وجود

... loading ...

وجود

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

منگل 28 اپریل 2026 ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

نیویارک ٹائمز کے کالم نویس بریٹ اسٹیفنز کا کہنا ہے کہ امریکہ کیلئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا سب سے آسان طریقہ ایرانی خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کو پکڑنا شروع کرنا ہے جب وہ بحیرہ عرب میں پہنچ جائیں۔اصول یہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز یا تو سب استعمال کریں یا کوئی بھی نہ کرے۔توانائی یاتو آبنائے ہر مز سے آزادی سے بہے گی یا بالکل نہیں بہے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اپنی ناکہ بندی کے پوائنٹ کو فاکس نیوز کی ماریہ بارٹی رومو سے یوں بیان کیا کہ یہ آپ کا دوست نہیں ہوگا،اس ملک کی طرح جو آپ کا حلیف ہے۔صدر ٹرمپنے ایران کا ٹینکروں کو محفوظ گزرنے دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو اس کا تیل لے کر جا رہے ہوں یا انہوں نے محصول راہداری ادا کیا ہو۔ یہ سب کچھ ہے یا بالکل نہیں ہے۔صدر ٹرمپ اچھا مشورہ قبول کر رہے ہیں۔اس نے ٹرمپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایرانی حکومت کے سامنے بنیادی چوائس رکھنا ہوگا۔ یا توایرانی حکومت بڑی معیشت رکھے یا پھرایٹمی پروگرام رکھے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کوکنٹرول کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ دونوں نہیں رکھ سکتا۔
تائیوان کی اپوزیشن لیڈر کا دورہ چین
تائیوان کی اپوزیشن راہنما چینگ لی وون نے دورہ چین کے دوران تائیوان جزیرہ کے مستقبل پر طویل المدت تنازع کے “پْر امن حل” کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم آبنائے تائیوان کو آبنائے ہرمز بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
پوپ لیو نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ میں آپ سے نہیں ڈرتا
ایک عالمی لیڈر ایسا ہے جو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے محفوظ ہے۔اسے نہ تو یہ پریشانی ہے کہ اس پر کوئی ٹیرف لگائے گا۔ اس کی چھوٹی سی اسٹیٹ ایسی نہیں کہ ٹرمپ کا اس پر دل للچائے۔وینزویلا طرز کا اس کا اغوا انتہائی ناممکن ہے۔روحانی انداز میں ٹرمپ پر نکتہ چینی اس کے کام کا حصہ ہے۔ یہ سیاستدان پوپ لیوxiv یونیورسل چرچ کا سپریم پونٹف ہے۔
سوڈان میں انسانیت سوز مظالم
سوڈان میںایک نوجوان ماںآمنہ عثمان محمد ایک جھاڑی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی جب اس نے دیکھا کہ جنگجو چار افراد کی ایک فیملی کو دھمکی دے رہے ہیں کہ ہم یا تو تمہاری لڑکیوں کی عزت لْوٹیں گے یا پھر تمھاری بیوی کو قتل کر دیں گے ۔اس نے سنا کہ ایک آدمی یہ بات کہہ رہا ہے۔ پھراس نے دیکھا کہ والد آگے بڑھا اور کہا کہ مجھے قتل کردو، میری فیملی کو نہیں۔پھر انہوں نے اسے گولی مار کر قتل کردیا، پھر اس کی بیوی کو بھی۔ اچانک ایک بیٹی نے گن لی،اپنی بہن کو گولی ماری اور پھر اسی سے اپنے آپ کو نشانہ بنایا۔اس طرح دونو ں بہنیں جنگجوئوں کی درندگی سے بچ گئیں۔یاد رہے ،سوڈان میں تین برسوں سے زیادہ عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے۔
ایپل کے ملازم کیلئے،ایک عظیم آئیڈیا کے50 سال
1976 میں ایک ٹین ایجر نے اس کمپنی میں کام کرنا شروع کیا۔ کمپنی میں بڑی تبدیلیاں آئیں لیکن وہ اب بھی وہاں ہے۔1976 میں کرس ایسپی نوسا ہر بدھ کی سہ پہر کو ڈیڑھ میل اپنی موٹر سائیکل پر جاتا۔اسے کھڑی کرکے کام پر جاتا۔وہ محض 14 سال کا تھا۔اسے اب بھی اسکول جانا پڑتا تھا۔ اس کے پاس ڈرائیور لائسنس نہیں تھا۔لیکن اس کے مالک ایپل کمپیوٹر کے پاس ایسے گاہک تھے جواس کے سب سے ابتدائی کمپیوٹر کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ایسپی نوسا اس کے عملی مظاہرے کا ذمہ دار تھا۔اس کے بعد50 برسوں میں ایسپی نوسا کے کام میں بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن وہ اب بھی ایپل کیلئے کام کرتا ہے۔ایسپی نوسا کی عمر اس وقت64 سال ہے۔ وہ آج کے دور میںایسی نادرنسل سے ہے جنہوںنے ایک کمپنی میں کام کرتے ہوئے اپنی تمام زندگی گزار دی ۔ سلیکون ویلی میں اس جیسا آدمی تلاش کرنا مشکل ہے جہاں کمپنیاں راتوں رات قائم اور بندہوتی ہیں اور سافٹ ویئر انجینئر،پروڈکٹ منیجرز اور دوسرے افراد ہر دو تین سال بعد اپنی ملازمتیں بدل لیتے ہیں۔ یکم اپریل کو ایپل کمپنی کو قائم ہوئے50 سال ہو گئے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کمپنی میں آنے والی تبدیلیوں کواتنے قریب سے دیکھا جتنا کہ ایسپی نوسا نے جس کی مدت ملازمت سب سے زیادہ ہے۔ جب اسٹیو جابز اور ایسٹیو ووزنیاک نے 1976 میں ایپل کمپنی قائم کی تو ایسپی نوسا اس فالتو ٹکڑوں پر مبنی کمپنی میں 8 واں ملازم تھا۔ وہ اسٹیو جابز کے بچپن کے گھر میں ہاتھ سے کمپیوٹرز کو اسمبل کرتا تھا۔ایسپی نوسا کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ امکانات اور زیادہ گھبراہٹ کا سال تھا۔ایک بڑے آئیڈیا سے کمپنی کا آغاز کرنا،پھر گاہکوں کا نہ ملنا جس سے کاروبار کا ڈوبنا یا ترقی کو سنبھال نہ سکنا اور کاروبار کا ختم ہو جانا عام معمول تھا۔نصف صدی میں ایپل نے ترقی کی،پھر اوپر سے نیچے آگئی،دوبارہ ترقی کی۔اس وقت ایپل کی قیمت تقریباً4 ٹرلین ڈالر ہے۔ہر سال اس کے منافع میں100بلین ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے اور دنیا بھر میں2.5 بلین ڈالر کے اس کے فونز، ٹیبلیٹس، کمپیوٹرز ، ائیر فونز اور اسمارٹ واچز استعمال میں ہیں۔ ان ڈیوائسزنے کمپیوٹنگ اور تفریح کی صنعتو ں کی تشکیل کی ہے۔ایپل اب عالمی ٹیکنالوجی کمپنی بن گئی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر