وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

اتوار 17 مئی 2026 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ میں بھارتی قابض انتظامیہ نے ایک اورکشمیری کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے بھارتی پولیس نے ضلع کے علاقے سوپور کی نیو کالونی کے رہائشی ماجد احمد صوفی کی ضلع بانڈی پورہ کے علاقے کہنوسا میں واقع 10 مرلہ اراضی ضبط کی ہے۔کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کی گئی جائیداد کی مالیت تقریبا 20 لاکھ روپے ہے۔ماجد احمد صوفی نے بھارتی مظالم سے تنگ آکرمجبوراآزاد جموں وکشمیر ہجرت کی تھی اور وہ اس وقت وہاں ہی مقیم ہے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کی املاک کی ضبطی اور ملازمتوں سے جبری بر طرفی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات کامقصد نہ صرف کشمیریوں کو معاشی طورپر مفلوج بنانا ہے بلکہ یہ املاک غیر کشمیریوں کو الاٹ کرنے کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بھی بگاڑنا ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ کے عوام دشمن اقدامات سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔املاک کی تازہ ترین ضبطی کے واقعات کشمیریوں کے خلاف بڑے پرجاری کریک ڈان کا حصہ ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اور تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں اور بدنام زمانہ ایجنسیوں نے گزشتہ 31روز کے دوران محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران کئی خواتین سمیت 700 کشمیریوں کو گرفتار کیا ہے۔ قابض بھارتی فورسز اور ایجنسیاں نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے احکامات پر علاقے میں بڑے پیمانے پر چھاپوں اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے۔علاقے میںجاری انسداد منشیات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں کا مقصد آزادی پسند کشمیریوں کو دہشت زدہ کرنا ، انہیں گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک سے محروم کر کے اپنے ہی وطن میں اجنبی ٰ اور مفلوک الحال بنانا ہے۔ اس نام نہاد مہم کی آڑ میں انتظامیہ اب تک کشمیریوں کی بیسیوں املاک ضبط اور منہدم کر چکی ہے۔اس مہم کے تحت دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مقبوضہ علاقے منیشات کا گڑھ بن چکا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے تحت شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کو علاقے میں خود فروغ دے رہی ہے۔
جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ منشیات کے اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے لیکن بے گناہ خاندانوں کو ان کے گھر گرا کر ہراساں نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے تو اسے جیل میں ڈال دینا چاہیئے لیکن آپ کو ان پولیس والوں سے بھی پوچھنا چاہیئے جو ان سے پیسے لیتے ہیں اور انہیں جانے دیتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے گھر کیوں گرائے جا رہے ہیں، خاندانوں کا کیا قصور ہے، آپ ان کے گھر کیوں گرا رہے ہیں، یہاں انصاف نہیں ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ اگر عوام کو بلڈوزر بابا پسند ہوتے تو آپ کو ووٹ کیوں دیتی، لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا اور آپ کو یہ سوچ کر 50 ایم ایل اے دیے کہ آپ ان کی حفاظت کریں گے۔ کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں آج صبح منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی پیدل ریلی کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر نے الزام لگایا کہ سرکاری ملازمین، اسکول کے اساتذہ اور طلباء کو صبح 6:30 بجے تقریب میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں اس شخص کا نام ظاہر نہیں کروں گی جس نے مجھے کل آدھی رات کو پیغام بھیجا تھا۔ اس شخص نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اننت ناگ میں منشیات سے پاک مہم چلا رہے تھے، لیکن تمام عملے اور اسکول کے عملے کو جن میں خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں، کو صبح ساڑھے 6 بجے پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ محبوبہ مفتی نے کہا میں لیفٹیننٹ گورنر کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ مہم ایک اچھی پہل ہے لیکن میرے خیال میں انہیں انتظار کرانا ناانصافی ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ نے حکومت پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قابل نوجوانوں کو مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے جبکہ بھرتی کے عمل پر سیاسی تعصب کا غلبہ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
یہ کارکردگی ہے ؟ وجود اتوار 17 مئی 2026
یہ کارکردگی ہے ؟

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج وجود اتوار 17 مئی 2026
سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی وجود اتوار 17 مئی 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر