... loading ...
عطا محمد تبسم
ڈاکٹر خالد بتا رہے تھے ۔”پاکستان میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں
اضافہ ہوا ہے ۔ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی بے یقینی، سوشل میڈیا کا دباؤ، خاندانی مسائل اور شہری زندگی نے انسانوں کو بے بس کر دیا
ہے۔ ملک میں تقریباً 3سے 4کروڑ افراد کسی نہ کسی درجے کے ذہنی یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 6
کروڑ تک بھی پہنچتی ہے ۔ ایک قومی سروے میں تقریباً 38فیصد پاکستانیوں میں ذہنی امراض یا نفسیاتی دباؤ کی علامات پائی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ سن کر میں اپنی پریشانی بھول گیا۔ اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
مجھے اندھی گونگی اور بہری ہیلن کیلر کے ان الفاظ پر حیرت ہوتی ہے کہ میں نے زندگی کو بہت حسین پایا”پچاس سالہ زندگی میں اس نے ایک ہی سبق سیکھا”۔خود اپنے سوا تمھیں کوئی بھی خوشی نہیں دے سکتا”۔زندگی ابتدا ہی سے سخت آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ بچپن
میں ایک بیماری کا شکار ہوئی اور بینائی اور سماعت دونوں سے محروم ہوگئی۔ وہ نہ دیکھ سکتی تھیں اور نہ سن سکتی تھیں، اس کی دنیا اندھیرے اور
خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس حالت میں وہ بولنے سے بھی محروم تھی۔ کیونکہ انسان بولنا سن کر سیکھتا ہے ۔ وہ اپنے جذبات اور ضروریات
دوسروں تک پہنچانے سے قاصر تھیں، وہ عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل نہیں کر سکتی تھی، نہ ہی دنیا کو سمجھنے کا کوئی واضح ذریعہ ان کے پاس
تھا۔پھر ان کی زندگی میں ایک استاد اینی سولین آئیں، جنہوں نے نہایت محنت اور صبر کے ساتھ انہیں الفاظ اور چیزوں کا تعلق سمجھانا شروع
کیا۔ لیکن یہ سیکھنے کا عمل بھی آسان نہیں تھا؛ ہر لفظ، ہر تصور، ایک نئی جدوجہد تھا۔ اس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ ایک مصنفہ، مقرر اور
سماجی کارکن بن کر دنیا کو یہ ثابت کیا کہ معذوری انسان کی صلاحیتوں کو محدود نہیں کر سکتی۔ ہمارے خیالات، تصورات، ہماری شخصیت کے
آئینہ دار ہیں۔
اگر محض خوشی اور مسرت کے جذبے سے کام کرنے اور صحت اور طاقت کے مثبت خیالات سوچنے سے ایک انسان کی زندگی بچ سکتی ہے تو
پھر میں اورآپ اپنی چھوٹی چھوٹی اداسیاں اور محرومی سے زندگی کیوں خراب کررہے ہیں۔ ہم کیوں اپنے آپ کو اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو
رنجیدہ اور غمگین بنائیں۔ جبکہ ہم ہنسی خوشی کام کرنے سے ہمیں مسرتیں تخلیق کر سکتے ہیں ۔جیمز لین ایلن کی کتاب ”انسان کیسے سوچتا ہے ”
میں وہ لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص دوسرے لوگوں اور چیزوں کے متعلق اپنے خیالات بدلتا ہے تو وہ دیکھے گا کہ دوسرے لوگوں اور چیزوں
کے رویے میں خود بخود تبدیلی پیدا ہو گئی ہے ۔ ایک انسان اپنے خیالات کو بلند کر کے آگے بڑھ سکتاہے ۔ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے ۔
کامیابی کی کشتی میں سوار ہو سکتا ہے تو وہ اس کی کوشش کیوں نہ کرے ۔ آئیے ہم اپنی خوشی کو پانے کے لیے اندرونی طور تیار ہو جائیں ۔ جی
ہاں ہمارے جسم کے اندر ہی سے تمام عوامل برامد ہوتے ہیں چاہیں تو خوش رہ سکتے ہیں چاہیں تو غم کو اوڑھ لیں۔ چاہیں تو رونا شروع کر دیں۔ چاہے تو ہنسنا شروع کر دیں۔
ایک انسان وہی کچھ ہے جو وہ سارا دن سوچتا ہے ۔اگر ہم خوشی اور مسرت کے خیالات سے سوچیں گے تہ ہم خوش رہیں گے ہمارے
خیالات افسردہ اور پرمژدہ ہوں تو ہم اداسی کے اندھیرے میں ڈوب جائیں گے ۔ بزدلانہ خیالات ہمیں بزدل اور ڈرپوک بنادیں گے۔ ناکامی کے بارے میں سوچیں گے تو کامیابی ہم سے روٹھ جائے گی۔اپنے آپ پر ترس کھائیں گے تو ہر ایک ہم سے جان چھڑائے گا۔
یقین مانیئے ، آپ وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں۔ بلکہ آپ وہ ہیں جو آپ سوچتے ہیں۔ ہمارا ذہنی سکون اور آرام جو زندگی میں ہمیں ملتا ہے ۔ اس
کا انحصار ہمارے ذہنی رویہ پر ہے ۔ اگر آپ خوشی اور بشاشت سے محروم ہوچکے ہیں تو ہشاش بشاش ہوکر بیٹھ جائیں ۔ اور اس طرح کام
کریں گویا خوشی سے شرابور ہیں۔ چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ پیدا کریں۔کندھے سکیڑیئے ، خوب لمبا اور گہرا سانس نکالیے اور کوئی پسندیدہ
گیت گنگنائیے ۔ یہ فطرت کی ایک چھوٹی سی حقیقت ہے ، جو ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں انقلاب برپا کرسکتی ہے ۔ زندگی کا یہ سبق یاد
رکھیں کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اگر حوصلہ اور رہنمائی میسر ہو تو انسان ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے ۔
٭٭٭