وجود

... loading ...

وجود

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

هفته 16 مئی 2026 زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

عطا محمد تبسم

ڈاکٹر خالد بتا رہے تھے ۔”پاکستان میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں
اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی بے یقینی، سوشل میڈیا کا دباؤ، خاندانی مسائل اور شہری زندگی نے انسانوں کو بے بس کر دیا
ہے۔ ملک میں تقریباً 3سے 4کروڑ افراد کسی نہ کسی درجے کے ذہنی یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 6
کروڑ تک بھی پہنچتی ہے ۔ ایک قومی سروے میں تقریباً 38فیصد پاکستانیوں میں ذہنی امراض یا نفسیاتی دباؤ کی علامات پائی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ سن کر میں اپنی پریشانی بھول گیا۔ اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
مجھے اندھی گونگی اور بہری ہیلن کیلر کے ان الفاظ پر حیرت ہوتی ہے کہ میں نے زندگی کو بہت حسین پایا”پچاس سالہ زندگی میں اس نے ایک ہی سبق سیکھا”۔خود اپنے سوا تمھیں کوئی بھی خوشی نہیں دے سکتا”۔زندگی ابتدا ہی سے سخت آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ بچپن
میں ایک بیماری کا شکار ہوئی اور بینائی اور سماعت دونوں سے محروم ہوگئی۔ وہ نہ دیکھ سکتی تھیں اور نہ سن سکتی تھیں، اس کی دنیا اندھیرے اور
خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس حالت میں وہ بولنے سے بھی محروم تھی۔ کیونکہ انسان بولنا سن کر سیکھتا ہے ۔ وہ اپنے جذبات اور ضروریات
دوسروں تک پہنچانے سے قاصر تھیں، وہ عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل نہیں کر سکتی تھی، نہ ہی دنیا کو سمجھنے کا کوئی واضح ذریعہ ان کے پاس
تھا۔پھر ان کی زندگی میں ایک استاد اینی سولین آئیں، جنہوں نے نہایت محنت اور صبر کے ساتھ انہیں الفاظ اور چیزوں کا تعلق سمجھانا شروع
کیا۔ لیکن یہ سیکھنے کا عمل بھی آسان نہیں تھا؛ ہر لفظ، ہر تصور، ایک نئی جدوجہد تھا۔ اس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ ایک مصنفہ، مقرر اور
سماجی کارکن بن کر دنیا کو یہ ثابت کیا کہ معذوری انسان کی صلاحیتوں کو محدود نہیں کر سکتی۔ ہمارے خیالات، تصورات، ہماری شخصیت کے
آئینہ دار ہیں۔
اگر محض خوشی اور مسرت کے جذبے سے کام کرنے اور صحت اور طاقت کے مثبت خیالات سوچنے سے ایک انسان کی زندگی بچ سکتی ہے تو
پھر میں اورآپ اپنی چھوٹی چھوٹی اداسیاں اور محرومی سے زندگی کیوں خراب کررہے ہیں۔ ہم کیوں اپنے آپ کو اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو
رنجیدہ اور غمگین بنائیں۔ جبکہ ہم ہنسی خوشی کام کرنے سے ہمیں مسرتیں تخلیق کر سکتے ہیں ۔جیمز لین ایلن کی کتاب ”انسان کیسے سوچتا ہے ”
میں وہ لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص دوسرے لوگوں اور چیزوں کے متعلق اپنے خیالات بدلتا ہے تو وہ دیکھے گا کہ دوسرے لوگوں اور چیزوں
کے رویے میں خود بخود تبدیلی پیدا ہو گئی ہے ۔ ایک انسان اپنے خیالات کو بلند کر کے آگے بڑھ سکتاہے ۔ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے ۔
کامیابی کی کشتی میں سوار ہو سکتا ہے تو وہ اس کی کوشش کیوں نہ کرے ۔ آئیے ہم اپنی خوشی کو پانے کے لیے اندرونی طور تیار ہو جائیں ۔ جی
ہاں ہمارے جسم کے اندر ہی سے تمام عوامل برامد ہوتے ہیں چاہیں تو خوش رہ سکتے ہیں چاہیں تو غم کو اوڑھ لیں۔ چاہیں تو رونا شروع کر دیں۔ چاہے تو ہنسنا شروع کر دیں۔
ایک انسان وہی کچھ ہے جو وہ سارا دن سوچتا ہے ۔اگر ہم خوشی اور مسرت کے خیالات سے سوچیں گے تہ ہم خوش رہیں گے ہمارے
خیالات افسردہ اور پرمژدہ ہوں تو ہم اداسی کے اندھیرے میں ڈوب جائیں گے ۔ بزدلانہ خیالات ہمیں بزدل اور ڈرپوک بنادیں گے۔ ناکامی کے بارے میں سوچیں گے تو کامیابی ہم سے روٹھ جائے گی۔اپنے آپ پر ترس کھائیں گے تو ہر ایک ہم سے جان چھڑائے گا۔
یقین مانیئے ، آپ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں۔ بلکہ آپ وہ ہیں جو آپ سوچتے ہیں۔ ہمارا ذہنی سکون اور آرام جو زندگی میں ہمیں ملتا ہے ۔ اس
کا انحصار ہمارے ذہنی رویہ پر ہے ۔ اگر آپ خوشی اور بشاشت سے محروم ہوچکے ہیں تو ہشاش بشاش ہوکر بیٹھ جائیں ۔ اور اس طرح کام
کریں گویا خوشی سے شرابور ہیں۔ چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ پیدا کریں۔کندھے سکیڑیئے ، خوب لمبا اور گہرا سانس نکالیے اور کوئی پسندیدہ
گیت گنگنائیے ۔ یہ فطرت کی ایک چھوٹی سی حقیقت ہے ، جو ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب برپا کرسکتی ہے ۔ زندگی کا یہ سبق یاد
رکھیں کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اگر حوصلہ اور رہنمائی میسر ہو تو انسان ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا وجود جمعه 15 مئی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا

25کروڑمال مویشی وجود جمعه 15 مئی 2026
25کروڑمال مویشی

ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی وجود جمعه 15 مئی 2026
ہندوستان۔۔بنگال کی روایتی سیاست کا انہدام اور مسلمانوں کی سیاسی کسمپرسی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر