... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
ژاں ژاک روسو( jean-jacques rousseau)کہتا ہے ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے”۔ یہ قول بظاہر آزادی اور غلامی کے درمیان ایک سادہ تضاد پیش کرتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسانی معاشرے کے سب سے گہرے فریب کو بے نقاب کرتا ہے۔ روسو یہاں جسمانی قید کی بات نہیں کرتا بلکہ اس فکری اور سماجی غلامی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسان خود اپنے گرد بُن لیتا ہے یا جس میں اسے شعوری طور پر قید کر دیا جاتا ہے۔ انسان پیدائش کے وقت آزاد شعور کا حامل ہوتا ہے، مگر جیسے جیسے وہ معاشرے، سیاست، روایت اور بیانیے کے دائرے میں داخل ہوتا ہے، اس کی سوچ آہستہ آہستہ محدود ہوتی جاتی ہے۔ وہ وہی سچ ماننے لگتا ہے جو اسے بتایا جاتا ہے، وہی سوچتا ہے جو اسے سکھایا جاتا ہے، اور یوں اس کی آزادی ایک وہم میں بدل جاتی ہے۔ روسو کا یہ جملہ دراصل اس بات کی نشاندہی ہے کہ اصل غلامی جسم کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے اور جب ذہن قید ہو جائے تو انسان خود اپنی زنجیروں کو بھی آزادی سمجھنے لگتا ہے۔”To be, or not to be”یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ انسان کی پوری داخلی کائنات کا خلاصہ ہے، جو Hamletمیں William Shakespeareکے قلم سے Hamletکی زبان سے ادا ہوتا ہے، مگر اس کی گونج ہر دور کے انسان کے اندر سنائی دیتی ہے۔ یہ سوال زندگی اور موت کا نہیں، بلکہ شعور اور وجود کے بوجھ کا سوال ہے ایک ایسا لمحہ جہاں انسان خود اپنے ہی وجود کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔انسانی تاریخ دراصل اسی سوال کی مختلف شکلوں کی داستان ہے۔ کبھی یہ سوال جنگوں کے میدان میں ابھرتا ہے، کبھی خاموش کمروں میں، کبھی کسی مظلوم کے دل میں، اور کبھی کسی مفکر کے ذہن میں۔
انسان ہمیشہ جینے اور سہنے کے درمیان معلق رہا ہے۔ وہ دکھ، ناانصافی، محرومی اور بے یقینی کے بوجھ تلے دبا ہوا بھی جیتا ہے، اور پھر بھی جیتا رہتا ہے
کیونکہ نہ جینے کا فیصلہ بھی اتنا ہی پر اسرار اور خوفناک ہے جتنا جینا۔ہیملٹ کا یہ سوال دراصل ہر اس انسان کا سوال ہے جو شعور کی آنکھ کھولتا ہے۔ وہ
دیکھتا ہے کہ زندگی صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ایک مسلسل کشمکش ہے، ایک ایسا بوجھ جسے اٹھانا بھی مشکل ہے اور پھینک دینا بھی۔ مگر انسان کو روکتا کیا
ہے؟ صرف درد نہیں۔۔بلکہ نامعلوم کا خوف۔ موت ایک ایسی سرزمین ہے جس کے بارے میں کوئی یقینی علم نہیں، اور یہی لاعلمی انسان کو اس اذیت سے باندھے رکھتی ہے جسے وہ جانتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی سب سے بڑی کمزوری اور سب سے بڑی طاقت ایک ہو جاتی ہے: سوچ۔ ہیملیٹ Hamletکی طرح انسان بھی اکثر اپنے ہی خیالات میں الجھ جاتا ہے۔ وہ ہر پہلو، ہر انجام، ہر اخلاقی پہلو کا جائزہ لیتا ہے، یہاں تک کہ عمل کی قوت ماند پڑ جاتی ہے۔ یوں شعور، جو رہنمائی کے لیے تھا، ایک بوجھ بن جاتا ہے۔مگر اسی کشمکش میں انسان کی عظمت بھی چھپی ہے۔ یہی سوال، یہی تذبذب، یہی بے یقینی۔۔یہی انسان کو محض ایک جاندار سے بڑھا کر ایک باشعور ہستی بناتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہیں جہاں انسان اپنے وجود کا مطلب تلاش کرتا ہے، جہاں وہ صرف جیتا نہیں بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیوں جیتا ہے۔
اگر تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید وہ یہی ہوگا: انسان ہمیشہ ”ہونے” اور”نہ ہونے” کے درمیان معلق رہا ہے۔ مگر اس معلق حالت میں ہی اس کی تخلیق، اس کی فکر، اس کا ادب اور اس کی پوری تہذیب جنم لیتی ہے۔آخرکار،”To be, or not to be”کسی انجام کا سوال نہیںیہ ایک مسلسل سفر کا آغاز ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ہونا آسان نہیں، مگر شاید یہی مشکل ہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔”To be, or not to be”یہ سوال جب Hamlet کے ہونٹوں سے ادا ہوا تو وہ ایک فرد کی داخلی کشمکش تھی، مگر اگر اسی سوال کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک پوری قوم کی اجتماعی بے چینی بن جاتا ہے۔ یہ صرف جینے یا نہ جینے کا سوال نہیں رہا، بلکہ یہ بننے یا بکھرنے، اٹھنے یا گرتے رہنے، شعور پانے یا ہمیشہ فریب میں جیتے رہنے کا سوال بن چکا ہے۔پاکستان کی تاریخ دراصل ایک مسلسل ”ہونے” کی کوشش کی تاریخ ہے ایک ایسا خواب جو Muhammad Ali Jinnah کی قیادت میں ایک واضح تصور کے ساتھ شروع ہوا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس تصور پر دھند چھاتی گئی۔ ریاست وجود میں تو آ گئی، مگر وہ سوال جو ہیملٹ نے اپنے وجود کے بارے میں اٹھایا تھا، وہی سوال یہاں ایک قوم کے وجود پر منڈلانے لگا: کیا ہم واقعی”ہیں”یا صرف ایک نام، ایک جغرافیہ، ایک غیر واضح شناخت؟Allama Iqbalنے کبھی کہا تھا:”افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ” مگر المیہ یہ ہے کہ یہاں فرد کو کبھی مکمل شعور نہیں دیا گیا۔ ایک ایسا نظام پروان چڑھا جس میں انسان کو سوچنے سے زیادہ ماننے کی تربیت دی گئی۔ یوں ایک پوری قوم آہستہ آہستہ اس کیفیت میں داخل ہو گئی جسے Noam Chomsky یوں بیان کرتے ہیں:”لوگ نہ صرف لاعلم ہوتے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لاعلم ہیں”۔
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اس داخلی کشمکش کی سب سے واضح تصویر ہے۔ یہاں سیاست محض اقتدار کی جنگ بن چکی ہے ایک ایسی جنگ جس میں اصول، نظریہ اور عوام سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں وہی سوال گونجتا ہے:”رہنا ہے یا جانا ہے”؟مگر یہ سوال ریاست کے مستقبل کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی بقا کے لیے ہوتا ہے۔ یوں”ہونا”ایک اجتماعی مقصد کے بجائے انفرادی مفاد تک محدود ہو جاتا ہے۔ George Orwell نے 1984 میں لکھا تھا:”اگر تم مستقبل کی تصویر دیکھنا چاہتے ہو تو ایک بوٹ کو انسان کے چہرے پر ہمیشہ کے لیے رکھتے ہوئے دیکھو”۔یہ جملہ محض ایک ناول کی تخیل نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر اس معاشرے میں جھلکتی ہے جہاں طاقت احتساب سے آزاد ہو جائے۔ پاکستان میں بھی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان کشمکش نے عوام کو ایک ایسی حالت میں رکھا ہے جہاں وہ نہ مکمل طور پر آزاد ہیں، نہ مکمل طور پر محکوم بلکہ ایک مبہم درمیانی کیفیت میں معلق ہیں۔سماجی سطح پر یہ بحران اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک عام انسان روزمرہ کی جدوجہد میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ وہ اپنے وجود کے سوالات اٹھانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتا۔ مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی یہ سب وہ ”دکھ” ہیں جن کا ذکر ہیملٹ کرتا ہے، مگر یہاں مسئلہ صرف دکھ سہنے کا نہیں، بلکہ اس دکھ کو معمول سمجھ لینے کا ہے۔ انسان اس حد تک عادی ہو چکا ہے کہ اسے اپنی زنجیروں کا احساس بھی نہیں رہتا۔Fyodor Dostoevskyنے کہا تھا:”انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے”۔پاکستان کا معاشرہ بھی اسی عادت کا شکار ہو چکا ہے۔۔یہاں ناانصافی پر حیرت نہیں ہوتی، بلکہ انصاف پر ہوتی ہے۔ یہاں سچ سن کر سکون نہیں ملتا، بلکہ بے چینی ہوتی ہے، کیونکہ سچ ایک غیر مانوس چیز بن چکا ہے۔اس سب کے درمیان سب سے خطرناک چیز وہی ہے جس کا خوف ہیملٹ کو تھا: نامعلوم کا خوف۔ تبدیلی کا خوف۔ لوگ جانتے ہیں کہ موجودہ حالت خراب ہے، مگر وہ اس سے نکلنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں، کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔ یوں ایک پوری قوم ”ہونے ”اور”نہ ہونے” کے درمیان معلق رہتی ہے نہ مکمل طور پر زندہ، نہ مکمل طور پر مردہ۔مگر تاریخ کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ ہر اندھیرے میں کچھ چراغ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سوال کرتے ہیں، جو سوچتے ہیں، جو اس جمود کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس سوال کو محض ایک المیہ نہیں بلکہ ایک امکان بنا سکتے ہیں۔آخرکار، پاکستان کا مسئلہ صرف سیاسی یا معاشی نہیںیہ ایک وجودی مسئلہ ہے۔ یہ اس سوال کا مسئلہ ہے کہ ہم کیا ہیں، کیوں ہیں، اور کیا بننا چاہتے ہیں۔ جب تک یہ سوال اجتماعی شعور کا حصہ نہیں بنتا، تب تک ہر تبدیلی سطحی رہے گی۔”To be, or not to be”یہ سوال پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی حقیقی ہے جتنا ہیملٹ کے لیے تھا۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہاں فیصلہ ایک فرد نے نہیں، بلکہ ایک پوری قوم نے کرنا ہے۔ اور شاید اسی فیصلے میں اس ملک کی اصل تقدیر چھپی ہوئی ہے۔
٭٭٭