وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

منگل 14 اپریل 2026 بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

ریاض احمدچودھری

بھارت 1947 میں قیام کے سے جنوبی ایشیاء کے خطے کا امن تباہ کرنے پر تلا ہو اہے۔ بھارت کاجنگی جنون اور توسیع پسندانہ عزائم سے علاقائی امن واستحکام کوشدیدخطرہ لاحق ہے۔ بھارت کی تخریبی سرگرمیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں قیام امن مسلسل ایک خواب بنا ہو اہے۔2014میں بھارت میں نریندرمودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے علاقائی امن کو لاحق خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے کیونکہ بھارت کی فالس فلیگ آپریشنز پہلے سے غیر مستحکم علاقائی صورتحال کو مزید ابتر بنارہے ہیں۔بی جے پی کی پاکستان مخالف اور کشمیر مخالف جارحانہ بیان بازی خطے میں جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔
مودی حکومت کے خاص طورپر پاکستان کے خلاف انتہائی غیر سنجیدہ اقدامات نے جنوبی ایشیا کے خطے کو ایک با ر پھر جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے۔بھارت کئی دہائیوں سے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت کو علاقائی امن کی کوئی فکر نہیں ہے۔پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اورعالمی برادری کو بارہا آگاہ کر چکا ہے بھارت جنوبی ایشیا کا امن تباہ کرنے پر تلا ہو اہے۔اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری خطے میں امن کیلئے بھارتی توسیع پسندانہ اورجارحانہ عزائم کانوٹس لے کیونکہ کشمیر اور خطے میں دیرپا امن کاانحصارکشمیریوں کی خواہشات کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل میں ہے۔
بھارت میں انتخابات سے قبل ایک بار پھر پاکستان پر حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بیانات جاری ہو رہے ہیں، لیکن بھارت پتہ نہیں کیوں بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے پاکستانی فوج کا مورال بہت بلند ہے۔ ازلی دشمن بھارت ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے، لیکن اس کے سیاسی اور فوجی رہنما اپنے آپ اور اپنے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے اشتعال انگیز بیانات داغ رہے ہیں۔ بھارت کی دفاعی اور عسکری قیادت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔بھارت کے وزیرِ دفاع اور فوجی سربراہان کے بیانات نئی دہلی کی خطرناک ذہنیت، ہندوتوا پر مبنی تسلط، جارحیت کے نظریے اور جنگی جنون کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارتی جرنیل مذاکرات اور تعاون کو فروغ دینے کے بجائے مودی حکومت کے انتہا پسندانہ بیانیے کو بڑھا رہے ہیں، جنگ کے شعلے بھڑکا رہے ہیں اور علاقائی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ اشتعال انگیزیاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی داخلی ناکامیوں اور عوامی تحریک سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت کے ہتھکنڈوں کا حصہ ہیں۔ لیکن بھارت کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ مردِ آہن فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی سپہ بھارت کی کسی بھی شرانگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ بھارت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور علاقائی و عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے پر جواب دہ بنانا چاہیے۔بھارت کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جدید اورجارحانہ جنگی حکمت عملی کی وکالت کرتے ہوئے خطے میں روایتی تنازعات سے نمٹنے کے لیے نام نہادسمارٹ وار کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے خطے میں مزید فوجی تعیناتی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف انیل چوہان نے کہا ہے کہ ملک کی متنازعہ سرحدوں کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی کو زمینی، فضائی اور سمندر میں لڑی جانے والی روایتی لڑائیوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی لحاظ سے جدید جنگیں لڑنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ سائبر، الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم اور خلاء جیسے جدید جنگی میدانوں کو غیر متوقع اور تزویراتی عدام توازن پیدا کرنے والے ذرائع قرار دیا۔یہ بیان بنگلورو میں بھارت کی وزارت دفاع کے زیر اہتمام رن سمواد کے زیر عنوان دو روزہ اجلاس کے دوران سامنے آیا جہاں سینئر فوجی کمانڈروں نے مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے انکشاف کیاہے کہ جدید ٹیکنالوجیز کی شمولیت سے فوج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔انہوں نے تصوراتی منصوبہ بندی، ساختی تبدیلیوں اور نظر آنے والے آپریشنل نتائج پر مشتمل تین مرحلے کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کیا۔ ڈرون، سگنلز اور سائبر آپریشنز کے لیے خصوصی یونٹ پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔دفاعی ماہرین ان پیش رفتوںکو بھارت کے ملٹی ڈومین آپریشنز (ایم ڈی او) کی طرف پیش قدمی کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے تحت زمین، ہوا، سمندر، سائبر اور خلا ئی صلاحیتوں کو مربوط کیا جاتا ہے۔بھارتی فوج 2024 سے جنگی مشقیں کر رہی ہے، جبکہ اگست 2025 میں متعارف کرایا گیا ایک مشترکہ نظریہ تینوں افواج کے لیے ایک متحد آپریشنل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور فوجی تیاریاں خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت ان خطوں میںبھارت کی جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی عکاسی کرتی ہے جہاں دیرینہ تنازعات موجود ہیں۔ا سمارٹ وارز اورتکنیکی غلبے پر زور سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔رن سموادمیں بحث ومباحثے سے جس میں بھارتی افواج کو پیچیدہ اور کثیر الجہتی تنازعات کے لیے تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، روایتی فوجی حکمت عملیوں کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک جنگی نظریے کی طرف منتقلی کا اشارہ ملتا ہے۔
٭٭٭

 


متعلقہ خبریں


مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر