وجود

... loading ...

وجود

بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

منگل 21 اپریل 2026 بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

ریاض احمدچودھری

بھارتی سکیورٹی فورسز بدترین ذہنی دباؤ اور مسائل کا شکار ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر، چھتیس گڑھ اور منی پور جیسے شورش زدہ علاقوں میں تعینات اہلکاروں میں خودکشیوں اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع جموں میں ایک بھارتی فوجی نے کیمپ کے اندر خودکشی کر لی ہے۔جموں کے علاقے نگروٹہ میں فوجی کیمپ کے فیملی کوارٹرز کے علاقے میں ڈاگ یونٹ کا فوجی اپنے کمرے کی چھت سے رسی سے لٹکا ہوا پایا گیا۔فوجی کی لاش قانونی کارروائی کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج جموںمنتقل کردی گئی۔بھارتی فوج میں خودکشیوں کا تشویشناک اضافہ، ہر تیسرے دن ایک فوجی زندگی کا خاتمہ کر رہا ہے۔بھارتی فوج میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خطرناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اوسطاً ہر تیسرے دن ایک فوجی اپنی زندگی ختم کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں تعینات فوجیوں میں ذہنی دباؤ اور فرار کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف سائیکولوجیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق، 2014 سے 2024 کے دوران بھارتی فوج میں 983 فوجیوں نے خودکشی کی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجیوں کو ذلت، ہراسانی، ناقص قیادت، خوراک کی کمی اور طویل تعیناتی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا باعث بن رہے ہیں۔بھارتی پارلیمان (راجیہ سبھا) میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ 5 برس میں 819 بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار فوجی اداروں کے اندر موجود گہرے نفسیاتی بحران کو ظاہر کرتے ہیں۔
بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں تعینات فوجی سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ سخت حالات، مقامی آبادی کی مزاحمت، اور طویل محاذی تعیناتی کے باعث ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ فرار کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فوجی اہلکاروں کی جانب سے ذہنی دباؤ اور بدانتظامی سے متعلق شکایات کے باوجود سول انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کا یہ رجحان ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے اب نظرانداز کرنا بھارت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ایک واقعہ بارہ مولا میں پیش آیا جہاں بھارتی فوج کے ایک اہلکار سرکاری بندوق سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔گولی کی آواز سْن کر جب بھارتی فوج کے دیگر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو لائس نائیک بنور لال سرن کو خون میں لت پت پایا۔لاش کو اسپتال لایا گیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد میت راجستھان میں اہلکار کے آبائی گاؤں روانہ کردی گئی۔ خودکشی کی وجہ سامنے نہ آسکی۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ذہنی دباؤ اور پست ہمتی کے باعث بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے واقعات عام ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے والی بھارتی فوج خود اپنی جانیں لینے پر مجبور ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مودی سرکارکی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارتی فوجی اپنی جانیں لینے پرمجبور ہیں،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی خودکشی کی شرع سب سے زیادہ ہے۔ 2007 سے اب تک مقبوضہ وادی میں 586 سے زیادہ بھارتی فوجی خودکشی کر چکے ہیں،ذہنی تناؤ اور موسم کی سختی نہ برداشت کرنے کے باعث بھارتی فوجی یہ انتہاء بزدلانہ قدم اٹھاتے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران سینکڑوں بھارتی فوجیوں نے چھٹی نہ ملنے اور تھکا دینے والی جنگ سے ذہنی دبائو کا شکار ہو کر خودکشی کی۔بھارتی فوج میں ذہنی مریضوں کی تعداد کم و بیش 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے، 15 فیصد کے قریب فوجی ایسے ہیں جو شراب نوشی کے ذریعے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کیمطابق 2010ء سے 2019 تک بھارت کے 1113 فوجیوں نے خودکشیاں کیں جن میں بری فوج کے 895،فضائیہ کے 185اور بحریہ کے 32اہلکار شامل تھے۔ خودکشی کے مسائل کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کا کشمیری خواتین پر تشدد اور ریپ کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے،مودی سرکار بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری خواتین کے ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں 1989 سے 2020 تک 11ہزار 224 کشمیری خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہیں۔2005 کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ بتائی گئی۔بھارتی فوج بھی اب مودی سرکارکی انتہا پسند پالیسیوں کا شکار ہورہی ہے جس سے مودی کی نام نہاد سیکولر شخصیت عالمی سطح پر بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
چھتیس گڑھ کے نائب وزیراعلیٰ نے صوبائی اسمبلی میں بتایا کہ 2019ء کے بعد سے محض چھتیس گڑھ میں 177 بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پے در پے خودکشیاں اور ساتھیوں پر حملے، نہ صرف بھارتی فوج کی ادارہ جاتی ناکامی ظاہر کرتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بنیاد بھی یہی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ ہے۔2019ء سے جون 2025ء تک، چھتیس گڑھ میں 177 بھارتی پولیس و پیراملٹری اہلکار خودکشی کر چکے ہیں۔ ان میں سینٹرل ریزروڈ پولیس فورس کے 26، بارڈر سکیورٹی فورس کے 5، انڈو تبتن بارڈر پولیس کے 3 و دیگر دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھارتی فوج میں ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اسی مدت میں 18 اہلکار ساتھیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے، جنہوں نے شدید ذہنی دباؤ کے تحت ساتھی اہلکاروں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ صرف جرائم نہیں بلکہ ان اہلکاروں کی ذہنی صحت کی تباہ کن صورتحال کا عکس ہیں۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر