... loading ...
محمد آصف
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں اور عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے دن قریب آ رہے ہیں۔ اگر
اس وقفے میں توسیع نہ ہوئی یا باقاعدہ معاہدہ طے نہ پایا تو خطے میں دوبارہ شدید جنگ چھڑنے کا خدشہ موجود ہے ۔ اس کشیدہ ماحول میں
پاکستان نے بھی سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کیا ہے ۔ پاکستان کی عسکری قیادت تہران میں موجود ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان
کسی ممکنہ مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ پاکستان کی یہ کوشش اس اصول پر مبنی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ پائیدار امن ہی
ترقی اور استحکام کی ضمانت بنتا ہے ۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک پیچیدہ سیاسی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ وہ بظاہر
جنگ بندی کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ طویل جنگ امریکی معیشت، عوامی رائے اور آئندہ انتخابات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے ۔ تاہم
انہیں اسرائیل کے دباؤ اور اندرونی سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے ۔ وہ عوامی سطح پر ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے ہیں اور کامیابی کے دعوے کرتے ہیں، مگر پسِ پردہ جنگ سے باعزت انخلا کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑی ترجیح تیل کی قیمتوں میں کمی اور داخلی سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے تاکہ وہ خود کو ایک مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کر سکیں۔
ایران کی حکمتِ عملی نسبتاً صبر آزما اور طویل المدتی معلوم ہوتی ہے ۔ تہران نے بعض معاملات میں لچک دکھائی ہے ، خصوصاً جوہری
پروگرام کے حوالے سے محدود نگرانی یا نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے ، مگر وہ مکمل کنٹرول چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ایران کی ایک اہم شرط لبنان میں
جنگ بندی ہے ۔ اس کا مؤقف ہے کہ اگر جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو یکطرفہ جنگ بندی ایران کے لیے نقصان دہ
ثابت ہوگی اور اس کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ایران کے نزدیک خطے میں اس کے اتحادیوں کا تحفظ بھی اس معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ۔
لبنان کی صورتِ حال اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے ۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور جنوبی لبنان میں بمباری
کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوجی پیش قدمی کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، تاہم شہری آبادیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ایران اس تناظر میں لبنان کو نظر انداز کر کے کوئی معاہدہ قبول کرنے کو تیار نہیں، کیونکہ اس کے خیال میں ایسا کرنا خطے میں
طاقت کے توازن کو یکطرفہ طور پر اسرائیل کے حق میں کر دے گا۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب بحری ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ یہ اقدام عالمی سطح پر ایکٹ آف وار
کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خلیج فارس سے گزرنے والی توانائی کی ترسیل عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے ۔ اس ناکہ بندی کے نتیجے
میں تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے ، جس کا براہ راست اثر عالمی منڈیوں پر پڑا ہے ۔توانائی کے عالمی ماہر جوزف سیکٹر کے مطابق
یہ بحران محض جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی تیل مارکیٹ پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا ایک خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ اوپیک ممالک کے پاس وافر اضافی ذخائر موجود ہیں، مگر حقیقت میں بڑی مقدار پابندیوں کے باعث سمندری ٹینکروں میں پھنسی ہوئی تھی۔ جنگ سے پہلے تیل کی قیمتیں تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کے آس پاس تھیں، مگر اب یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو قیمتیں 120 ڈالر یا اس سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔سیکٹر کے مطابق عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ طویل غیر یقینی صورتحال ہے ۔ اگر جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ خام تیل کی قیمت میں دو سے تین ڈالر کا اضافہ ممکن ہے ۔ اس کے
اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، ہوابازی اور صنعتی پیداوار سب متاثر ہوں گے ۔ متوسط طبقہ سب سے زیادہ دباؤ میں آئے گا کیونکہ آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوگا۔
امریکی میڈیا، خصوصاً سی این این کے تجزیوں میں بھی اس بحران کو صدر ٹرمپ کی جارحانہ حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ رپورٹوں کے مطابق بحران کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں اچانک آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور امریکی عوام کو مہنگے پیٹرول کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ میں رائے عامہ کا ایک طبقہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ آیا یہ جنگ واقعی امریکی مفاد میں ہے یا نہیں۔ بعض سرویز کے مطابق اسرائیل کی حمایت میں کمی بھی دیکھی جا رہی ہے ۔
عالمی منظرنامے میں اس بحران کے مضمرات مزید پیچیدہ ہیں۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک توانائی کی فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو ایشیا اور یورپ کو شدید معاشی دھچکا لگ سکتا ہے ۔ چین کی توانائی ضروریات بیرونی سپلائی پر منحصر ہیں، اس لیے کسی بھی رکاوٹ سے اس کی صنعتی رفتار متاثر ہوگی۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکہ توانائی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے عالمی طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہے ، مگر اس حکمتِ عملی کے خطرات بھی کم نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بحران نے توانائی پالیسیوں پر بھی اثر ڈالا ہے ۔ کئی ممالک جو فوسل فیول سے دور جانے کی پالیسی پر کاربند تھے ، اب دوبارہ کوئلے اور جوہری توانائی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ جرمنی اور جاپان میں توانائی کے متبادل ذرائع پر نظرِ ثانی ہو رہی ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شمسی یا ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کا دور ختم ہو گیا، بلکہ دنیا اب کل توانائی کے تصور کو اپنانے پر مجبور ہے جہاں تیل، گیس، نیوکلیئر اور قابلِ تجدید ذرائع سب کی ضرورت تسلیم کی جا رہی ہے ۔
ایران کی عسکری قیادت کے بیانات بھی اس کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر جھکنے والے نہیں اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو وہ بھرپور جواب دیں گے ۔ ایسے بیانات خطے میں مزید بے چینی کو جنم دیتے ہیں اور سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھا دیتے ہیں۔موجودہ حالات میں امریکہ کو اسٹریٹجک سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اگرچہ وہ عسکری برتری رکھتا ہے ، مگر
طویل جنگ سیاسی اور معاشی طور پر نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔ صدر ٹرمپ آئندہ انتخابات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ سابقہ انتظامیہ سے بہتر معاہدہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ اسے سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اس تناظر میں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا مقصدیہی ہے کہ کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ جنگ کا براہ راست اثر اس کی معیشت اور سلامتی پر بھی پڑتا ہے ۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی مہنگائی اور سپلائی چین کی رکاوٹیں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
نتیجتاً یہ بحران محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سیاست اور طاقت کے توازن کی نئی صف بندی کا پیش خیمہ بن چکا ہے ۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے معاشی طوفان کی لپیٹ میں آ سکتی ہے ۔ ایسے میں دانشمندانہ قیادت، سنجیدہ مذاکرات اورباہمی احترام پر مبنی حل ہی وہ راستہ ہے جو اس آگ کو بجھا سکتا ہے ۔ جنگ وقتی برتری دے سکتی ہے ، مگر پائیدار امن ہی اصل کامیابی ہے ۔
٭٭٭