نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی بھرپور وکالت کی اور جموں و کشمیر کے عوام سے رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ”زخموں پر مرہم رکھا جائے” اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔ پاکستان سے بات چیت کرنا ایک بہت اچھی بات ہے۔ سری نگر کو جوڑنے والے راستے دوبارہ کھولے جانے چاہئیں اور مفاہمت کا عمل دوبارہ جموں و کشمیر سے شروع ہونا چاہیے۔ امن اور استحکام صرف مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ہم کسی سازش کی بات نہیں کر رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کشمیر اور اْس کشمیر (پی او کے) کے درمیان راستے کھلیں اور وسطی ایشیا کی جانب بھی رسائی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)، پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اگر حالات بہتر ہوئے ہیں تو حکومت کو ”عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے”۔ مودی کے پاس جموں و کشمیر مسئلے کے دیرپا حل کی شروعات کرنے کی سیاسی طاقت موجود ہے۔اگر مودی جی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے پاس جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور یہاں کے لوگوں کے زخم بھرنے کا سنہری موقع ہے۔ کشمیریوں کا قتل عام بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے غیر انسانی چہرے کا عکاس ہے۔ قابض بھارتی افواج کشمیری حریت پسندوں کے عزائم سے ہار چکی ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کا بہتا خون ناحق عالمی ضمیر کے لئے چیلنج ہے۔ مظلوم کشمیری سوال پوچھ رہے ہیں کہ عالمی برادری بھارتی مظالم پر خاموش کیوں ہے؟ جموں کشمیر کے لوگ پچھلی سات دہائیوں سے اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بیش بہا جانی اور مالی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جموں کشمیر کی آبادی کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ کرفیو کے نفاذ،لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی، جبکہ تمام حریت رہنماؤں کی گھروں اور تھانوں میں نظر بندی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم اور ڈھانے کی پالیسی ترک کردے۔ بھارت چاہے طاقت کا کتنا ہی استعمال کیوں نہ کر لے وہ کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب ہیں ہوگا۔ کشمیری جد وجہد آزادی اور شہدا کی قربانیوں کے ساتھ اپنی گہری وابستگی عملی طور پر ثابت کر رہے ہیں ۔جموں و کشمیر دنیا میں سب سے بڑا فوجی جماؤ والا خطہ ہے اور یہاں پر بھارتی فوج کی 16مشق گاہیں موجود ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

ایک زندگی اورچاہیے !! وجود جمعرات 21 مئی 2026
ایک زندگی اورچاہیے !!

پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری وجود بدھ 20 مئی 2026
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر