... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
پاکستان ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں لوگ بڑی کامیابیوں سے پہلے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ترسنے لگے ہیں۔ یہ صرف معاشی بحران
نہیں؛ یہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی بحران بھی ہے۔ یہاں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اب کوئی عالی شان خواب
نہیں رہی بلکہ صرف اتنی رہ گئی ہے کہ بجلی کا بل وقت پر بھر سکیں، بچوں کی فیس ادا کر سکیں، مہینے میں ایک بار اہلِ خانہ کو کسی بازار یا پارک لے جا سکیں،
بیمار ماں کی دوائی خرید سکیں، یا رات کو بغیر خوف اور ذلت کے سکون سے سو سکیں۔ مگر جب ایک سماج مسلسل اپنی بنیادی اور چھوٹی خواہشوں سے محروم
رہنے لگے تو اس کے اندر صرف غربت نہیں بڑھتی، اس کے اندر نفسیاتی بربادی، سماجی تلخی اور روحانی شکست بھی پیدا ہونے لگتی ہے۔
پاکستانی سماج کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ یہاں انسان مسلسل”Survival Mode”میں زندہ ہے۔ نفسیات میں Survival Modeاُس حالت کو کہتے ہیں جب انسان کی پوری ذہنی توانائی صرف زندہ رہنے میں خرچ ہو جائے۔ ایسے انسان کے اندر تخلیق، خوبصورتی، محبت، برداشت اور امید آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ماہرِ نفسیات Erich Frommنے لکھا تھا کہ جب ایک سماج انسان کو اس کی بنیادی انسانی
خواہشات سے محروم کر دیتا ہے تو وہ سماج بیمار ہو جاتا ہے، اور بیمار سماج بیمار انسان پیدا کرتا ہے۔ پاکستان اسی نفسیاتی بیماری کی اجتماعی شکل بنتا جا رہا
ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لینے کے بعد بھی بے یقینی میں جیتا ہے۔ مزدور سارا دن کام کے باوجود عزت سے زندہ نہیں رہ پاتا۔ متوسط طبقہ مسلسل
نیچے گر رہا ہے۔ اور غریب آدمی تو اب صرف زندہ رہنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔
پاکستانی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ یہاں طاقتور طبقات نے ہمیشہ عوام سے صرف قربانی مانگی۔ اس ریاست نے اپنے شہریوں کو مسلسل خوف، عدم
تحفظ، سیاسی انتشار، معاشی بحران اور سماجی بے یقینی کے ماحول میں رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی انسان کے اندر اجتماعی Anxiety جنم لینے لگی۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں لاکھوں لوگ بظاہر زندہ ہیں مگر اندر سے ذہنی تھکن، محرومی اور خاموش Depression کا شکار ہیں۔پاکستان میں چھوٹی
خواہشوں کی محرومی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اب یہ ایک نفسیاتی المیہ بن چکی ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچے کی معمولی خواہش پوری نہیں کر پاتا،
وہ صرف مالی شکست محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر احساسِ ناکامی جنم لیتا ہے۔ ایک نوجوان جو برسوں تعلیم کے بعد بھی باعزت روزگار نہ پا سکے، وہ
صرف بے روزگار نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ امید کھونے لگتا ہے۔ ایک عورت جو مسلسل گھریلو دباؤ، مہنگائی اور سماجی جبر میں زندگی گزارتی ہے، اس
کے اندر خاموش ذہنی تھکن پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہی خاموش ذہنی ٹوٹ پھوٹ بعد میں Anxiety، Depression، Hypertension
اور نفسیاتی بیماریوں کی شکل اختیار کرتی ہے۔عظیم ماہرِ نفسیات Viktor Frankl نے کہا تھا:”انسان ہر تکلیف برداشت کر سکتا ہے، اگر اسے اپنی
زندگی میں کوئی معنی نظر آ جائے۔”پاکستانی سماج کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کروڑوں لوگوں کو اب اپنی زندگی کے معنی دھندلے محسوس ہونے لگے ہیں۔
کیونکہ جب ریاست صرف بحران پیدا کرے، سیاست صرف نفرت پیدا کرے، اور معیشت صرف محرومی پیدا کرے، تو انسان کے اندر زندگی کی
معنویت کمزور ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ یا تو مذہبی شدت میں پناہ ڈھونڈتے ہیں، یا نفرت میں، یا سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں، یا
پھر مکمل خاموشی میں۔پاکستانی تاریخ میں بار بار سیاسی عدم استحکام، آمریت، کرپشن، جاگیرداری، طبقاتی تقسیم، اور ادارہ جاتی ناانصافی نے عوام
کے اندر اجتماعی بے بسی پیدا کی۔ یہی بے بسی اب نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں لوگ مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔ بچے دباؤ میں بڑے
ہو رہے ہیں۔ نوجوان مایوسی میں جوان ہو رہے ہیں۔ اور بوڑھے حسرتوں کے ساتھ مر رہے ہیںFyodor Dostoevsky نے لکھا تھا:”غربت صرف پیسوں کی کمی نہیں، بلکہ انسانی وقار کی توہین بھی ہے”۔پاکستان میں یہی سب سے بڑا سانحہ ہے۔ یہاں انسان صرف غریب
نہیں ہوا، بلکہ آہستہ آہستہ اپنے وقار، امید اور ذہنی سکون سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔ اور جب ایک قوم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہو
جائے تو پھر وہ صرف معاشی بحران کا شکار نہیں رہتی، وہ ایک زخمی نفسیاتی قوم بن جاتی ہے، جس کے چہروں پر زندگی ہوتی ہے مگر روحوں کے اندر
مسلسل اندھیرا بڑھتا رہتا ہے۔
انسان صرف روٹی، کپڑا اور مکان سے نہیں جیتا؛ وہ امید، خواہش، تعلق، عزت، چھوٹی خوشیوں اور روزمرہ کے معمولی سکون سے بھی زندہ رہتا
ہے۔ جب ایک انسان مسلسل اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری نہ کر پائے تو یہ محرومیاں آہستہ آہستہ صرف جذباتی مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ انسانی
دماغ، اعصاب اور جسم پر گہرے نفسیاتی اور طبی اثرات چھوڑنے لگتی ہیں۔نفسیات میں اس کیفیت کو صرف ”اداسی”نہیں سمجھا جاتا۔ مسلسل محرومی
انسان کے اندر”Chronic Frustration”یعنی دائمی ناکامی اور بے بسی پیدا کرتی ہے۔ دماغ جب بار بار یہ محسوس کرتا ہے کہ ”میں چاہ کر
بھی کچھ حاصل نہیں کر سکتا”، تو اس کے اندر امید کے مراکز کمزور ہونے لگتے ہیں۔عظیم ماہرِ نفسیات Sigmund Freud نے کہا تھا کہ انسان
کی دبی ہوئی خواہشات صرف غائب نہیں ہوتیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں واپس آتی ہیں۔ کبھی غصے کی صورت میں، کبھی خوف کی صورت میں، کبھی ذہنی
بیماری کی صورت میں۔ جب انسان اپنی بنیادی جذباتی خواہشات کو مسلسل دباتا ہے تو دماغ کے اندر Cortisolجیسے Stress Hormones بڑھنے لگتے ہیں۔ یہ وہی کیمیکل ہیں جو جسم کو مسلسل خطرے کی حالت میں رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ہر وقت تھکا ہوا،
بوجھل اور بے چین محسوس کرتا ہے۔میڈیکل سائنس کے مطابق مسلسل ذہنی محرومی کئی جسمانی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے افراد میں نیند کی
خرابی عام ہو جاتی ہے۔ یا تو انسان بہت زیادہ سوتا ہے یا پھر رات بھر جاگتا رہتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز رہتی ہے، معدے کے مسائل پیدا ہوتے
ہیں، بھوک کم یا زیادہ ہو جاتی ہے، بلڈ پریشر بڑھنے لگتا ہے، اور جسم مسلسل تھکن محسوس کرتا ہے۔ جدید نیوروسائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ مستقل ذہنی دباؤ
دماغ کے اُن حصوں کو متاثر کرتا ہے جو فیصلہ سازی، جذباتی توازن اور امید سے تعلق رکھتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات Carl Jung کے مطابق انسان کے اندر اگر خواہشات، جذبات اور خواب دفن ہوتے رہیں تو انسان آہستہ آہستہ اپنے اصل
وجود سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ زندہ تو رہتا ہے مگر اندر سے ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر اندر شدید
ذہنی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔مسلسل محرومی انسان کے رویّے کو بھی بدل دیتی ہے۔ کچھ لوگ غصہ ور ہو جاتے ہیں، کچھ خاموش، کچھ سماج سے کٹ
جاتے ہیں، کچھ طنزیہ مزاج اختیار کر لیتے ہیں، اور کچھ اپنے اندر اتنی نفرت بھر لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی خوشیاں بھی تکلیف دینے لگتی ہیں۔ یہ
صرف اخلاقی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ ایک نفسیاتی ردِعمل ہوتا ہے۔ جب انسان بار بار محرومی جھیلتا ہے تو اس کے اندر Reward System
کمزور ہونے لگتا ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو پہلے خوشی دیتی تھیں، اب خوشی نہیں دیتیں۔ یہی کیفیت Depression کی بنیاد بنتی ہے۔ Abraham Maslow نے انسانی ضروریات کے نظریے میں بتایا تھا کہ انسان صرف جسمانی بقا نہیں چاہتا بلکہ عزت، محبت، قبولیت اور اپنی
خواہشات کی تکمیل بھی چاہتا ہے۔ اگر یہ چیزیں مسلسل نہ ملیں تو انسان کے اندر”Existential Vacuum”پیدا ہو جاتا ہے، یعنی زندگی بے
معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ غریب، استحصالی یا دبے ہوئے معاشروں میں صرف معاشی مسائل نہیں بڑھتے بلکہ ذہنی بیماریوں کی شرح
بھی بڑھتی ہے۔عظیم روسی ادیب Fyodor Dostoevsky نے لکھا تھا:”انسان صرف خوشی سے نہیں مرتا، وہ امید ختم ہونے سے مرتا
ہے”۔یہ جملہ انسانی نفسیات کی سب سے تلخ حقیقت بیان کرتا ہے۔ انسان بڑے صدموں سے کبھی کبھی بچ جاتا ہے، مگر چھوٹی چھوٹی محرومیاں اگر
روز اس کی روح کو کاٹتی رہیں تو وہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ زندگی اکثر بڑی تباہیوں سے نہیں، چھوٹی چھوٹی اداسیوں کے مسلسل جمع
ہونے سے ٹوٹتی ہے۔
٭٭٭