... loading ...
ریاض احمدچودھری
یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے لکسمبرگ اسکوائر پر سکھ کمیونٹی کی جانب سے ”خالصتان کو آزاد کرو ”کے عنوان سے ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سکھ سنگت آرگنائزیشن اور گردوارہ انتظامیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ فریڈم ریلی میں بیلجیئم سمیت یورپ بھر سے سکھ کمیونٹی کی سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے مودی حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور بھارتی جمہوریت کو جعلی قرار دیا۔مظاہرین کا کہناتھاکہ بھارت اب سکھوں کے حقِ خودارادیت کو مزید نہیں دبا سکتا۔ تحریکِ آزادی کی خاطر ہمارے بزرگوں نے تختہ دار کو چوما اور بے پناہ قربانیاں دیں، جنہیں رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امرتسر کے اکال تخت پر سکھ خالصتان کے اعلان کی 40ویں برسی بھرپور طریقے سے منائی جائے گی۔
سکھ فیڈریشن یوکے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق برسلز پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس بھی شیڈول کی گئی ہے،جس میں بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور ہندوتوا نظریے کے ذریعے اقلیتوں پر ظلم و ستم کو بے نقاب کیا جائے گا۔مظاہرین نے عالمی طاقتوں بشمول امریکہ، چین، برطانیہ اور جرمنی کے بدلتے ہوئے رویوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب دنیا بھارت کو غیر معتبر ملک تصور کرتی ہے۔ بھارت کے اندرجاری آزادی کی تحریکیں اسے کم از کم آٹھ مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیں گے اور خالصتان سمیت کئی نئی آزاد ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھریں گی۔سکھ رہنمائوں نے اس موقع پر پاکستانی عسکری قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے حقِ خودارادیت کی تحریک کی اخلاقی حمایت کریں۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس میں خالصتان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی۔
تحریک خالصتان ایک سکھ علیحدگی پسند تحریک ہے جو ایک خودمختار ریاست کے نام سے ، سکھ کے لئے ایک سرزمین بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مجوزہ ریاست اس زمین پر مشتمل ہوگی جو اس وقت پنجاب ، ہندوستان اور پنجاب ، پاکستان کی تشکیل کرتی ہے۔ جب سے 1980 کی دہائی میں علیحدگی پسند تحریک نے طاقت اکٹھی کی تھی ، خالصتان میں چندی گڑھ ، ہندوستانی پنجاب کے کچھ حصے بشمول پورے شمالی ہندوستان اور ہندوستان کی مغربی ریاستوں کے کچھ حصے شامل ہیں۔ سکھ رہائشیوں کی مالی اور سیاسی حمایت کے ساتھ ، اس تحریک نے ہندوستان کی ریاست پنجاب ، جو سکھ اکثریتی آبادی پر مبنی ہے ، جو 1970 اور 1980 کی دہائی تک جاری رہی ، اور 1980 کی دہائی کے آخر میں اپنے عروج کو پہنچا۔ 1990 کی دہائی میں ، شورش پھیل گئی ، اور متعدد وجوہات کی بناء پر یہ تحریک اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکی ، جس میں علیحدگی پسندوں کے خلاف پولیس کی بھاری کارروائی ، دھاندلی سے لڑائی اور سکھ آبادی سے مایوسی شامل ہیں۔
برصغیر میں جب انگریز سرکار کے خلاف مسلمانوں کی تحریک آزادی چل رہی تھی اور دو قومی نظریہ اپنے عروج پر تھااور پاکستان کا نعرہ بلند ہوا تو اسی زمانے میں سکھ برادری بھی اپنے لئے علیحدہ وطن کا نعرہ لگا چکی تھی تاہم اقلیت میں ہونے کے سبب وہ نعرہ اس طاقت سے نہیں گونج سکا جس طاقت سے گونجنے کی صورت میں سکھ اقلیت کے لئے بھی علیحدہ ریاست قائم ہو سکتی۔ اس وقت بھارتی لیڈر جواہر لعل نہرو نے سکھوں سے وعدہ کیا کہ وہ تحریک آزادی میں بھارت کا ساتھ دیں تو وہ قیام بھارت کے بعد سکھ برادری کو آئینی طور پر اتنی آزادی دے دیں گے جس میں سکھ اپنے آپ کو آزاد قوم تصور کریں۔بعد میں بھارت کی اس وعدہ خلافی اور سکھ کمیونٹی کے حقوق غصب کئے جانے کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھارت سے آزادی کا شعور پیدا ہوا۔ 1947میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کاپور سنگھ نے خالصتان تحریک شروع کی لیکن بھارتی یقین دہانیوں کے سبب یہ تحریک زیادہ نہیں چل سکی۔وعدہ خلافیوں، بھارتی پنجاب کی غلط تقسیم اور سکھوں کو اقلیت ظاہر کرنے کے غلط فیصلوں نے سکھوں میں بھارت کے خلاف غم و غصہ پیدا کیا اور مظاہرے شروع ہوئے اور جب ان مظاہروں میں شدت پیدا ہوئی تو بھارت نے پہلی دفعہ پولیس اور فوج کو ہر مندر صاحب، گولڈن ٹیمپل میں داخل کیا اور سکھ مظاہرین پر آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ آپریشن بلو اسٹار میں سکھ تحریک آزادی خالصتان کے اہم رہنما جرنیل سنگھ بھندرانوال سمیت ہزاروں سکھ حریت پسندوں کی ہلاکت ہوئی اور ان ہلاکتوں کے نتیجے میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو بھی انکے سکھ گارڈوں نے ہلاک کردیا تھا۔
آپریشن بلو اسٹار کے ذریعے بھارت کچھ عرصے کیلئے سکھ علیحدگی پسند تحریک کو کمزور کرانے میں تو کامیاب ہوگیا لیکن اس سے قبل ہی خالصتان نیشنل کونسل کے صدر جگجیت سنگھ چوہان خالصتان کا پرچم، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کر چکے تھے۔ آج بھی خالصتان نیشنل کونسل موجود ہے جس کے ارکان برطانیہ، یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔بھارت میں سکھوں کیلئے الگ ریاست کے مطالبے کیلئے برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے تحت بھارت سے آزادی کے ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹ ڈالنے والے سکھوں کا کہنا تھا کہ مودی کے بھارت میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی لہذا جمہوری اصولوں کے تحت خالصتان کا قیام نا گزیر ہوگیا ہے۔ یہ ریفرنڈم 31اکتوبر 2021کو ہوا۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اسی دن1984 میں سکھ تحریک کودبانے کے لیے آپریشن بلیو سٹار کا حکم دینے پر قتل کر دیا گیا تھا۔
٭٭٭